ایران اور عمان میں معاہدہ اہم ہے، توجہ اسی پر ہے: پاکستان

پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں عمان کے کردار کو سراہتے ہوئے جمعرات کو کہا ہے کہ اسلام آباد کی توجہ موجودہ کشیدگی کے بجائے اس کے سیاسی حل پر مرکوز ہے اور کسی بھی مفاہمتی پیش رفت کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ ’اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کسی معاہدے پر اتفاق ہو جاتا ہے اور اس پر عمل درآمد شروع ہو جاتا ہے تو خطے میں کشیدگی کی مختلف صورتوں، جن میں بحری راستوں سے متعلق مسائل بھی شامل ہیں، میں کمی آنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔‘

رپورٹس کے مطابق ایران اور عمان ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ جہاز رانی کے لیے کھولا جا سکتا ہے اور اس سے 28 فروری سے جاری امریکہ اور ایران کے جنگ کے خاتمے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

مجوزہ معاہدے کے مطابق بحری جہاز خلیج فارس میں داخل ہوتے وقت ایران کے زیر کنٹرول راستہ استعمال کریں گے، جبکہ باہر نکلتے وقت عمان کے زیرکنٹرول راستے سے گزریں گے۔ تاہم اس معاہدے کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ امریکہ ایران کی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرے۔

ٹرمپ انتظامیہ ماضی میں ایسے کسی معاہدے کی مخالفت کرتی رہی ہے جس سے ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل ہو۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بریفنگ کے بعد ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ جب کوئی معاہدہ طے پا جائے گا اور اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا تو بحران کی یہ علامات، خواہ وہ ناکہ بندی ہو یا بحری آمد و رفت پر حادثاتی یا دانستہ حملے، فطری طور پر ختم ہو جائیں گی۔ معاہدہ ہی اہم ہے اور ہماری توجہ اسی پر مرکوز ہے۔‘

طاہر اندرابی نے مزید کہا: ’ہماری توجہ بحران یا بحران کی شرائط پر نہیں بلکہ تصفیے (Settlement) پر زیادہ مرکوز ہے۔ ناکہ بندی اس بحران کا صرف ایک پہلو ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اسی تناظر میں ہم اپنے برادر ممالک، بالخصوص عمان کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ تنازعے کے دونوں فریق یعنی امریکہ اور ایران بالآخر اس معاہدے پر اتفاق رائے پیدا کر کے اسے حتمی شکل دیں گے، لہذا اس حوالے سے ہونے والے کسی بھی معاہدے کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، نہ صرف ثالثوں اور سہولت کاروں کے نقطہ نظر سے بلکہ خود متعلقہ فریقوں کے نقطہ نظر سے بھی کرنا چاہیے۔‘

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور عمان کے مابین مجوزہ معاہدے میں ایران کے ان مطالبات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے انتظام سے متعلق تھے اور جنہیں جنگ سے پہلے قبول نہیں کیا گیا تھا۔

ان رپورٹس کے مطابق عمان اور ایران کے درمیان ابتدائی طور پر 60 روز کے لیے ایک عبوری انتظام پر اتفاق ہوا ہے، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ اس دوران خلیج فارس میں داخل ہونے والے جہاز ایرانی سمندری حدود کے شمالی راستے سے گزریں گے جبکہ بحیرہ عرب کی جانب جانے والی بحری ٹریفک ایران کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد عمان کی جنوبی گزرگاہ استعمال کرے گی۔ اس عبوری مدت کے دوران جہازوں سے کسی قسم کا ٹول ٹیکس یا فیس وصول نہیں کی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ آئندہ 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز کی درمیانی بحری گزرگاہ کو بارودی سرنگوں سے پاک کیا جائے گا، جس کے بعد اسے مستقل انتظامات کے تحت دونوں سمتوں میں بحری آمد و رفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان

بریفنگ کے دوران ترجمان وزارت خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو پاکستان کے دورے کی دعوت کی بھی تصدیق کی ہے۔

ترجمان وزارت خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کو پاکستان آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ’نائب وزیراعظم (اسحاق ڈار) اپنی سفارتی حیثیت میں سپیکر کو بھی دعوت دینے کے مکمل مجاز ہیں۔ میرا خیال ہے کہ دعوت وزیر خارجہ کو دی گئی تھی اور غالباً سپیکر کو بھی یہ دعوت دی گئی، تاہم میں اس کی تفصیلات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوں۔ اس کی تصدیق قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ سے کی جا سکتی ہے۔ بہرحال نائب وزیراعظم اپنی سفارتی حیثیت میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر کو بھی دعوت دینے کے مکمل مجاز ہیں۔‘

میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو جاری سفارتی کوششوں کے سلسلے میں مشاورت کے لیے 10 اگست کو اسلام آباد کے دورے کی دعوت دی گئی، تاہم تہران نے ابھی تک ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام کو یہ دعوت پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی جانب سے دی گئی۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تین اگست کو اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران کے خلاف متوقع حملے منسوخ کر دیے ہیں اور اس بات کی تصدیق کی تھی کہ تہران کے ساتھ مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *