پاکستانی قیادت نے ’یوم استحصال کشمیر‘ کے موقع پر انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے ’حق خودارادیت‘ کی حمایت کا عائدہ کیا ہے۔
پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے بدھ کے روز یوم استحصال کشمیر کے موقع پر انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے ’حق خودارادیت‘ کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا عزم دہرایا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ’مسئلہ کشمیر‘ کے منصفانہ حل پر زور دیا ہے۔
2019 میں دوسری بار وزیراعظم بننے کے فوراً بعد نریندر مودی کا پہلا کام کشمیر کی خصوصی حیثیت والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ہٹانا تھا جو ان کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے منشور کے تین اہم ایجنڈوں میں سے ایک رہا تھا۔
یوم استحصال کشمیر کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں صدر آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور مسلح افواج کی قیادت نے پانچ اگست 2019 کے انڈیا کے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے یکطرفہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ تو جموں و کشمیر کی ’متنازع حیثیت تبدیل ہو سکتی ہے اور نہ ہی کشمیری عوام کے عزم کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔‘
As India’s unilateral and illegal actions of 5 August 2019 in Indian Illegally Occupied Jammu and Kashmir (IIOJK) complete seven years, no amount of rhetoric can alter the internationally recognized disputed status of Jammu and Kashmir or deny the rights of its people enshrined…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) August 5, 2026
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان ہر عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتا رہے گا اور عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لے۔
انہوں نے کشمیری عوام سے مخاطب ہو کر کہا: ’میرے کشمیری بھائیو اور بہنو! پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے، آپ اکیلے نہیں ہیں۔‘
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کے اقدامات کو سات سال گزرنے کے باوجود کشمیری عوام کی جائز امنگیں آج بھی مضبوط ہیں، جبکہ ’مقبوضہ علاقے میں شہری آزادیوں اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں بدستور جاری ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سب سے بڑا حل طلب تنازع ہے اور دیرپا امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب اسے کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔
Video Message from the Deputy Prime Minister and Foreign Minister of the Islamic Republic of Pakistan, Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50, on ‘Youm-e-Istehsal’ (5 August 2026) pic.twitter.com/Osx7G4KXrf
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 5, 2026
وزیرِ اعظم نے کہا کہ انڈیا کے اقدامات سے جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت تبدیل نہیں ہوئی اور ’کوئی بھی بیانیہ‘ اس کی قانونی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے انڈیا پر الزام عائد کیا کہ وہ طویل فوجی موجودگی اور سخت قوانین کے ذریعے علاقے کی مسلم اکثریتی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے اور کشمیری شناخت کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ترقی کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا متبادل نہیں ہو سکتے۔
مسلح افواج کی قیادت، جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو شامل ہیں، نے بھی کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق افواجِ پاکستان کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی حمایت کے لیے پُرعزم ہیں اور انہوں نے آئی آئی او جے کے میں جاری فوجی محاصرہ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کا انحصار مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل سے جڑا ہوا ہے۔
دوسری جانب آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) نے پانچ اگست کو ’یوم سیاہ‘ منانے کی اپیل کرتے ہوئے کشمیریوں سے کہا ہے کہ وہ عالمی برادری کو انڈیا کے اقدامات کے خلاف اپنے مؤقف سے آگاہ کریں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ دن مقبوضہ کشمیر میں جاری جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے لیے منایا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس صورت حال کا نوٹس لے اور مسئلے کے پرامن حل کے لیے کردار ادا کرے۔
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں کہا کہ انڈیا کا پانچ اگست 2019 کا اقدام غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، جس سے کشمیری عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور مسئلہ کشمیر کا حل خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔
