پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اتوار کو خبردار کیا کہ احتجاج اور دھرنوں کے نتیجے میں معیشت کو روزانہ تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہوسکتا ہے۔
ان کا یہ انتباہ ایک ریکارڈ شدہ ٹی وی پیغام میں سامنے آیا، جو پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مجوزہ احتجاجی مارچ سے قبل جاری کیا گیا۔ ایک تحقیقی مطالعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے حکومت کا عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اس مارچ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے گی۔
پی ٹی آئی نے اپنے بانی عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اسلام آباد کی طرف مارچ کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب جماعتِ اسلامی نے بھی آج اسلام آباد کی جانب اپنا مارچ شروع کر رہی ہے تاکہ حکومت پر پٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اپنے پیغام میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث پیدا ہونے والی معاشی مشکلات کے تناظر میں احتجاج اور دھرنے ’خود اپنے آپ کو دی گئی تکلیف‘ کے مترادف ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں، ہڑتالوں، سڑکوں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں تعطل سے ملکی معیشت کو یومیہ تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہوسکتا ہے جبکہ اس کے اثرات ٹیکس ریونیو، برآمدات، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کی رفتار پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام کے لیے مشکل فیصلوں اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ملک نے ایک اہم سفر طے کیا ہے اور اب معیشت کو استحکام سے پائیدار ترقی کی طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منصوبہ بندی کمیشن کے اکنامک ونگ کے ساتھ مل کر ماضی کے تجربات اور موجودہ معاشی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے معاشی سرگرمیوں میں تعطل کے اثرات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے مطابق مختلف شعبوں میں مجموعی طور پر تقریباً 120 ارب روپے یومیہ نقصان کا اندیشہ ہے۔
