جب یورپی سامراج نے ایشیا اور افریقہ میں اپنی کالونیز قائم کیں تو خود کو مہذب اور کالونیز کے عوام کو غیر مہذب کہہ کر اپنے غاصبانہ قبضے کو جائز قرار دیا۔ یورپ کے اکثر دانشوروں نے اس سامراج کی حمایت کرتے ہوئے اسے جائز قرار دیا۔
یورپ کی ترقی مرحلہ وار ہوئی۔ اس کے مہم جوؤں اور تاجروں نے بری اور بحری راستوں کو دریافت کیا۔ صنعتی انقلاب نے سرمایہ داری کی تشکیل کی۔ ایشیا اور افریقہ کے ملکوں پر قبضہ کر کے کالونیز میں اپنی پیداوار کے لیے منڈیوں کو تلاش کیا اور وہاں سے خام مال لا کر اس سے اپنی فیکٹریوں میں پیداواری اضافے کیے۔
یورپی ملکوں کی آپس کی جنگوں نے مہلک ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافہ کیا اور اپنی جنگی صلاحیت میں اضافے کیے۔ سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کو مستحکم کیا۔ ان عوامل نے ان میں سفید نسل کی برتری کو پیدا کیا اور ایک سامراجی طاقت بن کر اس نے ایشیا، افریقہ کے ملکوں کو مفتوح کیا۔
اس موضوع پر JOHN M. HOBSON کی کتاب ’The Eurocentric Conception of World Politics‘ قابل ذکر ہے۔ اس نے یورپی سامراج کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک سرپرست اور دوسرا مخالف سامراج۔ سرپرست سامراج کے حامی مفکروں اور دانشوروں نے یہ دلیل دی ہے کہ کیونکہ یورپی تہذیب برتر اور افضل ہے اس لیے یہ اس کا فرض ہے کہ وہ ایشیا اور افریقہ کے ملکوں کی جو غیر مذہب اور وحشی ہیں ان کی تربیت کرے۔ انہیں مغربی تہذیب سے روشناس کروائے تاکہ وہ فرسودہ روایات سے نکل کر جدیدیت کو قبول کریں۔
اس نقطہ نظر کے حامیوں نے ایشیا اور افریقہ کی تہذیبوں، جنہوں نے تاریخی تبدیلی میں حصہ لیا ہے، کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ ان کے نزدیک ان غیر مہذب اقوام کی ترقی اسی میں ہے کہ وہ خود کو یورپی تہذیب میں ضم کر دیں۔
کیپلنگ کے الفاظ میں، یہ سامراج کا فرض ہے کہ وہ ایشیا اور افریقہ کے ملکوں کو اپنے ساتھ ملائے۔ اگر اس عمل میں اسے طاقت بھی استعمال کرنا پڑے تو اس کے ذریعے لوگوں پر سختی کرے تاکہ وہ تعلیم اور ریاست کے ذریعے اپنی وحشی زندگی کو تبدیل کریں اور شائستگی کو اختیار کریں۔
لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ یورپی سامراج نے اپنی کالونیز میں جو مظالم کیے۔ اپنے خلاف بغاوتوں کو کچلا اور کالونیز کے مال و دولت کی لوٹ کھسوٹ کی۔ یہ اس نظریے کے خلاف ہے، جس میں وہ سامراج کے احسانات بتاتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہندوستان میں 1857 کی جنگ آزادی میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے باغیوں کو توپ سے باندھ کر ان کے جسموں کو فضا میں بکھیر دیا۔ کینیا میں ماؤں ماؤں تحریک کے کارکنوں کو بغاوت کے جرم میں پھانسی دیتے رہے۔ یہاں تک کہ آئرلینڈ جو سفید فاموں کا ملک ہے، الزبتھ اول کے عہد میں اسے برطانوی کالونی بنا لیا گیا۔ اس کی زرعی زمینیں انگریز امرا میں تقسیم کر دی گئیں۔ اس کی قومی زبان کو تعلیمی نصاب سے خارج کر دیا گیا۔
جب 45 -1844 میں آلوؤں کی فصل خراب ہوئی تو برطانوی حکومت نے آئرلینڈ کے لوگوں کی کوئی مدد نہیں کی جس سے ہزاروں لوگ بھوک اور فاقے سے مر گئے اور کئی ہزار لوگوں نے امریکہ نقل مکانی کر کے پناہ لی جہاں انہیں تعصب اور نفرت کا سامنا کرنا پڑا۔
1853 سے 1856 تک روس اور ترکی کے درمیان کریمیا کی جنگ ہوئی تو یورپ کے سامراجی ملکوں نے روس کی حمایت کی کہ وہ وحشی اور غیر مہذب ترکوں سے جنگ کر رہا ہے۔ روس پر یہ دباؤ بھی ڈالا گیا کہ وہ قسطنطنیہ پر حملہ کر کے ترکوں کو وہاں سے نکالے اور وہاں دوبارہ سے اسے عیسائیت کا مرکز بنائے۔
یورپی سامراج نے اپنی کالونیز میں جو مظالم اور استحال کیا۔ یہ ممالک آزادی کے بعد بھی ترقی نہ کر سکے۔
یورپی سمراج کے مخالف مفکرین نے اس بات پر زور دیا کہ سامراج کو ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ان پر یورپی تہذیب کو مسلط کرناچاہیے۔ ہر قوم کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی روایات کے تحت زندگی بسر کرے لہذا یورپی سمراج کو علیحدہ رہتے ہوئے تہذیبی طور پر ترقی کرنا چاہیے۔
جرمن فلسفی ایمانوئل کانٹ نے یورپی سامراج کو مداخلت نہ کرنے کی دلیل دی، لیکن ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ تمام یورپی ممالک مل کر ایک متحدہ کلچر کو پیدا کریں تاکہ ان کے آپس میں جو تنازعات ہیں ان کا خاتمہ ہو جائے۔
کانٹ کی مخالف کرتے ہوئے ایک دوسرے جرمن نژاد فلسفی ہرڈر نے ایک کلچر کے بجائے کئی دوسرے کلچروں کی حمایت کی ہے۔ اس کی مثال ایک گلدستے کی ہے جس میں کئی رنگ کے پھول ہیں اور ہر پھول اپنے رنگ کی وجہ سے اپنی شناخت رکھتا ہے۔ اسی مسئلے کو وہ قوموں کے لیے استعمال کرتا ہے کہ ان پر غیر ملکی مسلط نہ ہوں۔
یورپی سامراج کے ان دو نقطہ ہائے نظر کی وجہ سے ہمیں ان کے ذہن کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ جب ایشیا اور افریقہ کی کالونیز آزاد ہوئیں تو ان کے دانشوروں اور مفکرین نے یورپی سامراج کے اثرات کا تجزیہ کیا ہے کہ اس کے عہد میں ان کا معاشرہ کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوا۔ اور ان کو یہ موقع نہیں مل سکا کہ وہ اپنی ترقی کے لیے آزادانہ طور پر نئے افکار اور نظریات کو پیدا کریں۔
ان کی پسماندگی کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ یورپی سامراج نے ان کی ترقی کے تمام راستے بند کر دیے تھے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
