پاکستانی حکام کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی ہفتے کو ایران پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ امریکہ سے مذاکرات کے سلسلے میں اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
پاکستانی وزارت داخلہ کے اعلیٰ عہدے دار نے انڈپینڈنٹ اردو کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی ’کچھ دیر قبل مشہد پہنچے ہیں۔ وہ یہاں سے تہران کے لیے روانہ ہوں گے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایرانی نیوز ایجسنی ارنا کے مطابق: ’محسن نقوی کے دورہ مشہد کے دوران روضہ امام رضا پر حاضری بھی ان کے پروگرام میں شامل ہے۔‘
اس سے قبل ارنا نے رپورٹ کیا تھا کہ محسن نقوی ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت پر تبادلہ خیال کریں گے۔ ارنا نے اس حوالے سے مزید تفصیل فراہم نہیں کی۔
محسن نقوی ایران کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کر رہے ہیں، جب 18 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کیے تھے اور بعدازاں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں اس معاہدے پر بطور ثالث دستخط کیے۔
اس پیش رفت کے بعد مشرق وسطیٰ پر چھائے جنگ کے بادل چھٹنے کی امید پیدا ہوئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اس معاہدے کو فوری طور پر نافذ العمل ہونا ہے اور اس سے جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے جب کہ دونوں فریقوں کو بڑے مسائل پر وسیع تر معاہدے طے کرنے کے لیے 60 دن دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں 20 جون کو وسطی سوئٹزرلینڈ کے برگن سٹاک ریزورٹ میں مذاکرات ہونے تھے، تاہم انہیں ملتوی کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ لبنان میں اسرائیلی حملے بتایا گیا۔
ایران امریکہ سے جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے میں اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی کاررائیاں بند کی جائیں۔ بعدازاں جمعے کو اسرائیل اور لبنان میں سرگرم تنظیم حزب اللہ نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
جمعے کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا کہ امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف ایران سے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں، جہاں صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پہلے سے موجود ہیں، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کو وہاں جائیں گے۔
