ایرانی عدلیہ نے کہا ہے کہ پیر کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے ’جرم‘ میں سزا یافتہ دو افراد کو پھانسی دے دی گئی ہے۔
یہ پھانسی مبینہ جاسوسی پر دی جانے والی پھانسیوں کی لہر کا تازہ ترین واقعہ ہے۔
فروری میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے تہران نے پھانسی کی سزاؤں میں اضافہ کر دیا ہے، جن میں سے بہت سے افراد پر اسرائیلی انٹیلی جنس کے لیے جاسوسی کا الزام ہے۔
ایران کی عدلیہ کے میڈیا ونگ ’میزان‘ نے اسرائیل کی انٹیلی جنس سروس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا، ’امید بہزاد اور پوریا صفوت کو آج صبح حساس فوجی اور سکیورٹی مقامات سے متعلق معلومات موساد کے ایجنٹوں کو فراہم کرنے پر پھانسی دی گئی۔‘
یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان دونوں کو کب گرفتار کیا گیا یا ان پر کب مقدمہ چلا؟ لیکن کہا گیا کہ وہ ’صیہونی حکومت کے ساتھ جاسوسی اور تعاون‘ کے مجرم قرار پائے تھے۔
میزان نے مزید کہا کہ ’انہوں نے جنگ کے دوران فوجی اور سکیورٹی مراکز کے بارے میں معلومات فراہم کر کے (غیر ملکی) انٹیلی جنس سروسز کو ان کے مقاصد حاصل کرنے میں مدد کی۔‘
جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران میں پھانسیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ان بڑے حملوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی جن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای جان سے گئے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، چین کے بعد ایران دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔
ناروے میں قائم ایک این جی او ایران ہیومن رائٹس اور پیرس میں واقع ٹوگیدر اگینسٹ دی ڈیتھ پینلٹی (ای سی پی ایم) کے مطابق، ایرانی حکام نے گذشتہ سال کم از کم 1,639 افراد کو پھانسی دی، جو 1989 کے بعد ایک ریکارڈ تعداد ہے۔
منگل کو ایران کی جانب سے سردیوں کے دوران حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے کے مجرم قرار پانے والے دو افراد کو پھانسی دینے کے اعلان کے بعد، ایمنسٹی نے پھانسیوں میں ہونے والے اس ’اضافے‘ کی مذمت کی۔
