فلیمنگ کی وجہ سے کپتانی قبول کی: جو روٹ

انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان جو روٹ نےکہا ہے کہ ٹیسٹ کوچ کے طور پر سٹیفن فلیمنگ کا تقرر وہ ’بڑی وجہ‘ تھی جس کی بنا پر وہ سکواڈ کے کپتان کے طور پر واپسی کے لیے رضامند ہوئے۔

نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز کے بعد آل راؤنڈر کے ریٹائر ہونے پر جو روٹ نے بین سٹوکس کی جگہ لی تھی۔ سٹیفن فلیمنگ نے اپنے ہم وطن برینڈن میکولم کی جگہ لی ہے جن کا چار سالہ ٹیسٹ دور گذشتہ ماہ ختم ہو گیا تھا، تاہم وہ انگلینڈ کے وائٹ بال کوچ برقرار ہیں۔

روئٹرز کے مطابق جو روٹ نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو بتایا، ’اگر میں بالکل سچ کہوں تو یہ ایک بڑی وجہ تھی کہ میں یہ کیوں کرنا چاہتا تھا؟

’میں اس بات سے بہت پرجوش ہوں کہ وہ کھیل کو کس طرح دیکھتے ہیں، وہ ہمیں بطور ٹیم کہاں دیکھتے ہیں، اور جہاں ہم پہنچنا چاہتے ہیں وہاں تک رسائی کے لیے ہمیں جو کام کرنا ہے۔ اس سب نے مجھے یہ ذمہ داری لینے کے لیے بہت پرجوش کر دیا۔

’یقیناً ان کے پاس تجربے کا خزانہ ہے اور انھوں نے بطور کھلاڑی اور کوچ کھیل میں شاندار کارنامے انجام دیے ہیں، اور میں آنے والے وقت کا شدت سے انتظار کر رہا ہوں، اور ہم مل کر کچھ بہت خاص بنانے کی کوشش کریں گے۔‘

اے ایف پی کے مطابق جو روٹ نے کپتانی کا اپنا دوسرا دور شروع کرتے ہوئے اپنے پیشرو بین سٹوکس کی جارحانہ ’بیزبال‘ حکمت عملی پر بھروسہ برقرار رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

جون میں نیوزی لینڈ سے انگلینڈ کی ٹیسٹ سیریز میں شکست کے دوران بین سٹوکس کی بین الاقوامی کرکٹ سے حیران کن ریٹائرمنٹ کے بعد روٹ کو کپتان مقرر کیا گیا تھا۔

35 سالہ کھلاڑی اس سے قبل 2017 اور 2022 کے درمیان انگلینڈ کی کپتانی کر چکے ہیں اور جب نیوزی لینڈ کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ کے لیے سٹوکس کو ڈراپ کیا گیا تھا تو انھوں نے عبوری طور پر یہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔

یارکشائر سے تعلق رکھنے والے بلے باز بالکل نئے سرے سے شروعات کرنے کی بجائے سٹوکس اور برینڈن میکولم، جنھیں نیوزی لینڈ کے میچوں کے بعد انگلینڈ کے ٹیسٹ کوچ کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا، کی حکمت عملی میں معمولی تبدیلی لانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

جو روٹ پاکستان کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ کی قیادت کریں گے، جبکہ نیوزی لینڈ کے سابق کپتان سٹیفن فلیمنگ اس سال کے آخر میں میکولم کی جگہ لینے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔

ہفتے کو ای سی بی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں روٹ نے کہا کہ ’یہ اس عرصے (2022 سے) کے دوران کیے گئے ہمارے کچھ اچھے کاموں کو جاری رکھنے کی کوشش ہوگی اور ہم خود کو اس مقام پر واپس نہیں پانا چاہتے جہاں ہم بیز اور بین کے ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے تھے۔

’جہاں ہم پہنچنا چاہتے ہیں وہاں تک رسائی کے لیے چیزوں کو بہتر بنانا اور ان میں معمولی تبدیلیاں لانا تاکہ ایک طویل عرصے تک مسلسل سرفہرست ممالک کا بھرپور مقابلہ کیا جا سکے۔

’غلط بات یہ ہوگی کہ ہم نے گذشتہ چار سالوں میں جو کچھ کیا ہے اسے مکمل طور پر ختم کر دیں۔

’بین اور برینڈن نے بہت سے اچھے کام کیے اور کھیل کو دیکھنے اور سمجھنے کا ہمارا نظریہ بدل دیا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میکولم نے سٹوکس کو انگلینڈ کو مہارت اور طاقت کے ساتھ کھیلنے کی ترغیب دی، لیکن یہ حکمت عملی آسٹریلیا اور انڈیا کے خلاف کارآمد ثابت نہیں ہوئی۔

سٹوکس اور میکولم کے دور میں انگلینڈ اپنے دونوں اہم حریفوں کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے میں ناکام رہا، یہ ایک مایوس کن سلسلہ تھا جس کا اختتام آسٹریلیا میں ایشز میں عبرتناک شکست پر ہوا۔

اس سیریز اور نیوزی لینڈ کے ساتھ انگلینڈ کے حالیہ ٹکراؤ دونوں کو کھلاڑیوں کی شراب نوشی کے مسائل نے متاثر کیا، جہاں ایک نائٹ کلب واقعے میں ٹیم کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر سٹوکس اور گس اٹکنسن کو بلیک کیپس کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر کر دیا گیا تھا۔

روٹ، جو پرجوش سٹوکس کے مقابلے میں قدرے محتاط شخصیت کے مالک ہیں، بطور کپتان اپنے دور میں زیادہ سختی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم انھوں نے اس بات کا اشارہ نہیں دیا کہ آیا اس میں میدان سے باہر کا رویہ بھی شامل ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’بطور کھلاڑی میں نے اس سے بے پناہ فائدہ اٹھایا ہے اس لیے یہ سوچنا غلط ہوگا کہ ہمیں بالکل نئے سرے سے شروعات کرنی ہے۔ لیکن کچھ ایسے پہلو ہیں جنھیں ہم قدرے بہتر بنانا اور ان پر تھوڑی سختی کرنا چاہتے ہیں۔

’گذشتہ چار سال کرکٹ میں میرے لیے سب سے زیادہ تفریح کا باعث رہے ہیں اور اس کا زیادہ تر سہرا اس بات کو جاتا ہے کہ انھوں نے مجھے کھیل کو کس طرح دیکھنا سکھایا۔

’واضح طور پر گذشتہ کچھ عرصہ ہر ایک کے ذہن میں تازہ ہے لیکن آپ اس چار سالہ دور کو دیکھ رہے ہیں جہاں ہم نے بہت سے اچھے کام کیے ہیں۔‘

 


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *