حکومتِ بلوچستان نے ضلع نوشکی کی حدود میں امن عامہ کی بگڑتی صورت حال وجہ بتا کر کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو 28 جولائی 2026 کی رات 8 بجے سے نافذ العمل ہے اور 31 جولائی 2026 کی رات 8 بجے تک برقرار رہے گا۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری محمد حمزہ شفقت کی جانب سے جاری ایک بیان میں ضلع کی انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC)کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 28 جولائی 2026 کو دہشت گردوں نے نوشکی کے مغربی بائی پاس پر واقع فرنٹیئر کور (ایف سی) کی چوکی پر حملہ کیا۔ اس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کیے گئے سکیورٹی آپریشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضلع میں امن و امان کی صورت حال انتہائی حساس اور غیر مستحکم ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ضلع انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی نوشکی نے مشاہدہ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، حساس سرکاری تنصیبات اور قومی شاہراہ (این-40) پر دہشت گرد حملوں کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث ضلع نوشکی میں امن و امان کی صورت حال میں نمایاں بگاڑ پیدا ہو چکا ہے، جس سے عوامی تحفظ، انسانی جانوں، سرکاری و نجی املاک اور مسافروں و اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل نقل و حرکت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’مزید یہ کہ مستند انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق آئندہ ماہ اگست کے دوران خطرات میں اضافے کا امکان ہے اور دہشت گردوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرکاری تنصیبات اور دیگر حساس مقامات کو نشانہ بنائے جانے کے خدشات موجود ہیں۔‘
لہذا صوبائی حکومت نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے مطابق کوئی بھی شخص مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے بغیر اپنے گھر سے باہر نہیں نکل سکے گا اور نہ ہی ضلع نوشکی کی حدود میں نقل و حرکت کر سکے گا، کرفیو کے دوران ہر قسم کی عوامی نقل و حرکت، اجتماعات، جلوس اور غیر ضروری سفر پر مکمل پابندی ہوگی، ڈپٹی کمشنر نوشکی، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشاورت کے بعد، سرکاری فرائض انجام دینے والے افسران و اہلکاروں، ہنگامی طبی خدمات، ریسکیو سروسز، یوٹیلٹی سروس فراہم کرنے والے اداروں اور عوامی مفاد میں ضروری قرار دیے جانے والے دیگر افراد یا طبقات کو کرفیو سے استثنا دینے کا مجاز ہوگا اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نوٹیفکیشن پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے اور اس کے نفاذ کے لیے قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
