ویسٹ انڈیز کی پہلے ٹیسٹ میں فتح، بابر اعظم ایک اینڈ سے دیکھتے ہی رہ گئے

ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بولرز نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی بیٹنگ لائن کو صرف ایک سیشن سے کچھ زیادہ وقت میں پویلین بھیج کر پہلا ٹیسٹ 90 رنز سے جیت لیا ہے۔

جیڈن سیلز نے پانچ وکٹیں لے کر کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا، جبکہ دیگر فاسٹ بولرز نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

ویسٹ انڈیز کے تیز گیند بازوں نے پاکستان کو صرف 120 رنز پر آؤٹ کر دیا، جس کے لیے انہیں صرف 40 اوورز سے کچھ زیادہ کروانے پڑے۔

پاکستانی بیٹنگ211  رنز کے ہدف کے تعاقب میں ابتدا ہی سے شدید دباؤ کا شکار رہی۔ لنچ سے پہلے ہی تین وکٹیں گر گئیں، جبکہ بابر اعظم ایک اینڈ پر مزاحمت کرتے رہے، مگر دوسری جانب مسلسل وکٹیں گرنے کے باعث وہ بھی زیادہ دیر تک ٹیم کو سنبھال نہ سکے۔

یہ پاکستان کی بیرونِ ملک مسلسل آٹھویں ٹیسٹ شکست ہے، جو ایک نیا منفی ریکارڈ بھی بن گئی۔ اس فتح کے ساتھ ہی ویسٹ انڈیز نے یہ بھی یقینی بنا لیا کہ وہ یہ سیریز ہار نہیں سکتا۔

چوتھے روز کھیل کے آغاز پر ہی پاکستان کی آخری اننگز میں ہدف کے تعاقب کی کمزور روایت کے باعث صورتحال اس کے لیے تشویشناک تھی، جبکہ شمار جوزف اور کیمار روچ آٹھویں وکٹ کی قیمتی شراکت کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے تھے۔

دونوں بلے بازوں نے کھیل کے تیسرے روز 93 رنز پر سات وکٹیں گرنے کے بعد ٹیم کی برتری کو بڑھاتے ہوئے رات کے اختتام تک 155 رنز تک پہنچا دیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دن کا آغاز پاکستان کی جانب سے محمد علی کے ایک غیر مؤثر اوور سے ہوا، جبکہ وکٹ کیپر محمد رضوان کی ناقص وکٹ کیپنگ بھی مہنگی ثابت ہوئی۔ چار بائی رنز اور ایک آسان کیچ چھوڑنے کی وجہ سے ویسٹ انڈیز کو آغاز ہی میں آٹھ اضافی رنز مل گئے، جس سے میزبان ٹیم کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی۔

پھر جب پاکستان کی بیٹنگ شروع ہوئی تو پہلا دھجکا تو یہ تھا کہ پہلی اننگز میں سینچری سکور کرنے والے شان مسعود بیٹنگ کرنے کے لیے فوری دستیاب نہیں تھے۔

اوپنرز اذان اویس اور امام الحق صرف تین، تین رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ سلمان علی آغا صفر، محمد رضوان 11 اور عامر جمال بھی جب پویلین لوٹ گئے تو شان مسعود کو انجری کے باوجود میدان میں اترنا پڑا۔

مگر ان کے آنے سے بھی کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ بھی صرف تین رنز ہی بنا سکے۔

دوسری جانب بابر اعظم ایک اینڈ سے لگاتار وگٹیں گرتے ہوئے دیکھتے رہے۔ بابر اعظم نے ناٹ آؤٹ 58 رنز کی اننگز کھیلی اور ان کے بعد سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز محمد عباس تھے جنہوں نے 23 رنز بنائے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *