کارگل میں انڈیا کی اسرائیلی حمایت ’کوئی نئی بات نہیں، دونوں پاکستان کے دائمی دشمن‘ ہیں: وزیر دفاع

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے منگل کو کہا ہے کہ انڈیا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں اور پاکستان کے خلاف دونوں ممالک کی شراکت داری کئی دہائیوں پر محیط ہے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فضائیہ کے دو سابق افسران نے پہلی بار انکشاف کیا ہے کہ 1999 کی کارگل جنگ کے دوران اسرائیل نے انڈین فضائیہ کو دفاعی سازوسامان اور تکنیکی معاونت فراہم کی تھی۔

خواجہ آصف نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں کہا، ’یہ سلسلہ، خاص طور پر پاکستان کے تناظر میں، تقریباً آٹھ دہائیوں سے جاری ہے۔ یہ ہمارے دائمی دشمن ہیں، اور دائمی دشمن رہیں گے۔‘

انڈیا ہر سال 26 جولائی کو کارگل جنگ کی یاد میں ’کارگل وجے دیوس‘ مناتا ہے۔

اسی موقع پر انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اسرائیلی فضائیہ کے سابق افسران نے بتایا کہ کارگل جنگ کے دوران اسرائیل نے آپریشن وجے اور آپریشن سفید ساگر میں انڈین فضائیہ کی مدد کے لیے سازوسامان فراہم کیا۔

رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے سابق پروگرام مینیجر ایمی اور اسرائیلی فضائیہ کے سابق میراج سکواڈرن کمانڈر شلومو کے مطابق کئی برس قبل شروع ہونے والا ایک معمول کا دفاعی منصوبہ کارگل جنگ کے آغاز کے بعد اچانک ایک ہنگامی مشن میں تبدیل ہو گیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اسرائیلی سابق افسران کے انکشافات سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ انڈیا اور اسرائیل کے درمیان پاکستان کے خلاف تعاون کوئی نئی پیش رفت نہیں۔

انہوں نے کہا، ’یہ معلومات کہ انہوں نے کارگل تنازع کے دوران پاکستان کے خلاف انڈیا کے ساتھ تعاون کیا، یقیناً اب ان اسرائیلی حکام کی جانب سے بیان کی جا رہی ہیں جو اس تعاون میں شامل تھے۔ لیکن اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دونوں ریاستوں کے درمیان مشترکہ دشمنی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ کارگل سے پہلے بھی موجود تھی، کارگل کے دوران بھی تھی، اور آج بھی برقرار ہے۔‘

کارگل، انڈیا کے زیر انتظام علاقے لداخ کا ایک ضلع ہے جہاں مئی سے جولائی 1999 کے دوران پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ ہوئی تھی۔ اس دوران دونوں ممالک کے سینکڑوں فوجی مارے گئے جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب عام شہری بھی جانی و مالی نقصان سے متاثر ہوئے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق اسرائیل کی کمپنی رافیل نے نومبر 1996 میں انڈیا کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت میراج 2000 لڑاکا طیاروں میں لائٹننگ ٹارگٹنگ پوڈ نصب کیے گئے تاکہ اہداف کو زیادہ درستگی سے نشانہ بنایا جا سکے۔

ایمی کے مطابق دسمبر 1996 سے مارچ 1999 کے درمیان اسرائیلی انجینیئرز نے انڈیا کی ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) اور ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کے ساتھ مل کر اس منصوبے کے آزمائشی مراحل مکمل کیے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ مارچ 1999 میں ابتدائی تجربات مکمل ہونے کے بعد ایک ہنگامی فون کال موصول ہوئی، جو نئی دہلی کے بجائے تل ابیب سے کی گئی تھی۔ یہ کال انڈیا کے اُس وقت کے دفاعی اتاشی گروپ کیپٹن این اے کے براؤن نے کی، جو بعد میں انڈین فضائیہ کے سربراہ بنے۔ ان کے بقول یہ فون کال جمعے کی شام، یہودیوں کے مذہبی دن سبت کے آغاز پر کی گئی، جب اسرائیل میں معمول کی سرگرمیاں تقریباً رک جاتی ہیں۔

یاد رہے کہ انڈیا اور اسرائیل کا یہ فوجی و دفاعی تعاون یہیں تک محدود نہیں رہا۔ مئی 2025 میں انڈیا کے ساتھ ہونے والی مختصر جنگ کے دوران بھی پاکستان نے دعویٰ کیا کہ نئی دہلی نے اسرائیلی ساختہ ڈرونز استعمال کیے۔

پاکستانی فوج نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ آٹھ مئی 2025 کو انڈیا کی جانب سے پاکستان کے مختلف شہروں میں ڈرون حملے کیے گئے، جن میں ہیروپ ڈرون استعمال کیے گئے۔ یہ ڈرون اسرائیل کی کمپنی اسرائیل ایئروسپیس انڈسٹریز کے تیار کردہ ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کو آئندہ بھی انڈیا اور اسرائیل کے باہمی تعاون کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا، ’ہمارے لیے یہ دونوں مشترکہ دشمن ہیں۔ اگر آپ آج کے بین الاقوامی منظرنامے کو دیکھیں تو یہ دونوں تنہا ہیں، انڈیا بھی تنہا ہے۔ وہ عالمی منظرنامے میں بے سمت ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی جو تھوڑی بہت اہمیت تھی، وہ بھی کھو دی ہے۔ الحمدللہ، پاکستان بین الاقوامی منظرنامے پر بہت اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت مہربان رہا ہے۔ یہ ہماری قیادت کی ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’لیکن یہ سب کہنے کے باوجود ہمیں اس بات سے باخبر رہنا چاہیے کہ پاکستان کے مفادات کے خلاف یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *