سعودی ولی عہد سے گفتگو میں برطانوی وزیر اعظم کی بحیرۂ احمر میں حوثیوں کے حملوں کی مذمت

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنم سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں برطانوی وزیر اعظم نے یمن کی ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے بحیرۂ احمر میں جہازوں پر حملوں کی مذمت کی۔

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سعودی ولی عہد نے اینڈی برنم کو وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور برطانیہ کے لیے کامیابی اور خوشحالی کی خواہش کا اظہار کیا۔

دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کے شعبوں اور انہیں مزید مضبوط بنانے کے طریقوں کے ساتھ ساتھ خطے اور عالمی سطح کے باہمی دلچسپی کے امور کا جائزہ لیا۔

اینڈی برنم نے حوثیوں کے حملوں اور بحیرۂ احمر میں بحری آمد و رفت کو لاحق خطرات کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کیا۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یمنی ملیشیا نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔

سعودی  ملکیت کے ایک جہاز ’این سی سی ماسا‘ کو جمعے کو بحیرۂ احمر میں حملے کے دوران کچھ نقصان پہنچا تاہم سعودی حکام کے مطابق جہاز اور عملے کی سلامتی کی تصدیق کے بعد یہ اپنی منزل کی جانب روانہ رہا۔

اس سے دو روز قبل ایک اور سعودی ملکیت کے جہاز ’انسیلیا‘ پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں اس میں آگ لگ گئی، تاہم عملے کے کسی فرد کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج نے یمن کے مغربی صوبے الحدیدہ میں حوثی فوجی اہداف کے خلاف ’متناسب فوجی ردِعمل‘ کے تحت کارروائی کی۔

یمنی فوجی حکام کے مطابق یمن کی سرکاری افواج نے بھی مأرب اور الجوف میں حوثیوں کے میزائل اور ڈرون لانچنگ مقامات اور اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنایا۔

اس کشیدگی نے اس نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے جو باضابطہ طور پر ختم ہونے کے باوجود 2022 سے بڑی حد تک برقرار تھی۔

حوثی 2014 سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ مملکت اپنے جہازوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گی جبکہ کشیدگی میں کمی اور یمن کے تنازع کے جامع سیاسی حل کی کوششوں کی حمایت بھی جاری رکھے گی۔

حالیہ حملوں نے بحیرۂ احمر کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، جو ایک اہم بحری تجارتی راستہ ہے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں خلل کے باعث سعودی تیل کی برآمدات کے لیے تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *