ایران پر امریکی حملوں میں وقفے کے باوجود اس اختتام ہفتہ پر جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کے آثار اس وقت سامنے آئے ہیں جب یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل پر سعودی تیل کی تنصیبات پر حملہ کیا اور ایران نے یوکرین پر بحیرہ کیسپین میں ایرانی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔
امریکی فوج نے ہفتے کو کہا کہ ایران کے خلاف اس کی بحری ناکہ بندی ’پوری طرح نافذ العمل ہے‘ تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس نے لگاتار 13 راتوں تک جاری رہنے والے اور بڑھتے ہوئے حملوں کا سلسلہ کیوں روکا؟
امریکی سینٹ کام نے ہفتے کو ایکس پوسٹ میں کہا کہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران 25 جولائی تک امریکی فوج نے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے 12 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا۔ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے دو جہازوں کو ناکارہ بنا دیا اور مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے دو جہازوں پر سوار ہو کر تلاشی لی۔
اس سے قبل امریکی فورسز نے بحیرہ عرب میں کوموروس کے پرچم بردار ایم ٹی چارمینار پر سوار ہو کر تصدیقی عمل مکمل کیا اور یہ ٹینکر اب اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔
عملے کی جانب سے متعدد بار ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش اور بار بار دیے گئے انتباہ کو نظر انداز کرنے کے بعد سینٹ کام فورسز نے 24 جولائی کو خلیج عمان میں موزمبیق کے پرچم بردار ایم ٹی لاوائن کو ناکارہ بنا دیا۔ یہ جہاز اب ایران کا سفر نہیں کر رہا۔ امریکی فورسز انتہائی چوکنا، پرعزم، مہلک اور تیار ہیں۔
The U.S. naval blockade against Iran remains in full effect. As of July 25, CENTCOM has redirected 12 commercial vessels trying to run the blockade, disabled 2 that didn’t comply, and boarded 2 to ensure total compliance.
Earlier today, U.S. forces completed a verification… pic.twitter.com/eyp1N2B9sO
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 25, 2026
دوسری جانب ایران پر امریکی حملوں میں وقفے کے بارے میں پوچھے جانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدے دار نے کہا کہ ٹرمپ ’ہمیشہ واضح رہے ہیں کہ ان کی ترجیح سفارت کاری ہے، لیکن انہوں نے ایران کو دکھا دیا ہے کہ اگر وہ سنجیدگی سے مذاکرات کی میز پر نہیں آتے تو کیا ہوگا۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی حملوں کے جواب میں روزانہ ہونے والے حملوں کی طرح، ہفتے کو ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک پر حملے کی کوئی اطلاعات نہیں ملیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ہفتے کی رات اس معاملے پر بریفنگ لینے والے دو افراد کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے فی الحال ایران پر حملے تیز کرنے کے اپنے ابتدائی منصوبوں سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اخبار کے مطابق صدر اور ان کے مشیروں کو جنگ پھیلنے، دفاعی ذخائر کم ہونے، خلیج فارس کے اتحادیوں کی ناراضگی، توانائی کی ترسیل اور عالمی معیشت متاثر ہونے پر تشویش ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خلیج میں خاموشی کے باوجود ہفتے کو یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی نے ظاہر کیا کہ یہ جنگ، جس نے آبنائے ہرمز کے راستے توانائی کی ترسیل میں پہلے ہی خلل ڈالا ہے، جہاز رانی کے دوسرے بڑے راستے کو متاثر کر سکتی ہے اور یمن کی خانہ جنگی دوبارہ بھڑکا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے یوکرین پر بحیرہ کیسپین میں ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے میں ایک ملاح جان سے گیا اور دوسرا زخمی ہو گیا۔
اس سے قبل ہفتے کو یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بحیرہ کیسپین میں ’طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں‘ کے نتائج کی تعریف کی، جس میں فوجی سامان لے جانے والے جہازوں کا اشارہ کیا گیا لیکن اہداف کی قومیت ظاہر نہیں کی گئی۔
