طلبہ احتجاج رنگ لے آیا، انڈین وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی

ملک بھر میں جاری نوجوانوں کے احتجاج کے بعد انڈیا کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ہفتے کو اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔

وزیر تعلیم نے ایکس پر اپنے استعفے کا اعلان عین اس وقت کیا جب پولیس نئی دہلی میں نوجوان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس فائر کر رہی تھی اور یہ سب اس سے چند گھنٹے پہلے ہوا جب طلبہ رہنما وزرا کے ساتھ مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے ملاقات کرنے والے تھے۔

دھرمیندر پردھان نے اپنی پوسٹ میں لکھا: ’جنتر منتر اور ملک بھر میں پیدا ہونے والی صورت حال کے پیشِ نظر، تاکہ ملک دشمن عناصر اس صورت حال سے فائدہ نہ اٹھا سکیں، میں نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو ارسال کر دیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میں ملک کے نوجوانوں کی امنگوں، جذبات اور جائز توقعات کا گہرا احترام کرتا ہوں۔‘

یہ خبر پھیلتے ہی ہزاروں مظاہرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جو مرکزی دہلی اور ملک کے دیگر علاقوں میں احتجاج کر رہے تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی حکام نے دارالحکومت میں احتجاج کو محدود کرنے کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی اور 18 میٹرو سٹیشنوں تک رسائی پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

نوجوانوں کا غصہ اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب پیر کے روز پولیس نے متعدد طلبہ کو زخمی کر دیا، مظاہرین کے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔

انڈیا میں یہ احتجاج میڈیکل انٹری ٹیسٹ یعنی نیٹ امتحان کے پیپر لیک ہونے کے بعد شروع ہوا تھا، جس نے پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی۔

احتجاج کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے واضح کیا تھا کہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

پارٹی نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ 3 مئی کو نیٹ امتحان منسوخ ہونے کے بعد مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ  انڈین روپے معاوضہ دیا جائے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *