جنوبی کوریا میں دو مرتبہ مشلن سٹار حاصل کرنے والے ایک ریستوران کے مالک کو یہ اعتراف کرنے کے بعد جیل ہو سکتی ہے کہ انہوں نے اپنی سویٹ ڈشز کا ذائقہ بڑھانے کے لیے چیونٹیاں استعمال کیں۔
صاف خوراک کے مقامی قوانین کی خلاف ورزی پر استغاثہ ریستوران کے مالک کے لیے ایک سال قید اور 10 ہزار پاؤنڈ جرمانے کا مطالبہ کر رہا ہے، جن کی شناخت صرف ’جی‘ کے حرف سے ظاہر کی گئی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مکمل کھانوں پر مشتمل بڑے مینیو کے ایک ’چھوٹے سے حصے‘ میں چیونٹیاں پیش کی گئیں۔ خاص طور پر سویٹ ڈشز کے اوپر ڈال کر۔
اخبار کوریا اکنامک ڈیلی کے مطابق جی اور جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل کے علاقے گنگنم گو میں واقع ان کے ریستوران پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکہ اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی خشک چیونٹیاں تقریباً چار سال تک پیش کیں۔ یہ سلسلہ 2021 میں شروع ہوا تھا۔ ریستوران کا نام منظرعام پر نہیں لایا گیا۔
استغاثہ نے حساب لگایا کہ ایوارڈ یافتہ ریستوران نے اس عرصے میں چیونٹیوں والی سویٹ ڈش کی زیادہ سے زیادہ 12 ہزار 200 پلیٹیں پیش کی ہوں گی۔ ان میں مجموعی طور پر تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں استعمال کی گئی ہوں گی، یعنی ہر پلیٹ میں چار سے کچھ زیادہ چیونٹیاں۔
تاہم وکیل صفائی نے ان اعداد و شمار سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ریستوران نے صرف تقریباً 60 فیصد گاہکوں کو چیونٹیاں پیش کیں، جب کہ باقی گاہکوں نے چیونٹیوں کے بغیر کھانے کا انتخاب کیا۔
کوریا اکنامک ڈیلی کے مطابق وکیل صفائی نے پیر کو سیئول ویسٹرن ڈسٹرکٹ کورٹ میں کہا کہ ’جن گاہکوں نے چیونٹیاں لینے سے انکار کیا، ہم نے انہیں چیونٹیاں نہیں دیں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’تقریباً 60 فیصد گاہکوں نے چیونٹیاں لینے پر رضامندی ظاہر کی، لیکن استغاثہ نے یہ فرض کرکے حساب لگایا کہ تمام گاہکوں نے چیونٹیاں کھائی تھیں۔ ہم گاہکوں کی پسند کے مطابق ایک سے پانچ چیونٹیاں پیش کرتے تھے۔‘
وکیل صفائی نے بتایا کہ 15 پکوانوں پر مشتمل مینیو میں چیونٹیاں میٹھی ڈش کے ساتھ گاہکوں کی مرضی پر پیش کی جاتی تھیں۔
ان کے متبادل کے طور پر خمیر شدہ سرکہ اور کھانے کے قابل پولن بھی پیش کیے جاتے تھے۔
’چیونٹیوں والی سویٹ ڈش‘ پر سیئول کے ریستوران پر تنقید
جنوبی کوریا میں باورچیوں کو کھانوں میں صرف 10 منظور شدہ اقسام کے خوردنی کیڑے شامل کرنے کی اجازت ہے، جن میں بھورے دھاری دار لال بیگ اور ٹڈیاں بھی شامل ہیں، لیکن چیونٹیاں استعمال کرنے پر سخت پابندی ہے۔
وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ملکوں کے ریستورانوں میں چیونٹیاں استعمال کی جاتی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فوڈ سٹینڈرڈز ایجنسی کی تازہ ترین دستیاب ہدایات کے مطابق برطانیہ میں صرف زرد میل ورم، گھریلو جھینگر، دھاری دار جھینگر اور بلیک سولجر فلائی نامی مکھی کی قسم کو خوردنی کیڑوں کے طور پر فروخت کرنے کی اجازت ہے۔
چوسن کے مطابق جنوبی کوریا کے محکمہ صحت نے خبردار کیا کہ سیئول کے اس ریستوران میں استعمال کی گئی چیونٹیوں میں دوسرے کیڑوں کے مقابلے میں بھاری دھاتوں کی مقدار 55 گنا تک زیادہ تھی۔
توقع ہے کہ مسٹر جی اور ریستوران چلانے والی کمپنی کو 2 ستمبر کو سزا سنائی جائے گی۔
مشلن گائیڈ کھانے کے اجزا کے معیار، ذائقے پر مہارت، پکانے کی تکنیک، شیف کے منفرد انداز اور معیار برقرار رکھنے کی صلاحیت کی بنیاد پر غیر معمولی ریستورانوں کو زیادہ سے زیادہ تین سٹار دیتی ہے۔
اس وقت دنیا بھر میں صرف تقریباً 500 ریستورانوں کے پاس ’اعلی معیار‘ کی علامت سمجھے جانے والے دو مشلن سٹار ہیں۔
