ہڑتال مؤخر، مگر کراچی میں کچھ پٹرول پمپ پھر بھی بند کیوں ہیں؟

حکومت اور پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات ’کامیاب‘ ہونے اور مجوزہ ہڑتال 15 روز کے لیے مؤخر کیے جانے کے باوجود جمعرات کو کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں کچھ پٹرول پمپ بند رہے۔

کراچی کے علاقے کھارادر میں بھی ایک پٹرول پمپ بند ملا، جہاں انتظامیہ نے روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کو اس اقدام کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سندھ کے صدر حاجی امیر خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد ایسوسی ایشن نے 15 روز کے لیے احتجاج مؤخر کرنے پر اتفاق کیا تھا تاکہ اس دوران ڈیلرز کے تحفظات دور کیے جا سکیں، تاہم اس کے باوجود کچھ ڈیلرز نے اپنے طور پر احتجاجاً پٹرول پمپ بند رکھے۔

ان کے بقول: ‘کراچی کے مختلف علاقوں میں کچھ پٹرول پمپ بند ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم ان کے پاس بند پٹرول پمپوں کی حتمی تعداد موجود نہیں۔’

حاجی امیر خان نے مزید بتایا کہ: ‘ڈیلرز کو سب سے بڑا مسئلہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اور روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تبدیلی سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک آئل ٹینکر کسی شہر کے لیے روانہ ہو اور منزل تک پہنچنے میں چند روز لگ جائیں تو اس دوران قیمتوں میں تبدیلی کی صورت میں ڈیلرز کو لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔’

انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں میں مسلسل ردوبدل سے صرف منافع ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ سٹاک مینجمنٹ، سپلائی، حساب کتاب اور پورا کاروباری نظام بھی متاثر ہوتا ہے، اسی لیے ڈیلرز حکومت سے قیمتوں کے تعین کا ایسا طریقہ کار چاہتے ہیں جس سے انہیں غیر متوقع مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔

دوسری جانب کھارادر میں بند ایک پٹرول پمپ کے منیجر آصف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے روزانہ قیمتوں میں تبدیلی کے خلاف احتجاجاً پٹرول پمپ بند رکھا ہے۔

ان کے بقول: ‘ہم صبح سے رات تک اپنی سائٹ چلاتے ہیں، لیکن رات گئے نئی قیمتیں جاری کر دی جاتی ہیں، جبکہ اس وقت نئی سپلائی دستیاب نہیں ہوتی۔ بعد میں آنے والا سٹاک نئی قیمت پر ملتا ہے، جس سے ہمیں مسلسل مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔’

انہوں نے کہا کہ کئی مرتبہ آئل ٹینکر بروقت نہ پہنچنے سے پٹرول پمپ پر ایندھن بھی ختم ہو جاتا ہے، جبکہ روزانہ قیمتوں میں تبدیلی کے باعث کاروباری منصوبہ بندی اور سرمایہ کی ریکوری بھی متاثر ہوتی ہے۔

ان کے مطابق موجودہ نظام میں پٹرول پمپ مالکان کے لیے کاروبار چلانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

پنجاب کی صورت حال

لاہور سے انڈپینڈنٹ اردو کے نمائندے ارشد چوہدری کے مطابق لاہور کی مقامی پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ انہوں نے شہر میں ہڑتال نہیں کی کیوں کہ وہ مرکزی ایسوسی ایشن کے فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم کچھ پیٹرول سٹیشن جو کم سرمائے اور پہلے ہی اس رد و بدل سے متاثر تھے، وہ بند ہیں۔

خیبر پختونخوا میں جزوی بندش

انڈپینڈنٹ اردو کے نمائندے اظہار اللہ کے مطابق پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں جزوی طور پر پیٹرول سٹینشز بند ہیں، تاہم زیادہ تر علاقوں میں پیٹرول دستیاب ہے۔

خیبر پختونخوا پیڑول پمپس ڈیلرز ایسو سی ایشن کے چیئرمین گل نواز آفریدی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں ہماری ہڑتال چل رہی ہے اور پیٹرول پمپس بند ہیں۔

تاہم گراؤنڈ پر زیادہ تر پیٹرول سٹیشنز کھلے ہیں اور چند ہی سٹیشنز بند ہیں۔

پشاور کے شہری محمد نبی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ صبح جب وہ گھر سے نکلے تو موٹرسائیکل میں پیٹرول نہیں تھا، تو چار پانچ پیٹرول سٹیشن دیکھ لیے لیکن سارے بند تھے تاہم پھر ایک پیڑول سٹیشن میں پیٹرول مل ہی گیا۔

ملاکنڈ ڈویژن کے شہریوں کے مطابق گذشتہ رات پیٹرول پمپس پر بہت زیادہ رش تھا اور بڑی تعداد میں شہری گاڑی میں پیڑول ڈلوانے کی کوشش کر رہے تھے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *