چند ہفتے پہلے پشاور سمیت پاکستان میں فی کلو ٹماٹر کی قیمت 30 سے 40 روپے ہوا کرتی تھی لیکن گذشتہ کچھ دنوں سے ایک ٹماٹر کی قیمت ہی 30 سے 50 روپے ہے۔
کبھی کلو کے حساب سے بکنے والی یہ عام سی سبزی آج عام آدمی کی جیب پر بھاری پڑ رہی ہے کیوں کہ پشاور کی مارکیٹ میں فی کلو ٹماٹر کی قیمت 400 سے 450 روپے اور پولش علاقوں میں 500 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر پشاور کے دفتر سے جاری آج کی قیمتوں کی بات کی جائے تو درجہ اول ٹماٹر کی فی کلو قیمت 350 روپے جبکہ درجہ دوم کی قیمت فی کلو 200 روپے ہے، لیکن بازار میں اس سے زیادہ پر بک رہی ہے۔
سبزی منڈی میں اسی کاروبار سے وابستہ آڑھتیوں کے مطابق پاکستان میں ٹماٹر کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ملکی پیداوار اور بیرونی انحصار کا نتیجہ ہے۔
زیارت گل پشاور سبزی منڈی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ہیں اور ان کے مطابق سب سے بڑی وجہ افغانستان سرحد کی بندش ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان میں ٹماٹر کی سپلائی لائن کی بات کی جائے تو سردیوں میں سندھ اور جنوبی پنجاب کے ٹماٹر مارکیٹ میں سپلائی کیے جاتے ہیں اور اس کے بعد مرکزی پنجاب کا ٹماٹر شروع ہو جاتا ہے۔
زیارت گل نے بتایا: ’ابھی پنجاب سے سپلائی ختم ہو گئی ہے اور مارکیٹ میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا ٹماٹر سپلائی ہو رہا ہے لیکن طلب زیادہ اور رسد کم ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔‘
اب سوال یہ ہے کہ ایک صوبے کا سیزن ختم اور دوسرے کا شروع ہوتے ہی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں زیارت گل کا کہنا تھا کہ اسی درمیان کے وقفے میں افغانستان اور ایران سے ٹماٹر درآمد کیا جاتا تھا۔
زیارت گل نے بتایا: ’ایک صوبے کا سیزن ختم اور دوسرے کے شروع ہونے کے درمیان کے وقفے میں افغانستان سے روزانہ 50 سے 60 کنٹینرز درآمد کیے جاتے تھے، جس سے طلب پوری کی جاتی تھی اور قیمتیں مستحکم ہوتی تھیں، لیکن اب وہ سپلائی لائن بند ہے۔‘
ادارہ برائے شماریات کے مطابق پاکستان سالانہ افغانستان سے چار لاکھ ٹن، جبکہ دوسرے نمبر پر جنگ سے متاثرہ ملک ایران سے تقریباً ایک لاکھ ٹن ٹماٹر درآمد کرتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ابھی خیبر پختونخوا کا زیادہ ٹماٹر پنجاب سپلائی ہو رہا ہے کیونکہ وہاں طلب زیادہ ہے جبکہ ماضی میں خیبر پختونخوا کا زیادہ تر ٹماٹر اسی صوبے میں سپلائی ہوتا تھا اور اس وجہ سے قیمتیں مستحکم ہوتی تھیں۔
پاکستان میں ٹماٹر کی کاشت
سال 2024 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں ایک لاکھ 67 ہزار ایکڑ سے زائد زمین پر ٹماٹر کاشت کیے جاتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رقبے کے لحاظ سے صوبہ سندھ سب سے آگے ہے، جہاں 55 ہزار ایکڑ پر ٹماٹر اگائے جاتے ہیں، جبکہ بلوچستان میں 48 ہزار ایکڑ، خیبر پختونخوا میں 26 ہزار ایکڑ اور پنجاب میں 12 ہزار ایکڑ سے زائد زمین پر ٹماٹر کی کاشت ہوتی ہے۔
ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ سروے 2019 کے مطابق، ملک میں ایک اوسط گھرانہ ماہانہ 173 روپے ٹماٹر پر خرچ کرتا ہے، جو ان کے گھریلو اخراجات کا 0.47 فیصد بنتا ہے۔
من مانی قیمتیں
بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف مارکیٹ میں ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری جانب دکانداروں کی جانب سے خودساختہ قیمتوں نے بھی اس ضروری پھل کو عوام کی پہنچ سے دور رکھا ہے۔
پشاور کے رہائشی محمد ریحان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پشاور میں آج سرکاری قیمت فی کلو درجہ اول کی 350 روپے ہے، لیکن مارکیٹ میں من مانی قیمتیں وصول کی جاتی ہیں اور آج فی کلو ٹماٹر کی قیمت 400 سے 450 روپے ہے۔
انہوں نے بتایا: ’حکومت کو اس بحران کے وقت قیمتوں پر کنٹرول لانا چاہیے تاکہ دکاندار من مانی قیمتیں وصول نہ کریں۔‘
