’اللہ کو یہی منظور تھا اور اللہ نے ہم سے اپنے گھر کا بڑا چھین لیا لیکن اب اس سے زیادہ غم یہی ہے کہ ان کی لاش چوٹی پر ہے۔ ابھی ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا ہے اور امید ہے کہ ان کا جسد خاکی واپس لایا جائے اور ہمارا غم کچھ تھم جائے۔ ‘
سوات سے تعلق رکھنے والے مقامی کوہ پیما سید علی شاہ باچا کے بھائی سید اقبال شاہ اپنے بھائی کی لاش سوات کی فلک سر چوٹی سے واپس لائے جانے کے منتظر ہیں۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سکردو سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار پورٹرز کو سوات بلایا گیا ہے اور گذشتہ روز وہ فلک سر چوٹی کے لیے روانہ ہوگئے ہیں تاکہ سید علی شاہ کی لاش واپس لا سکیں۔
سید علی شاہ پانچ جولائی کو سوات کی سب سے بلند ترین چوٹی ’فلک سر‘ کو سر کرنے کے مشن پر اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہوئے تھے، جہاں انہیں حادثہ پیش آیا اور ان کی موت ہو گئی۔
اقبال شاہ کے مطابق: ’سکردو ٹیم کے ساتھ سید علی شاہ کے ساتھ فلک سر مشن پر جانے والے سوات کے کوہ پیما بھی موجود ہیں جنہیں سید علی شاہ کی لاش کی جگہ کے حوالے سے معلومات ہیں اور امید ہے کہ ہمیں لاش مل جائے گی۔ ‘
انہوں نے مزید بتایا کہ گھر میں ان کے والدین اور سید علی شاہ کی اہلیہ اور بچوں کو ابھی پتہ نہیں ہے کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ صرف گھر میں بھائیوں کو پتہ ہے۔
بقول اقبال شاہ: ’ہمارے گھر میں خواتین کے پاس سمارٹ فون نہیں ہے تو کسی کو اس حادثے کے بارے میں نہیں پتہ جبکہ ٹی وی کا کنیکشن بھی کاٹ دیا ہے تاکہ ٹی وی سے گھر والوں کو پتہ نہ لگ جائے۔‘
اپر سوات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان سعید اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سید علی شاہ کی لاش واپس لانے کے لیے ان کی اتھارٹی، اپر سوات کی ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ ادارے رابطے میں ہیں اور ریسکیو آپریشن کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ہم سید علی شاہ کے خاندان کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں اور ریسکیو آپریشن کے لیے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو بھی خط لکھ دیا گیا ہے لیکن ہیلی آپریشن کے لیے ابھی موسم سازگار نہیں ہے۔
سعید اللہ نے بتایا: ’زمینی ریسکیو آپریشن کے لیے خاندان کے لوگوں نے سکردو سے تجربہ کار ہائیکرز کو بلایا ہے۔ اس آپریشن میں ہماری جانب سے تمام ممکن مدد فراہم ہوگی اور یہی کوشش ہوگی کہ لاش کو واپس لایا جا سکے۔ ‘
واقعہ کیسے رونما ہوا تھا؟
سید علی شاہ کا تعلق سوات کے علاقے خوازہ خیلہ سے تھا اور پیشے کے لحاظ سے وہ الیکٹریشن تھے لیکن پہاڑوں سے محبت کی وجہ سے وہ ضلع کی مختلف چوٹیوں کو سر کرنے کے مشن پر تھے۔
اس مرتبہ وہ سوات کی سب سے بلند ترین چوٹی ’فلک سر‘ جسے ’منی کے ٹو‘ بھی کہا جاتا ہے اور تقریباً 19 ہزار فٹ کی بلندی پر ہے، کو سر کرنے کے مشن پر اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ پانچ جولائی کو روانہ ہوئے تھے۔
اقبال شاہ کے مطابق سید علی شاہ ٹیم لیڈر تھے، جنہوں نے ٹیم سمیت فلک سر کو سر کیا تھا لیکن واپسی پر ٹیم کو برفانی طوفان نے گھیر لیا تھا اور اسی طوفان کی وجہ سے سید علی شاہ رسی ٹوٹنے کے باعث گر گئے۔
انہوں نے مزید بتایا: ’پہاڑی پر نیچے گہری کھائی میں گرنے کے بعد ان کے ساتھی ان تک پہنچ گئے تھے اور رات شدید طوفان میں گزاری تھی لیکن سید علی شاہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے صبح کے وقت جان سے چلے گئے۔ ‘
سید علی شاہ کے ساتھ مردان سے تعلق رکھنے والے مقامی ٹریکر محمد عباس بھی موجود تھے، جنہوں نے اس حادثے کی تمام تفصیلات سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں۔
محمد عباس کے مطابق ان کی چھ بندوں کی ٹیم پانچ جولائی کو صبح کالام سے چشمہ شفاء کی طرف روانہ ہوئی اور بطور گروپ لیڈر سید علی شاہ لیڈ کلائمبر کے طور پر موجود تھے۔
انہوں نے لکھا: ’سید علی شاہ اور میرا بہت پرانا خواب تھا کہ فلک سر کو سر کرنا ہے۔ ہم دونوں نے پہلی مرتبہ 2021 میں پلان بنایا تھا لیکن اس وقت سید علی شاہ کسی اور گروپ کے ساتھ چلے گئے تھے اور میرا بھی خواب ادھورا رہ گیا تھا۔‘
عباس کے مطابق: ’چشمہ شفاء سے ہم نے اپنا سفر شروع کیا اور آبشاروں کے ساتھ اپنا پہلا کیمپ قائم کیا۔ اگلے دن ہم نے ایڈوانس بیس کیمپ اسٹیبلش کیا۔ ایڈوانس بیس کیمپ سے اگلا سفر گلیشیئرز سے شروع ہوتا ہے اور انتہائی ٹیکنیکل اور مشکل آئس کلائمبنگ جیسا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اگلا کیمپ ہم نے گلیشیئر پر لگایا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’اگلے دن ہم بہت لیٹ ہو گئے اور تقریباً ایک بجے کیمپ سے نکلے اور پانچ ہزار میٹر پر کیمپ لگایا جبکہ اگلا کیمپ ہم نے 5380 میٹر پر اسٹیبلش کیا۔ یہ ہمارا آخری کیمپ تھا جہاں سے ہم نے سمٹ پش کرنا تھا۔‘
بقول عباس: ’جمعے کا دن ہم نے سمٹ پش کے لیے موزوں رکھا کیونکہ اس دن موسم ٹھیک تھا۔ ہم بہت پرسکون طریقے سے شام کو سمٹ تک پہنچے۔ سمٹ کی رات ہم میں سے کوئی بھی سو نہیں سکا۔ ٹھنڈ حد سے زیادہ تھی اور ساری رات ہم گپ شپ کرتے رہے۔‘
حادثے کے حوالے سے عباس نے لکھا کہ اگلے دن 11 جولائی کو ہم نے سمٹ پر تصویریں اور ویڈیوز بنائیں اور تقریباً 10 بجے واپسی شروع کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’واپسی پر سمٹ سے 400 فٹ نیچے آنے پر آہستہ آہستہ طوفان شروع ہو گیا اور بجلی بھی چمکنے لگی۔ ہمارے میٹل کے سازوسامان جیسے کہ آئس ایکس وغیرہ سے اترائی (ڈیسینڈ) مشکل ہوتی جا رہی تھی اور طوفان زور پکڑ رہا تھا۔ سید علی شاہ ہم سب کو نیچے اتارتے اور خود آہستہ آہستہ ہمارے پیچھے اترتے تھے۔ ‘
عباس کے مطابق: ’جب ہم نے راکی پورشن کا آدھا حصہ ڈیسینڈ کیا تو سید علی شاہ کا پاؤں پھسل گیا یا شاید آئس ایکس سلپ ہونے کی وجہ سے وہ نیچے گر گئے اور ہمیں احساس ہو گیا کہ کوئی چیز نیچے گری ہے، شاید میاں صاحب یا شاید ان کا بیگ وغیرہ۔
’رسی بہت ٹائٹ تھی جس سے معلوم ہوتا تھا کہ میاں صاحب ہی ہوں گے۔ میں نے دوسرا آئس سکرو فٹ کیا اور ایک دوسری رسی بھی تاکہ ڈیسینڈ کر سکوں اور دیکھوں کیا حالت ہے، دیکھا تو سید علی شاہ گر گئے تھے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’سید علی شاہ ہوش میں تھے لیکن کچھ یاد نہیں تھا۔ وہ مجھ سے مخاطب ہوئے کہ میں کون ہوں، تم کون ہو اور یہ کون سی جگہ ہے، مجھے بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے، تو میں نے اپنی یلو جیکٹ نکال کر پہنائی، اپنے دستانے پہنائے اور کہا کہ میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں۔ ‘
عباس نے بتایا کہ ’ہم نے ساری رات سید علی شاہ کے ساتھ گزاری۔ وہ ساری رات ہم سے باتیں بھی کرتے رہے۔ صبح ہوتے ہی طوفان بہت تیز ہو گیا اور اس دوران وہ جان سے چلے گئے۔‘
انہوں نے مزید بتایا: ’ہم نے اپنی جانیں بچانے کے لیے نیچے ڈیسینڈ شروع کیا۔ اس طوفان میں سید علی شاہ کی لاش کو نیچے لانا ممکن نہیں تھا۔ ہم میں سے ایک ساتھی یہ صورت حال دیکھ کر گویا مفلوج سا ہو گیا۔ باقی کے پانچ دن ہم نے اس ساتھی کو نیچے اتارا اور خود صرف پانی پر پانچ دن گزارے کیونکہ ہمارے پاس بیوٹین سلنڈر صرف دو بچے تھے۔ عام طور پر یہ ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں، لیکن اس مشکل وقت میں جب ہمارے ساتھ ایک بیمار دوست بھی تھا تو ہمیں زیادہ کیمپ لگانے پڑے۔ ‘
