بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 10 عسکریت پسند مارے گئے: پاکستان فوج

پاکستان فوج نے بدھ کو کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں علیحدہ علیحدہ انٹیلی جنس بنیادوں پر ہونے والی کارروائیوں میں 10 عسکریت پسند مارے گئے۔

 پاکستانی سکیورٹی فورسز کے رواں ماہ شروع کیے گئے آپریشن شعبان کے تحت مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی تعداد 139 ہو گئی ہے۔

آپریشن شعبان 5 جولائی کو فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس کی جانب سے مشترکہ طور پر شروع کیا گیا تھا۔

یہ کارروائی بلوچستان میں عسکریت پسند حملوں کی ایک لہر کے بعد شروع کی گئی، جو پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا لیکن آبادی اور ترقی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔

یہ علاقہ کئی دہائیوں سے علیحدگی پسند شورش کا مرکز رہا ہے، جہاں عسکریت پسند گروہ سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے اور معدنیات کے منصوبوں میں شامل چینی مفادات کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

صوبے میں داعش کی علاقائی شاخ کی جانب سے ذمہ داری قبول کیے جانے والے حملے بھی دیکھے گئے ہیں۔

 آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا کہ سکیورٹی فورسز نے گذشتہ دو روز کے دوران ضلع سوراب اور مستونگ میں متعدد انٹیلی جنس بنیادوں پر سرچ اور ٹارگٹڈ کارروائیاں کیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں کہا گیا کہ ’ان کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ضلع سوراب میں سات دہشت گرد مارے گئے۔‘

مزید کہا گیا کہ ’ضلع مستونگ میں تین دہشت گرد مارے گئے جبکہ انڈین سرپرستی میں کام کرنے والی فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والی دو خاتون خودکش بمباروں اور ایک سہولت کار کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔‘

بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا۔

آئی ایس پر آر نے کہا کہ علاقے میں موجود کسی بھی باقی ماندہ عسکریت پسند یا ان کے سہولت کاروں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز جاری ہیں۔

پاکستان متعدد بار انڈیا پر بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کا الزام عائد کر چکا ہے، تاہم نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *