پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ صرف توانائی کا بحران، بلند شرح سود یا بیوروکریسی نہیں بلکہ پالیسیوں کے تسلسل کا فقدان ہے۔
سرمایہ کاری صرف سرمایہ نہیں ہوتی، یہ اعتماد کا دوسرا نام ہے۔ گذشتہ چند برسوں سے حکومت ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کو پاکستان کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کا مستقبل قرار دے رہی تھی اور اس حوالے سے پالیسیز بنائی گئیں۔
اسی پالیسی کے نتیجے میں دس سے زیادہ مقامی اور بین الاقوامی آٹو کمپنیوں نے پاکستان میں نئی سرمایہ کاری کی۔ اسمبلنگ لائنوں کو اپ گریڈ کیا، تکنیکی عملے کی تربیت پر سرمایہ خرچ کیا اور ڈیلر نیٹ ورکس کو جدید بنایا۔ سال 2020 سے 2026 تک مجموعی سرمایہ کاری تقریبا 100ارب روپے سے زیادہ ہو چکی ہے۔
لیکن مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں حکومت نے ہائبرڈ اور پی ایچ ای وی گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس 8.5 سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا۔ یعنی ٹیکس کی شرح میں تقریباً تین گنا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے فنانس ایکٹ 2021 کے ذریعے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 میں ترمیم کر کے پاکستان میں تیار ہونے والی ہائبرڈ اور دیگر نئی توانائی کی گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی ٹیکس رعایت متعارف کرائی تھی۔ اس پالیسی کے تحت 1800 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح صرف 8.5 فیصد جبکہ 1800 سے 2500 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75 فیصد مقرر کی گئی تھی۔ تاہم یہ رعایت 30 جون 2026 کو ختم ہو گئی ہے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں کئی ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کا اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین کی طلب متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اس وقت فل ہائبرڈ، پلگ اِن ہائبرڈ، اور مائلڈ ہائبرڈ سمیت تقریباً 10 سے 15 نمایاں ماڈلز مارکیٹ میں موجود ہیں۔لیکن نئے ٹیکسز لگنے کے بعد مارکیٹ میں کسٹمرز کی تعداد میں کمی رپورٹ کی جا رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر حکومت چند سال پہلے ہائبرڈ گاڑیوں کو مستقبل قرار دے رہی تھی تو آج اچانک انہیں اضافی ٹیکسوں کے بوجھ تلے کیوں لایا جا رہا ہے؟ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ سرمایہ کار اس صورت حال سے کیا پیغام حاصل کریں گے؟
وہ سرمایہ کار جو حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کرتے ہوئے پاکستان آئے تھے، اب حیرت سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ آخر چند برسوں میں ایسا کیا بدل گیا؟
سو ارب روپے کی سرمایہ کاری پاکستان کے لیے اہم ہے۔ گو کہ توانائی، ٹیلی کام اور سیمنٹ کے شعبوں میں اس سے زیادہ سرمایہ کاری ہوئی ہے لیکن ہائبرڈ گاڑیوں کا شعبہ ایک ابھرتی ہوئی صنعت ہے جس میں سرمایہ کاری گذشتہ صرف پانچ سے چھ سال کے دوران ہوئی ہے۔
صرف بی وائے ڈی 15کروڑ ڈالر کا پلانٹ لگا رہی ہے۔ ٹویوٹا تقریبا دس کروڑ ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ اگر ایم جی، ہنڈائی، جیکو، چیری، کیا، ہیول اور دیگر برانڈز کی پلانٹس، سی کے ڈی آپریشنز، شورومز اور سپلائی چین کی سرمایہ کاری شامل کی جائے تو یہ رقم مستقبل میں تقریبا 700 ملین ڈالر (تقریباً 198 ارب) روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسے مرحلے پر جب صنعت ابھی ترقی کر رہی ہو، پالیسی میں اچانک تبدیلیاں منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، لیکن الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی صنعت کے لیے زیادہ تر مراعات برقرار رکھی گئی ہیں۔ البتہ لگژری درآمدی الیکٹرک گاڑیوں کو پہلی مرتبہ 30 سے 40 فیصد ایف ای ڈی کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں لایا گیا ہے۔
مسئلہ صرف ہائبرڈ گاڑیوں پر 25 فیصد سیلز ٹیکس نہیں بلکہ اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکومت پانچ سالہ آٹو پالیسی 2026-31 بروقت متعارف کرانے میں ناکام رہی ہے اور ابھی تک پرانی پالیسی چل رہی ہے۔
جس کی وجہ سے سرمایہ کار یہ نہیں جانتے کہ اگلے پانچ سال میں درآمدی ڈیوٹیز، لوکلائزیشن پالیسی، ای وی مراعات اور ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس کیا ہوگا۔
اگرچہ حکومت نے ہائبرڈ گاڑیوں پر 25 فیصد سیلز ٹیکس میں کمی کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا، تاہم آٹو انڈسٹری کو توقع ہے کہ حکومت اس فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔
یہی وجہ ہے کہ بعض اسمبلرز قیمتوں اور سپلائی کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ لیکن سرکار کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ آٹو موبیل سیکٹر سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔
ایسے حالات میں نئی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے فیصلے مشکل ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے منصوبے 5 سے 10 سال کے افق پر ہوتے ہیں۔ مقامی و غیر ملکی آٹو پارٹس مینوفیکچررز نئی فیکٹریوں اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری مؤخر کر دیتے ہیں
پاکستان پہلے ہی سرمایہ کاری کے شدید بحران کا شکار ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں مجموعی سرمایہ کاری جی ڈی پی کے صرف تقریباً 14 فیصد کے برابر ہے، جبکہ تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے یہ شرح کم از کم 25 سے 30 فیصد ہونی چاہیے۔ اسی طرح جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کو صرف 1.62 ارب ڈالر کی خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل ہوئی، جو 400 ارب ڈالر سے زائد حجم کی معیشت کے لیے انتہائی محدود ہے۔
دنیا کی کامیاب معیشتوں نے سرمایہ کاروں کو صرف مراعات نہیں دیں بلکہ پالیسیوں کا تسلسل بھی فراہم کیا ہے۔ چین، ویتنام، ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کار اس لیے اربوں ڈالر لگاتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ حکومت قواعد و ضوابط کو اچانک تبدیل نہیں کرے گی۔ یہ ہی اعتماد سرمایہ کاری کو جنم دیتا ہے اور یہی اعتماد صنعت، برآمدات اور روزگار میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں قوانین مستحکم ہوں، پالیسیوں میں پیش گوئی ممکن ہو اور سرکار کے وعدے وقت کی دھول میں گم نہ ہوں۔ پاکستان کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، لیکن سرمایہ کاری کو پاکستان پر اعتماد کی ضرورت ہے۔
