پشاور کے خزانہ کیمپ میں مقیم افغان پناہ گزین ان دنوں وطن واپسی کے لیے صرف سامان ہی نہیں سمیٹ رہے بلکہ کئی خاندان اپنے ہاتھوں سے اپنے گھر بھی گرا رہے ہیں۔
کئی گھروں کی چھتیں اتاری جا چکی ہیں۔ دروازے اور کھڑکیاں نکال لی گئی ہیں جبکہ بعض جگہوں پر صرف اینٹوں کے ڈھیر باقی رہ گئے ہیں۔
یہ وہ مکانات ہیں جنہیں افغان پناہ گزین خاندانوں نے گذشتہ چار سے پانچ دہائیوں کے دوران اپنی محنت اور روزگار سے حاصل ہونے والی آمدن سے تعمیر کیا تھا۔
پشاور کا خزانہ کیمپ تقریباً 45 برس پہلے افغان پناہ گزینوں کی آبادکاری کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہاں خیموں کی جگہ مستقل رہائش نے لے لی اور مقامی افراد کے مطابق 850 سے زائد خاندانوں نے اپنے لیے گھر تعمیر کیے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق پاکستان میں اس وقت 16 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ افغان پناہ گزین موجود ہیں جبکہ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد مزید تقریباً چھ لاکھ افغان شہری پاکستان منتقل ہوئے۔
خزانہ کیمپ بھی ان بستیوں میں شامل رہا جہاں بعض خاندانوں کی دوسری اور تیسری نسل نے آنکھ کھولی۔
’ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہاں سے جانا پڑے گا‘
26 سالہ حضرت ولی انہی لوگوں میں شامل ہیں جن کی پیدائش اسی کیمپ میں ہوئی۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’میری پیدائش اسی خزانہ کیمپ میں ہوئی۔ جب سے ہوش سنبھالا، والدین کہتے تھے کہ ہمارا ملک افغانستان ہے، لیکن ہم نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ ہم کسی پرائے ملک میں رہ رہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دونوں کو اپنا ہی سمجھتے تھے۔‘
حضرت ولی کے مطابق ان کے خاندان سمیت بہت سے افغان پناہ گزینوں نے برسوں کی محنت سے اپنے گھر تعمیر کیے تھے۔
بقول حضرت ولی: ’ان گھروں پر چار پانچ لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے لیکن اب اینٹیں ہم اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتے۔ مجبوری میں انہیں بہت کم قیمت پر بیچنا پڑا جبکہ لکڑی اور دوسرے سامان کو ساتھ لے جا رہے ہیں تاکہ دوبارہ استعمال کر سکیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کیمپ میں اب چند ہی خاندان باقی رہ گئے ہیں۔
’ہمارے بہت سے لوگ ناراضگی اور دکھ کے ساتھ یہاں سے گئے ہیں۔ کچھ ایسے بھی تھے جن کے پاس سفر کا خرچ تک نہیں تھا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خزانہ کیمپ کے قریب رہنے والے صفت اقبال اس علاقے کو افغان پناہ گزینوں کی آمد سے پہلے سے جانتے ہیں۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے والد اور چچا کا یہاں لکڑی کا گودام تھا اور افغانستان سے لکڑی آیا کرتی تھی۔ افغان پناہ گزینوں کی آمد کے بعد یہ علاقہ ایک باقاعدہ آبادی میں تبدیل ہو گیا۔
صفت اقبال نے بتایا: ’جو لوگ اس زمانے میں یہاں آئے تھے، ان میں سے زیادہ تر اب وفات پا چکے ہیں۔ ان کے بچوں اور پوتوں نے یہیں پرورش پائی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ یہ گھر برسوں کی محنت کا نتیجہ تھے۔ ’کسی نے منڈی میں مزدوری کی، کسی نے دیہاڑی لگا کر پیسے جمع کیے اور پھر اپنے لیے چھوٹا سا گھر بنایا۔ آج وہی لوگ جاتے ہوئے انہی گھروں کو خود گرا رہے ہیں۔‘
خزانہ کیمپ میں اب پہلے جیسی رونق نہیں رہی۔ جہاں کبھی سینکڑوں خاندان آباد تھے، وہاں اب بہت سے گھر خالی ہیں یا ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
حضرت ولی کہتے ہیں کہ ان کے لیے سب سے مشکل چیز گھر نہیں بلکہ وہ زندگی ہے جو اس بستی کے ساتھ جڑی رہی۔
’ہم یہاں پیدا ہوئے، یہیں بڑے ہوئے، ہمارے دوست، ہماری یادیں سب یہیں ہیں۔ اب افغانستان جا کر زندگی نئے سرے سے شروع کرنی ہوگی۔‘
