’ضرورت کے تحت سورج کی روشنی‘ کے لیے خلا میں دیوہیکل آئینے کی منظوری

امریکہ کے وفاقی مواصلاتی کمیشن (ایف سی سی) نے ماہرین فلکیات، عوامی مخالفت اور حقیقی حفاظتی خدشات کے باوجود ایک ایسے دیوہیکل آئینے کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد ’ضرورت کے مطابق سورج کی روشنی‘ فراہم کرنا ہے۔

ایف سی سی نے کمپنی ریفلیکٹ آربیٹل کو Earendil-1 نامی ایک سیٹلائٹ کے تجربے کی اجازت دی ہے، جس کا مقصد سورج کی روشنی کو زمین کی طرف منعکس کر کے اضافی شمسی توانائی اور وسیع پیمانے پر روشنی فراہم کرنا ہے۔

توقع ہے اس روشنی کا دائرہ تقریباً پانچ کلومیٹر چوڑا ہوگا جبکہ سیٹلائٹ کو ہر چار منٹ بعد دوبارہ سمت دینا پڑے گی۔

یہ تو محض آغاز ہے۔ ریفلیکٹ آربیٹل کا منصوبہ ہے کہ 2035 تک اس کے 50 ہزار سے زائد سیٹلائٹس مدار میں موجود ہوں، جنہیں کمپنی کے مطابق زراعت، ہنگامی امدادی کارروائیوں اور دیگر صنعتی شعبوں میں استعمال کیا جائے گا۔

منصوبے سے کئی سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں، جن میں انسانی صحت اور حفاظت، فلکیات اور زمین کے نچلے مدار پر اس کے اثرات شامل ہیں۔

آئینوں کی سمت تبدیل کرتے وقت پیدا ہونے والی روشنی کی چمک پائلٹس اور ڈرائیوروں کی توجہ بٹا سکتی ہے۔

یہ روشنی پودوں، جانوروں اور انسانوں کی حیاتیاتی گھڑی (Circadian Rhythm) کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

اسی طرح تحقیقی دوربینوں میں نصب حساس سینسرز اور کم بلندی پر گردش کرنے والے سیٹلائٹس کے ستاروں کو شناخت کرنے والے کیمرے شدید روشنی کے باعث ناکارہ بھی ہو سکتے ہیں۔

ایف سی سی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریکارڈ پر موجود خدشات، جن میں ریفلیکٹ آربیٹل کے شمسی عکاس (Solar Reflector) سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ذکر ہے، ان کا تعلق ریڈیو فریکوئنسی سپیکٹرم کے استعمال کی منظوری دینے میں کمیشن کے کردار سے نہیں۔

’خلائی دنیا کی عجیب و غریب چیزیں‘

زمین کے نچلے مدار میں ’ابھرتی ہوئی خلائی سرگرمیوں‘ سے متعلق سیٹلائٹ منصوبے روز بروز زیادہ غیر معمولی ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ تجاویز اس قدر عجیب ہو چکی ہیں کہ ایف سی سی نے حال ہی میں ’Spectrum Abundance for Weird Space Stuff‘ کے عنوان سے ایک دستاویز بھی جاری کی۔

اس دستاویز میں کہا گیا ہے ’جو چیز کبھی صرف سائنس فکشن کا حصہ سمجھی جاتی تھی، آج امریکی کمپنیاں سیٹلائٹس کو اپ گریڈ، منتقل اور ان کی مرمت کر رہی ہیں، خلا میں ادویات تیار کر رہی ہیں، نجی رہائشی خلائی جہاز بنا رہی ہیں اور چاند کی سطح پر نجی روبوٹک مشن بھیج رہی ہیں۔‘

اس کے علاوہ مدار میں لاکھوں مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا مراکز قائم کرنے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔

مختلف کمپنیاں بظاہر ہر ایسی چیز خلا میں بھیجنے کی دوڑ میں شامل ہیں جو سرمایہ کاروں کو سرمایہ لگانے پر آمادہ کر سکے، جن میں خلائی اشتہارات، ارب پتی افراد کے لیے خلائی ہوٹل، مصنوعی شہابی بارشیں، راکھ کو خلا میں دفنانا، ڈیٹا مراکز کو توانائی فراہم کرنے کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والی انفرا ریڈ شعاعیں اور مختلف اقسام کے مداری میزائل شامل ہیں۔

’خلائی دنیا کی عجیب و غریب چیزیں‘ کی اصطلاح غیر معمولی حد تک حقیقت پسندانہ معلوم ہوتی ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے؟

سپیس ایکس کا مدار پر غلبہ

اس وقت ہمارے سروں کے اوپر تقریباً 11 ہزار سپیس ایکس سٹار لنک سیٹلائٹس زمین کے نچلے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔

جو بھی ادارہ اس مدار میں کوئی نیا سیٹلائٹ بھیجنا چاہتا ہے، اسے سپیس ایکس کی سرگرمیوں کو مدنظر رکھنا یا براہ راست اس سے رابطہ اور ہم آہنگی کرنا پڑتی ہے۔

بصورت دیگر تصادم کا خطرہ موجود رہتا ہے، جیسا کہ دسمبر 2025 میں ایک سٹارلنک اور ایک چینی سیٹلائٹ کے درمیان ہونے والا قریب الوقوع حادثہ ظاہر کرتا ہے۔

حتیٰ کہ 2022 میں Artemis I اور 2026 میں Artemis II کی لانچنگ کے دوران مخصوص اوقات میں پرواز روکنی پڑی تاکہ سٹارلنک سمیت دیگر سیٹلائٹس سے بچا جا سکے۔

ہم آہنگی یقیناً اچھی بات ہے لیکن اگر یہ صرف اس وجہ سے ضروری ہو جائے کہ ایک ہی کمپنی نے مؤثر طور پر زمین کے نچلے مدار پر غلبہ حاصل کر لیا ہے تو یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔

1967 کے Outer Space Treaty، جس پر امریکہ، چین، روس سمیت 100 سے زائد ممالک نے دستخط کر رکھے ہیں، میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’بیرونی خلا کسی بھی ملک کی ملکیت نہیں بن سکتا، نہ خودمختاری کے دعوے، نہ استعمال اور نہ ہی قبضے کے ذریعے۔‘

اب یہ سوال عملی طور پر زیر آزمائش ہے کہ آیا سپیس ایکس کی جانب سے زمین کے مدار کا وسیع استعمال اس اصول کی خلاف ورزی کرتا ہے یا نہیں۔

نقل پر مبنی میگا سیٹلائٹ منصوبے

فروری میں سپیس ایکس نے ایف سی سی کے پاس مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا مراکز کے لیے مزید 10 لاکھ سیٹلائٹس بھیجنے کی درخواست جمع کرائی۔

10 لاکھ۔ یہ تعداد اب تک پوری انسانی تاریخ میں خلا میں بھیجے گئے تمام سیٹلائٹس سے تقریباً 40 گنا زیادہ ہے اور وہ بھی ایک ہی میگا سیٹلائٹ نیٹ ورک کے لیے، جس کی ٹیکنالوجی ابھی تک آزمودہ بھی نہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ خلا میں مؤثر طریقے سے کام کر سکے گی یا نہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ ایف سی سی نے اس درخواست کو انتہائی تیزی سے قبول بھی کر لیا۔

اس کے بعد دنیا بھر کے سائنس دانوں کو صرف 30 دن دیے گئے تاکہ وہ ان سیٹلائٹس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے سکیں جبکہ ان کے وزن، حجم، ساخت اور مداری تقسیم سے متعلق معلومات انتہائی محدود تھیں۔

یہ مضمون لکھے جانے تک حریف کمپنیاں بھی اسی طرز کے چار مزید اے آئی ڈیٹا سینٹر منصوبے جمع کرائے جا چکی ہیں، جن میں ہر ایک کے لیے دسیوں ہزار سیٹلائٹس تجویز کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ سپیس ایکس نے ان 10 لاکھ اے آئی ڈیٹا سینٹر سیٹلائٹس سے رابطے کے لیے مزید ایک لاکھ سیٹلائٹس بھیجنے کی تجویز دی ہے۔

خلا سے شمسی توانائی

امریکی وفاقی مواصلاتی کمیشن کا قیام اصل میں ریڈیو نشریات کو منظم کرنے کے لیے عمل میں آیا تھا لیکن اب اسے ایسے معاملات پر بھی فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں جن کا ریڈیو سے کوئی تعلق نہیں، مثلاً مداری حفاظت، حالانکہ ممکن ہے اس کے پاس اس شعبے کی مطلوبہ مہارت موجود نہ ہو۔

زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ اس نوعیت کی جانچ کا کچھ حصہ امریکی دفتر برائے خلائی تجارت (U.S. Office of Space Commerce) کو منتقل کر دیا جائے لیکن حالیہ بجٹ کٹوتیوں نے یہ امکان بھی تقریباً ختم کر دیا۔

اسی وجہ سے ایف سی سی کو جلد ہی سیٹلائٹس سے متعلق انتہائی پیچیدہ منصوبوں پر فیصلے کرنا ہوں گے، جن میں خلا سے شمسی توانائی حاصل کرنے کی متعدد تجاویز بھی شامل ہیں۔

ان میں سے ایک تجویز یہ ہے کہ خلا میں جمع کی گئی شمسی توانائی کو انتہائی طاقتور شعاعوں کے ذریعے زمین پر بھیجا جائے۔

ایسی شعاعیں فضائی کیمیائی ساخت کو تبدیل کر سکتی ہیں اور ان کے راستے میں آنے والے پرندوں اور دیگر جنگلی حیات کو ہلاک کر سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ ان شعاعوں کو وصول کرنے والے زمینی مراکز کے گرد ہوائی جہازوں اور کم بلندی پر گردش کرنے والے سیٹلائٹس (مثلاً وہ مدار جن کے لیے سپیس ایکس نے مزید ایک لاکھ سٹارلنک سیٹلائٹس کی درخواست دی ہے) کے لیے پرواز ممنوعہ علاقے بھی قائم کرنا پڑیں گے۔

ماحولیاتی قیمت

اگرچہ ان میں سے بہت سے منصوبے خود کو صاف توانائی پیدا کرنے یا خلا میں توانائی جمع کرنے کے ذریعے ماحولیاتی مسائل کا حل قرار دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایک طرح کی گرین واشنگ ہیں۔

شمسی توانائی اسی صورت واقعی صاف کہلائی جا سکتی ہے جب سیٹلائٹس کی تیاری، لانچنگ، دیکھ بھال اور آخرکار زمین کی فضا میں جل کر ختم ہونے سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی اثرات کو نظر انداز کر دیا جائے۔

ان تمام منصوبوں کے روزمرہ آپریشنز ماحول پر بہت بڑے اثرات مرتب کریں گے۔

کچھ کمپنیاں مدار سے خلائی ملبہ ہٹانے کے منصوبوں کا تجربہ بھی کر چکی ہیں۔ یہ کام Kessler Syndrome یعنی تصادم کے نہ رکنے والے سلسلے سے بچنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ مدار سے ہٹایا گیا یہ ملبہ آخر جائے گا کہاں؟

وہ زمین کی فضا میں داخل ہو کر جلنے کے دوران دھاتی ذرات چھوڑے گا اور ممکن ہے اس کا کچھ حصہ زمین کی سطح تک بھی پہنچ جائے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس سے ہونے والے ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔

پوری انسانیت کے لیے

اس وقت زمین کے مدار میں موجود زیادہ تر سیٹلائٹس امریکی ہیں جبکہ ان کی نگرانی کرنے والا بنیادی وفاقی ادارہ اس مقصد کے لیے مکمل طور پر موزوں نہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اگرچہ بیرونی خلا بظاہر لامحدود ہے لیکن زمین کا نچلا مدار ہرگز ایسا نہیں۔

سیٹلائٹس تقریباً ہر 90 منٹ بعد زمین کا ایک چکر مکمل کرتے ہیں، جس کے باعث مدار میں موجود دو اجسام کے درمیان تصادم کا امکان خاصا زیادہ رہتا ہے۔

گذشتہ چند برسوں میں بے شمار سیٹلائٹس اور راکٹوں کے حصے زمین کی فضا میں جل چکے ہیں، جس سے فضا کی ساخت میں قابلِ پیمائش تبدیلیاں آ چکی ہیں۔

ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ہزاروں سیٹلائٹس کو مسلسل زمین کی فضا میں جلا کر ختم کیا جاتا رہا تو اس کے اوزون کی تہہ اور فضائی کیمیائی ساخت پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

اسی طرح خلائی آئینوں، شمسی بادبانوں اور مداری ملبے سے آسمان کی روشنی میں اضافے جیسے منصوبے فلکیات کے لیے بھی سنگین خطرہ بن رہے ہیں۔

اختراع کا چیلنج

ہم یہاں سیٹلائٹس کی مخالفت نہیں کر رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ سائنس اور معاشرے کو بے شمار مفید خدمات فراہم کرتے ہیں لیکن ہر سیٹلائٹ کے ساتھ ایک قیمت بھی وابستہ ہوتی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

بالآخر یہ ایک انجینیئرنگ اور اختراع کا چیلنج ہے۔ کسی بھی ماحول میں بے لگام ترقی اور بے دریغ استعمال سنگین نتائج پیدا کرتا ہے، جن میں ان سرگرمیوں کی طویل المدتی پائیداری بھی شامل ہے جو اسی ماحول پر انحصار کرتی ہیں۔

اگر ہم مستقبل میں بھی زمین کے مدار میں سیٹلائٹس کا مؤثر استعمال جاری رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں کم وسائل استعمال کرتے ہوئے زیادہ بہتر نتائج حاصل کرنے کی انجینیئرنگ صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔

مصنف: Samantha Lawler The Conversation & Aaron Boley


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *