سیکشن 295، ممکن ہوا تو پاکستان میں زیر التوا کیسز کا دوبارہ جائزہ لیں گے: چیئرپرسن سینیٹ کمیٹی

بدھ کو پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چئیرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سیکشن 295 کے تحت دائر کیسز پر کہا ہے کہ ممکن ہو سکا تو ملک بھر کے ’زیر التوا کیسز کا دوبارہ جائزہ لے کر ان کی ازسرنو تحقیقات کرائی جائیں گی تاکہ پتہ چل سکے کہ جھوٹے کیسز کتنے ہیں اور اصلی کون سے۔‘

اسلام آباد میں انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے چئیرپرسن کمیٹی سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا ہے کہ ملک بھر کی جیلوں، چاروں صوبوں اور اسلام آباد، میں موجود تمام کیسز کی تفصیلات پر نظر ثانی کی کوشش کی جائے گی، اور ممکن ہو سکے تو ان کیسز کی دوبارہ تحقیقات بھی کروائی جائیں گی۔ 

سینیٹ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں آج پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق پچھلے پانچ سال میں صوبہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں سیکشن 295 کے تحت 364 کیسز دائر کیے گئے۔

چیئرپرسن کمیٹی نے مزید کہا کہ ’بدقسمتی سے اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ گھریلو یا ذاتی تنازعات کی بنیاد پر بھی ایسے مقدمات درج کرا دیے جاتے ہیں، جبکہ بعض اوقات کمیونٹی کے اندر کے اختلافات بھی اس کی وجہ بنتے ہیں۔

’یقینا بہت سے مقدمات حقیقی بھی ہوتے ہوں گے، لیکن اس طرح کے کیسز کے بارے میں جاننا اور ان کی حقیقت کا تعین کرنا ضروری ہے۔‘

صوبہ سندھ کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل انسپیکٹر جنرل (آئی جی) سندھ آصف احمد نے بتایا کہ سیکشن 295 سی کے تحت گذشتہ پانچ سالوں میں 29 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ سیکشن 295 بی کے تحت 96 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس طرح صوبہ سندھ سے بلاسفیمی کے کل 125 کیسز رپورٹ ہوئے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایڈیشنل آئی جی نے کمیٹی کو بتایا کہ ’جعلی توہین مذہب کے مقدمات کے پیچھے وجوہات میں یہ بات بھی سامنے آئی جہاں سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر کسی اور کے نام سے پوسٹس لگائی گئیں۔ اس ضمن میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے بھی معاونت لی جا رہی ہے۔‘

صوبہ پنجاب کے انسپیکٹر جنرل آف پولیس شہزادہ سلطان نے بتایا کہ گذشتہ پانچ سالوں میں پنجاب سے 116 بلاسفیمی کیسز رپورٹ ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ان کیسز میں سے 86 فیصد کیسز مسلمان افراد کے خلاف رپورٹ ہوئے جبکہ 14 فیصد کیسز غیر مسلم افراد کے خلاف رپورٹ ہوئے۔

فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بلوچستان سے گذشتہ پانچ سالوں میں 28 کیسز رپورٹ کیے گئے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا سے بلاسفیمی کے کم از کم 95 سے زائد کیسز کی رپورٹ سامنے آئی۔

اجلاس کے اختتام پر چیئرپرسن کمیٹی ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ’اگلا اجلاس ان کیمرہ رکھا گیا ہے تاکہ اس معاملے کو درست طریقے سے زیر غور لایا جا سکے۔ اس ضمن میں کمیٹی نے ملک بھر سے جعلی توہین مذہب کے کیسز کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *