امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ ایران سے جنگ کے خاتمے کے لیے کی گئی مفاہمتی یادداشت ختم ہو گئی ہے۔
صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ وہ تہران کے ساتھ بات نہیں کرنا چاہتے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صحافیوں سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ایران کو ’ذہنی بیمار‘ قرار دیا۔
ان سے جب سیزفائر کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک میرا تعلق ہے تو وہ ختم ہو چکی ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ان سے (ایران) بات کرنا وقت کا ضیاع ہے۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد منگل کو ایران میں 80 سے زائد اہداف پر حملے کیے ہیں۔
ان حملوں کے جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق انہوں نے بھی بدھ کو بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
امریکہ اور ایران کی ان حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں کشیدگی میں شدید اضافہ ہوگیا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو کہا کہ انہوں نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں پر حملوں کے جواب میں ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کے بعد کی گئی۔
