پاکستان میں پولیس والے بیچارے کے بیچارے ہی رہے۔ ان کو سیاست دان، بااثر وڈیرے، طاقتور حلقوں، بڑے بھائیوں، مشہور ٹک ٹاکروں یہاں تک کہ ان تمام افراد کے اہل خانہ تک کا پریشر برداشت کرنا پڑتا ہے۔
یہ گلی گلی جاتے ہیں اور ٹکے ٹکے کے وارداتیوں سے انہیں کٹ حجتی کرنا پڑتی ہے۔ جس کسی کے پاس بھی تھوڑا سا پیسہ، اثر ورسوخ یا تعلقات ہیں پولیس والوں کو ان کی سننا پڑتی ہے۔
جرم سے متاثرہ افراد جرائم کا سارا قصور پولیس پہ ڈالتے ہیں۔ قتل ہو جائے تو مقتول کے گھر والے پولیس کے خلاف ہی سراپا احتجاج ہوتے ہیں۔ میڈیا والے تو جیسے پولیس والوں کو کچھ سمجھتے ہی نہیں، یہ وہ مقدس گائے نہیں جو تنقید سے مبرا ہوں۔ پولیس والوں کی کارکردگی پہ سوال ہو تو بیوروکریٹ بابو انہیں معطل کر دیتے ہیں۔ اور اگر اپنا فرض نبھاتے ہوئے یہ جان سے چلے جائیں تو بھی واہ واہ کے وہ ٹوکرے ان کے حصے میں نہیں آتے جن کے یہ حق دار ہوتے ہیں۔
پہلے ان سے مضحکہ خیز جھوٹی ایف آئی آر لکھوائی جاتی تھیں، ایسے ایسے چھاپے مروائے جاتے تھے کہ زیر زمین پانی کی ٹینکی سے پورے کا پورا راکٹ لانچنگ سسٹم برآمد ہو جاتا کرتا تھا۔ نوے کی دہائی کے کراچی میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے عسکری ونگ ہوا کرتے تھے۔ سیاسی مسائل بڑھتے بڑھتے امن و امان کا چیلنج بن گئے تھے۔ تب بھی نظام کا گند سمیٹنے کی ذمہ داری پولیس والوں کو دی گئی تھی۔
نوے کی دہائی میں جب ریاست نے سیاسی عسکریت پسندوں سے نمٹنے کی ٹھانی تو طریقہ کار ایسا رکھا گیا کہ خود پولیس والے اور وارداتیے گڈ مڈ ہو گئے۔ پولیس جعلی مقابلے کر کے ملزم مار دیتی جواب میں اپنے بندے کے مرنے کا بدلہ عسکریت پسند مزید بندے مار کر لیتے۔ قتل و غارت گری کی ایسی ہوا چل نکلی تھی کہ سمجھ نہیں آتا تھا واردات کی پلاننگ تھانے میں ہوئی یا عسکریت پسند کے عقوبت خانے میں!
جعلی پولیس مقابلے کا وہ دور ختم ہوا تو اب گذشتہ کچھ ماہ سے پاکستان کی پولیس ایک نئی مصیبت میں پھنس گئی ہے۔ اب کی بار ان پہ جھٹ پٹ انصاف کی فراہمی کا نیا پریشر ہے۔ ان پہ پریشر ہے کہ یہی سپاہی کا کام کریں، سوشل میڈیا پہ ویڈیوز ڈال کر ادارے کی مشہوری بھی یہی کریں، ثبوت جمع کریں، تفتیشی بنیں، وکیل بنیں، تفتیش کی رو سے نتیجہ نکالیں، یہ خود ہی جج بن کر نتیجے کی بنیاد پہ سزا کا فیصلہ کریں، فیصلہ پکا ہو جائے تو پھانسی گھاٹ کے جلاد کی طرح سزا دیں۔
بالائے ستم یہ کہ پولیس والوں پہ شاید یہ پریشر ہے کہ فوری انصاف کا معاملہ جھٹ پٹ ہونا چاہیے۔ لگتا کچھ ایسے ہے کہ جیسے ملزم کی گرفتاری سے لے کر پولیس مقابلے میں موت تک زیادہ سے زیادہ دو سے تین دن کا محدود ٹارگٹ دیا گیا ہو۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تکنیک کچھ یوں ہے کہ جرم کے ارتکاب سے پولیس کے پہلے چھاپے تک یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ جرم کا سوشل میڈیا پہ کتنا شور ہے۔ جتنا شور زیادہ ہو سزا دینے کا عمل اتنا ہی سرعت سے طے پا جاتا ہے۔ ملزم کو پکڑنے سے اس کی مبینہ جعلی مقابلے میں قتل کے دوران ہی اس خبر کو حقیقت بناک ر پیش کر دیا جاتا ہے کہ اصل، مرکزی ملزم، جرم کا ماسٹر مائنڈ، یعنی خرابی کی اصل جڑ یہی ملزم تھا جو پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ سوشل میڈیا پہ غم و غصے میں مبتلا عوام ملزم پہ لعن طعن کرتے ہیں اور یوں کیس کی فائل کھلنے سے قبل ہی بند ہو جاتی ہے۔
نیفے میں پستول چلنے کے واقعات درجنوں ہیں۔ نیفے میں پستول عموماً ان ملزمان پہ چلتی ہے جن پہ جنسی نوعیت کے جرم کا الزام ہو۔ ملزم کی موت فل فرائی جبکہ زخمی ہاف فرائی کیس سے تشبیہ دیے جاتے ہیں۔ کسی مجرم کو ہاتھ کے ہاتھ سزا مل جائے یہ آئیڈیا اپنے آپ میں اتنا پرکشش ہے کہ سوشل میڈیا پہ کم ہی لوگ ہیں جو ماوارائے عدالت اموات پہ تنقید کرتے ہوں۔ لیکن شاید اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ سزا مجرم کو دی جاتی ہے ناکہ ملزم کو۔
ان مبینہ جعلی پولیس مقابلوں میں پولیس والوں پہ ایک پریشر یہ بھی ہے کہ انہیں جرم کے ثبوت بھی مسخ کرنے ہوتے ہیں تاکہ کل کلاں کو کوئی کیس کوئی نیا رخ اختیار نہ کر لے۔
انسانی حقوق کمیشن کی تحقیق کے مطابق مبینہ جعلی مقابلوں میں مارے جانے والے ملزمان کی تعداد اب ہزار کو چھونے لگی ہے۔یہ رجحان اتنا شدید ہو چکا ہے کہ اسے ایک منظم پالیسی کہہ سکتے ہیں، نہ کہ محض چند الگ تھلگ واقعات۔
ان مبینہ پولیس مقابلے میں پولیس اہلکاروں کو پہنچنے والے نقصان کی گنتی اتنی کم ہے کہ اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ یہ ملزم اور پولیس کے درمیان حقیقی مسلح تصادم کے بجائے کچھ اور ہی ہوا ہوگا۔
جس طرح سے مرکز اور حکومت پنجاب جرائم کی روک تھام کے خاتمے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ روانی میں یہ بھول جاتے ہیں کہ جعلی پولیس مقابلے مسئلے کا حل نہیں خود ایک جرم ہے۔ پورا نظام انصاف، پولیسنگ اور ملک کا سکیورٹی نظام اس واہ واہ کی بھینٹ چڑھ رہا ہے جو حکمرانوں کو ملزم کی موت پہ سوشل میڈیا پہ ملتی ہے۔
یہ ٹرینڈ اس متوازی نظام انصاف کو فروغ دے رہا ہے جہاں لوگ سڑکوں پہ لاشیں گھسیٹنے کو انصاف سمجھتے ہیں اور بعد میں علم ہوتا ہے کہ سیالکوٹ کے مغیث اور منیب نامی بھائی تو بےجرم و خطا مارے گئے۔
یہ ٹرینڈ پولیس اہلکاروں کو قانون کے رکھوالے ثابت نہیں کر رہا بلکہ کسی جرائم پیشہ گینگ کی شکل دے رہا ہے۔ یہ ٹرینڈ شاید آج تو فٹا فٹ نتائج دے رہا ہے لیکن ملک کے پہلے ہی کمزور بلکہ قریب المرگ نظام انصاف کو منوں مٹی تلے دبا رہا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

