امریکہ یا ایران سے معاہدے کرے گا یا پھر ’کام تمام‘: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایک بار پھر فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ کرے گا یا پھر ’کام تمام‘ کرے گا۔

دوسری جانب ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد ایران نے بھی سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات گذشتہ ہفتے کسی واضح پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔ یہ مذاکرات 60 روزہ جنگ بندی کے دوران ہو رہے تھے، جس کا مقصد امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی میں سفارت کاری کے لیے موقع فراہم کرنا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’یا تو ہم معاہدہ کریں گے یا پھر کام تمام کر دیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کام تمام کرنا کوئی مشکل نہیں ہوگا۔ میں معاہدہ کرنا پسند کروں گا، کیونکہ میں 9 کروڑ 10 لاکھ لوگوں کو متاثر نہیں کرنا چاہتا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم ایک گھنٹے میں ان کے پل تباہ کر سکتے ہیں، ان کی توانائی کی فراہمی بند کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس اب کوئی پیسہ نہیں ہے، اور ہم نے انہیں کوئی رقم نہیں دی۔‘

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے ٹرمپ کے بیان کو ’وہم پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایرانی دھمکیوں کی زبان سے ناواقف نہیں ہیں۔ لہٰذا ایرانی عوام سے احترام کے ساتھ بات کریں، ورنہ ہم بھی دوسری زبان میں جواب دیں گے۔‘

ایران ان دنوں اپنے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں مصروف ہے جہاں منگل کی صبح قم کی مسجد جمکران میں بھی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

قم کے بعد علی خامنہ ای کے جسد خاکی کو عراق لے جایا جائے گا جہاں نجف اور کربلا سے واپسی پر مشہد میں ان کی تدفین کی جائے گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *