تہران میں قدم رکھتے ہی احساس ہو چلا کہ پورا شہر غم میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہر دیوار، ہر چوراہے پر سرخ اور سیاہ رنگ کے ہزاروں کی تعداد میں آیت آللہ علی خامنہ ای کے پوسٹر اور بینرز۔
ایک بڑی تعداد میں سوگواران بھی سیاہ لباس میں ملبوس آخری رسومات میں شرکت کے لیے ہاتھوں میں اپنے رہنما کی تصاویر لیے شہر کے وسط میں واقہ مصلی امام خمینی کے ایک بہت بڑے احاطہ کا کرتے دکھائی دیے جہاں امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں مارے جانے والے رہنما کا جسد خاکی رکھا تھا۔
کئی لوگوں کے ہاتھوں میں سرخ اور سیاہ رنگ کے پرچم بھی تھے جو ایک طرف غم اور دوسری طرف علامتی انتقام کی عکاسی کر رہے تھے۔ ماحول جذباتی تھا۔ لیکن اسی سوگوار ماحول میں سیاسی رنگ بھی جھلک رہا تھا۔ ’امریکہ اور اسرائیل مردہ باد‘ کے نعرے بھی بلند ہو رہے تھے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خود ایرانی انتظامیہ ان بڑی تقریبات کے انعقاد کے ذریعے جہاں سپریم لیڈر کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتی ہے وہاں امریکہ اور مغربی دنیا کو ایرانی قوم کے متحد ہونے کا پیغام بھی دینا چاہتی ہے۔ اور اسی پیغام میں غالبا ایران کے نظام حکومت اور اس کے ’نظریاتی انقلاب‘ کا تسلسل بھی مراد ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران میں جن عناصر کو حکومت کے رویوں سے تحفظات تھے انہوں نے بھی ساتھ دیا تھا۔ اسی اتحاد کی وجہ سے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ایران میں حکومت کی تبدیلی کی خواہش ناکام رہی تھی۔ اب ایرانی نظریاتی نظام کے رکھوالے شاید مستقبل میں جنگ کے دوران اس قومی اتحاد کے جذبے کو انقلاب کے تسلسل کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔
ان تقریبات میں عوام کو ایرانی مفادات کے لیے دشمن کے خلاف اٹھ کھڑے ہو جانے کا پیغام ہے۔ ان ہی الفاظ پر مبنی جنگی ترانے کی تشہیر کی جا رہی ہے۔ جگہ جگہ پر آویزاں سرخ اور سیاہ رنگ کے پوسٹرز پر طاقت اور اتحاد کی علامتی نشانی مکا نمایاں نظر آتا ہے۔
دیواروں پر امریکہ مخالف نعرے۔ ’مرگ بہ امریکہ‘ یعنی مردہ باد امریکہ۔ ’ماھمہ خونخواہ پدر ۔۔۔‘ مطلب کچھ یوں کہ ایرانی قوم اپنے روحانی ’باپ‘ (آیت اللہ خامنہ ای) کے خون کا انتقام چاہتی ہے۔ سینکڑوں سٹالز پر جنگی ترانے لوگوں کو ’امریکہ اور اسرائیل‘ کے خلاف متحد ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
اسی شہر تہران میں امریکہ کے سفارت خانہ کی عمارت بھی موجود جسے امام خمینی کے ’اسلامی انقلاب‘ کے بعد میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اسے فارسی میں عام طور پر ’لانہ جاسوسی‘ یا جاسوسی کا اڈہ کہتے ہیں۔ میں نے جب اس عمارت کو دیکھا تو اس میں اس زمانہ کا فرنیچر، دستاویزات اور تصاویر محفوظ کی گئی ہیں۔
سفارتی عملہ کو عمارت پر قبضہ کر کے یرغمال بنایاگیا تھا۔ عوام کو امریکہ کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلاب کے خلاف گویا سازشوں کو ہمیشہ کے لیے ذہنوں میں نقش کرنے کی کوشش تھی۔
ایران امریکہ دشمنی کی بنیادیں بےحد گہری یہاں تک کہ 1979 جب شہنشاہ ایران کے بادشاہی دور کے خاتمہ کے بعد امریکہ سے سفارتی تعلقات کا بھی خاتمہ ہوا۔
دشمنی کی دہائیوں پر مبنی تاریخ ہے۔ تنازعات، جنگیں اور ایران کے ’بدترین دشمن‘ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کا سیاسی اور مظبوط عسکری بندھن۔ امریکہ کی اقتصادی پابندیاں اور دشمنی ایران کی عالمی تنہائی کی اہم وجہ رہی ہیں تو بدگمانیاں بھی بے شمار۔ اس تناظر میں پھر امن معاہدے کا مستقبل بھی لڑکھڑاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جیسے کچی ڈور کے ساتھ بندھی پتنگ کا فضا میں دیر تک رہنا مشکل ہوتا ہے۔ زیادہ تر ایرانی تو ایسے ہی محسوس کر رہے ہیں۔
امن معاہدے یا مفاہمتی یادداشت کے نکات میں ایران کا پلڑا بھاری سمجھتے ہیں۔آبناۓ ہرمز کو نیوکلرہتھیار سے زیادہ خطرناک ہتھیار مانتے ہیں اور اسکے مکمل کنٹرول کے خواہشمند ہیں۔ اس معاملہ پر کوئ سمجھوتہ نہیں چاہتے۔ سمجھتے ہی کہآ آنے ہرمز پر کنٹرول کا جنگ میں ایران کی کامیابی میں بڑا ہاتھ ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، اثاثوں کا غیر منجمد ہونا ایران کی کمزور اقتصادی صحت کو طاقتور بنانے کی ضرورت کی اہمیت سے واقف ہیں۔ بڑھتی ہوئی افراط زر کی شرح، تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوانوں کی تعداد لیے ناکافی روزگار پریشانی کا باعث ہے۔ نوجوانوں کی آبادی میں شرح اندازا 63 فیصد ہے۔
تاہم زیادہ تر ایرانیوں کو امریکہ کے امن معاہدے کے وعدوں کو نبھانا مشکل لگتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ اپنے اردگرد مڈٹرم الیکشن اور بیشتر امریکیوں کی ایران کے ساتھ جنگ کی مخالفت اور سامنے نظر آنے والی ’شکست‘ کے خوف کی مجبوریوں کے حصار میں گھرے جانے کی وجہ سے امن معاہدے پر راضی ہوئے ہیں۔ اور خدشات کا اظہار کرتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف پھر جنگ مسلط کرسکتے ہیں۔
تہران میں سپریم لیڈر کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ کئی شرکا کے ہاتھوں میں حزب اللہ کے پیلے جھنڈے بھی نمایاں ہیں۔ جو امریکہ کے لیے پیغام کا اظہار ہے کہ ایران اور حزب اللہ کا اتحاد مضبوط ہے اورایران نہ اس گروہ کو تنہا چھوڑے گا اور نہ ہی اس معاملہ پرکوئی سودے بازی کرےگا۔ مصلی امام خمینی کے احاطے جہاں نمازہ جنازہ ادا کی گئی وہاں سے مجھے ہجوم کی وجہ سے پیدل ہوٹل واپسی میں لگ بھگ ایک گھنٹہ لگا۔ سخت سکیورٹی انتظامات، نگرانی پاسداران انقلاب کے خودکار ہتھیاروں اور بکتر بند گاڑیوں سے لیس فوجیوں کے پاس تھی۔
میرے دہن کو سوچ نے گھیرے میں لیے ہوا تھا۔ ایرانیوں کی امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے بارے میں شکوک و شبہات اور اس جنگی ماحول کو مدنظر رکھیں تو معاہدے کامستقبل ڈگمگاتا نظر آتا ہے۔
مجھے ایک بزرگ ایرانی کی بات یاد آئی۔ ’امریکہ اور اسرائیل قابل اعتبار نہیں۔ ماضی میں بھی مذاکراتی میز پر تھے جب ہمارے خلاف جنگ کی گئی۔ یہ کیسے بھول سکتے ہیں۔ اب بھی ہمیں لگتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس بار ہم نے بھی اپنے ہاتھ بندوق کے ٹریگر پر رکھے ہوئے ہیں۔‘
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
