پاکستان دہشتگردی کےخلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے، فیلڈ مارشل

خطے میں پائیدار امن افغان طالبان کے زیر تسلط زمین پر بھارتی پراکسیز کی روک تھام سے مشروط ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے،دشمن ہائبرڈ وارفیئر اور جھوٹے بیانیوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے،سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے آبی حقوق کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائےگا، کور کمانڈر کانفرنس سے خطاب
راولپنڈی (این این آئی)کور کمانڈر کانفرنس نے دہشت گردی کےخلاف آپریشن غضب للحق بھرپور انداز میں جاری رکھنے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن افغان طالبان کے زیر تسلط زمین پر بھارتی پراکسیز کی روک تھام سے مشروط ہے، پاکستان دہشت گردی کےخلاف اپنی عوام کے تحفظ اور قومی دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے، افغان سرحدی علاقوں سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رکھی جائینگی،کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے،دشمن ہائبرڈ وارفیئر اور جھوٹے بیانیوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے،سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے آبی حقوق کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق پیر کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیر صدارت 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملکی سلامتی، دہشت گردی، علاقائی صورتحال، قومی دفاع اور سیکیورٹی سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کانفرنس کے آغاز میں وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی، فورم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہدا کی لازوال قربانیاں ہمیشہ پاکستان کی سلامتی، اتحاد اور استقامت کی بنیاد رہیں گی۔کور کمانڈرز کانفرنس میں افغان طالبان کے زیرِ تسلط علاقوں سے پاکستان کے خلاف بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کی منصوبہ بندی، معاونت اور مسلسل استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شرکا نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام اسی صورت ممکن ہے جب افغان سرزمین کو بھارتی پراکسیوں کی سرگرمیوں سے پاک رکھا جائے۔انہوں نے فورم میں واضح کیا کہ افغان طالبان کی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے زیرِ انتظام علاقوں کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔کانفرنس میں نے کور کمانڈرز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی عوام کے تحفظ اور قومی دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے، جبکہ مسلح افواج آپریشن غضب للحق کے تحت افغان سرحدی علاقوں سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رکھیں گی۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں موثر گورننس، عوامی خدمت اور فلاح و بہبود پر مبنی مضبوط انتظامی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نظام قائم کیا جائے جو دہشت گردی، جرائم اور ان کی سیاسی سرپرستی کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں عبرتناک شکست کے بعد دشمن ہائبرڈ وارفیئر، جھوٹے بیانیوں اور بیرونی معاونت کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایسی ہر سازش کو پوری قوت سے ناکام بنایا جائے گا۔فیلڈ مارشل نے خطے میں کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے حالیہ بیانات کا بھی نوٹس لیا۔چیف آف ڈیفنس فورسز نے واضح کیا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی 24اپریل 2025 کی ہدایات اس معاملے پر مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہیں جب کہ افواجِ پاکستان حکومتی پالیسی اور عوامی امنگوں کے مطابق پاکستان کے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گی۔آرمی چیف نے کانفرنس میں ایک بار پھر اس موقف کا اعادہ کیا گیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور خطے میں پائیدار امن کا انحصار کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دینے پر ہے۔آخر میں فیلڈ مارشل نے تمام کور کمانڈرز کو ہدایت کی کہ جنگ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق ملٹی ڈومین ٹرانسفارمیشن پلان پر تیزی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور پاکستان کی خودمختاری، قومی سلامتی اور مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے۔
