نور الہدیٰ کا تعلق اپر چترال کے لاسپور علاقے سے ہے اور دہائیوں سے ان کے گھر میں یاک (مقامی زبان میں زوغ اور اردو میں خوش گاؤ) پالنا ایک اہم جز سمجھا جاتا تھا۔
تاہم اب ان کے گھر میں ایک بھی یاک موجود نہیں ہے، کیونکہ چترال میں یاک کی نسل ناپید ہوتی جا رہی ہے اور ماہرین کے مطابق اس کی وجہ ماحولیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی ہے۔
نور الہدیٰ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ہمارے دادا پردادا یاک پالتے تھے اور یہ ہماری زندگی کا ایک اہم جزو ہوا کرتا تھا، جس سے ہم دودھ، مکھن اور گوشت حاصل کرتے تھے، لیکن اب گھر میں ایک بھی یاک موجود نہیں ہے۔‘
انہوں نے بتایا: ’یہ صرف میری کہانی نہیں ہے بلکہ لاسپور، بروغیل اور اپر چترال کے پہاڑی علاقوں میں ہر گھر میں چھ سے 10 یاک ہونا عام بات تھی، لیکن اب ایک سے دو رہ گئے ہیں، جس سے مقامی لوگوں کا ذریعہ معاش بھی متاثر ہوا ہے۔‘
نور الہدیٰ نے بتایا: ’خوش گاؤ ایک ایسا مفید جانور ہے، جس سے انسان صدیوں سے متعدد فوائد حاصل کرتا آیا ہے۔ روایتی طور پر چترال میں اسے کھیتی باڑی اور باربرداری کے کاموں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے مضبوط اور گھنے بالوں سے مقامی قالین، کارپٹ اور باربرداری کے لیے مضبوط رسیاں تیار کی جاتی تھیں، جو پہاڑی علاقوں کی معیشت اور ثقافت کا اہم حصہ تھیں۔‘
ماحولیاتی آلودگی سے یاک کو کیا خطرہ ہے؟
ماہرین سمجھتے ہیں کہ چترال میں یاک کی آبادی کم ہوتی جا رہی ہے اور اس کے پیچھے مختلف عوامل کارفرما ہیں، جن پر تحقیق بھی کی گئی ہے۔
ڈاکٹر امداد اللہ چترال میں محکمہ لائیو سٹاک میں ویٹرنری افسر ہیں اور انہوں نے یاک میں مختلف بیماریوں پر تحقیق بھی کی ہے۔
ان کے مطابق ان کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بعض یاک ایسی بیماریوں کا شکار ہو گئے تھے جو دیگر مال مویشیوں میں پائی جاتی ہیں، اور اس کی وجہ یاک کا دیگر مال مویشیوں کے ساتھ ملنا ہے۔
ڈاکٹر امداد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’تحقیق میں کراس بارڈر موومنٹ، جیسے واخان اور گلگت بلتستان کے مال مویشیوں کے ساتھ یاک کا ملنا اور ان سے بیماریاں لگنا سامنے آیا تھا۔‘
اسی طرح ڈاکٹر امداد کے مطابق دوسری وجہ نئی نسل کی جانب سے یاک پالنے کے پیشے کو چھوڑنا بھی ہے۔
انہوں نے بتایا: ’نئی نسل تعلیم حاصل کرنے کے بعد زیادہ تر اب دیگر پیشوں اور ملازمتوں کا رخ کرتی ہے، جس کی وجہ سے یاک پالنے کا رجحان کم ہو گیا ہے، لہٰذا اس کی آبادی بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔‘
ڈاکٹر امداد کے مطابق تیسری وجہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث یاک کی خوراک میں کمی ہے، جس کی وجہ سے اس کی آبادی کم ہو رہی ہے، تاہم سرکاری سطح پر باقاعدہ یاک کی مردم شماری نہیں ہوئی کہ آبادی میں کتنی کمی آئی ہے۔
امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی جانب سے یاک کی آبادی پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے موضوع پر شائع ہونے والے تحقیقی مقالے میں بتایا گیا ہے کہ یاک سخت سردی، کم آکسیجن اور زیادہ شمسی شعاعوں والے پہاڑی علاقوں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، اسی وجہ سے انہیں زیادہ تر تین ہزار سے چھ ہزار میٹر بلند پہاڑی چراگاہوں میں رکھا جاتا ہے۔
تاہم تحقیقی مقالے کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں اضافے، بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی اور قدرتی آفات کی وجہ سے الپائن چراگاہیں سکڑتی جا رہی ہیں اور ان میں کم غذائیت والی جڑی بوٹیاں اگ رہی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی طرح درجہ حرارت کی بات کی جائے تو یاک تین سے 13 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان بہتر رہتے ہیں، لیکن درجہ حرارت میں اضافے نے ان کی افزائش اور دودھ کی پیداوار میں کمی پیدا کی ہے، تاہم ان اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
گرمی سے یاک کی افزائش اور میٹابولزم پر اثر
امریکہ کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن پر شائع تحقیقی مقالے کے مطابق جب یاک مسلسل گرم اور مرطوب موسم میں رہتا ہے تو اس کے جسم میں موجود ایڈرینل کورٹیسول (ہارمون بنانے والے غدود) کی پیداوار کم ہو جاتی ہے، اور اس کی مسلسل کمی سے یاک کے جسم کا میٹابولزم متاثر ہوتا ہے، جس سے گلوکوز کی سطح بھی کم ہو جاتی ہے اور افزائش متاثر ہوتی ہے۔
مقالے کے مطابق دوسری وجہ یہ ہے کہ یاک کی چراگاہوں میں مداخلت اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث قدرتی جڑی بوٹیوں کے اگنے کے نظام میں تبدیلی آئی ہے، جس سے اس کی خوراک کا معیار متاثر ہوا ہے، غذائیت کم ہوئی ہے اور اس کا اثر افزائش پر پڑا ہے۔
اسی طرح موسم گرم ہونے کی وجہ سے، مقالے کے مطابق، سرد موسم میں یاک دیگر مال مویشیوں کے ساتھ مل جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان مال مویشیوں سے یاک کو متعدی بیماریوں کے منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یاک کی آبادی کو بچانے کے لیے کوششیں
خیبر پختونخوا حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں یاک کی آبادی میں اضافے کے لیے ایک منصوبے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت بریڈنگ اور ایک تحقیقی مرکز قائم کیا جائے گا۔
ڈاکٹر امداد اللہ نے بتایا کہ اس مرکز میں یاک رکھے جائیں گے اور ان کی افزائش کی جائے گی، جبکہ ساتھ ہی ان پر مزید تحقیق بھی کی جائے گی۔
