پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج پر اتوار کو کمشنر پونچھ سردار وحید خان نے کہا ہے کہ آج کے مظاہرے کے بعد صورتحال نارمل ہو جائے گی لیکن 27 جولائی کو الیکشن تک اگر مظاہرین ’عزت سے اٹھ جاتے ہیں تو ٹھیک ہے، ورنہ اٹھانا پڑے گا۔‘
آج ہونے والے احتجاج کے حوالے سے انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اصل میں وہ (عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین) مختلف مقامات پر بکھرے ہوئے ہیں۔ شہر کی طرف آنے والے راستے پہلے ہی بند ہیں اور انہیں شہر میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ اسی وجہ سے اب وہ دھرنے کی جگہ سے تقریباً پانچ سو میٹر پیچھے جمع ہیں اور وہیں سے مختصر ریلی نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی جانب سے اتوار کو خطے بھر میں احتجاج کی کال دی گئی تھی جس کا اعلان کا فیصلہ راولاکوٹ کے علاقے دریک میں جاری دھرنے کے دوران تنظیم کی قیادت نے کیا تھا۔
مظفرآباد کے رہائشی اور ہائی کورٹ کے وکیل، سید حیدر نقوی نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ کشمیر کے شہر مظفرآباد میں مختلف مقامات پر ’آج چھوٹے پرامن احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ بازاروں اور سڑکوں پر ہونے والے ان مظاہروں میں خواتین، بچوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔‘
انہوں نے بتایا کہ مظاہرے کے دوران ایل اے 2 مظفرآباد کے امیدوار وکیل الحسن خطاب کر رہے تھے کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا اور تین خواتین سمیت حیدر نقوی کے ایک کزن کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتاریوں کے حوالے سے جب مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر منیرقریشی سے پوچھا گیا تو انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’احتجاج کی کال کے پیش نظر معمول سے زیادہ سکیورٹی تعینات کی جا چکی ہے۔ مظفرآباد سے تقریباً دو کلومیٹر دور 15 سے 20 افراد نے سڑک بند کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا۔‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے داخلی راستوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’مظفرآباد کے دیگر اضلاع، جن میں نیلم ویلی اور باغ شامل ہیں، سمیت، ایبٹ آباد اور مانسہرہ سے ملانے والے تمام داخلی اور خارجی راستے بھی کھلے ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے پانچ جون 2025 کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نامی جماعت کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ نوٹیفکیشن کے متن کے مطابق: ’تنظیم کے خلاف امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کے معقول شواہد ہیں اور تنظیم ریاست میں انتشار پیدا کرنے میں ملوث پائی گئی۔‘
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ 37 دیگر مطالبات کے حق میں 9 جون کو کشمیر بھر میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال اور لانگ مارچ کی کال دی تھی جو تاحال جاری ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکی قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 27 جولائی بروز پیر منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ عوامی کمیٹی کے احتجاج کے دوران الیکشنوں میں کیا صورتحال متوقع ہے، اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کمشنر پونچھ، سردار وحید خان نے مزید کہا کہ ’مظفرآباد اور میرپور ڈویژن، دونوں میں صورتحال بہت حد تک نارمل ہے۔ اس کے بعد رہ جاتا ہے پونچھ ڈویژن، جس میں چار ضلعے ہیں، ان چار میں بھی مسئلہ راولاکوٹ اور پلندری میں ہے۔ ہماری توجہ ان دو ڈسٹرکٹس پر ہے۔ باقی دس ڈسٹرکٹس میں الیکشن آرام سے ہو جائیں گے۔‘
سات جون 2025 کو احتجاج کی کال سے پہلے کشمیر میں انٹرنیٹ بندش اور اس کی بحالی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’فی الحال انٹرنیٹ بحال نہیں کیا گیا۔ جب تک حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آ جاتے، اس کی بحالی کا امکان کم ہے کیونکہ سوشل میڈیا کے ذریعے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں اور لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے فی الحال انٹرنیٹ بحال کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔‘
