کراچی میں ہفتے کو دھماکے کے بعد فائرنگ کی اطلاعات موصول ہونے پر پولیس اور امدادی کارکن فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
حکام نے واقعے کی نوعیت کا تعین کرنے کے لیے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
دھماکے کی وجہ، ممکنہ جانی نقصان اور اس واقعے کے ذمہ دار عناصر کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پولیس کو علاقے کا محاصرہ کیے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دینے کی اطلاعات ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی پولیس سربراہ اور کراچی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کو واقعے کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے اپنے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا ’پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور واقعے کی نوعیت معلوم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔‘
ایدھی ایمبولینس سروس نے بتایا کہ اس نے الجدید شاپنگ سینٹر کے عقب میں واقع ایک ورک شاپ کے قریب دھماکے اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد ایمبولینسیں اور رضاکار روانہ کر دیے۔
