ایمزون کے بانی جیف بیزوس نے مشورہ دیا ہے کہ زمین کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کو چاند پر منتقل کر دینا چاہیے۔
بدھ کو پیرس میں ویوا ٹیک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ارب پتی بیزوس نے چاند کو ایک ’تحفہ‘ قرار دیا جو معاشی ترقی کو تیز کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور ساتھ ہی ہمارے سیارے کو قابل رہائش بھی رکھ سکتا ہے۔
چاند کی نوآبادی کاری بیزوس کی نجی خلائی کمپنی بلیو آریجن کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے۔
تاہم یہ پہلی بار ہے کہ انہوں نے اس پیمانے پر چاند کی صنعتی ترقی کے بارے میں کھل کر بات کی ہو۔
انہوں نے کہا ’ہمارا طویل مدتی وژن، ہمارا خواب یہ ہے کہ تمام آلودگی پھیلانے والی صنعتیں زمین سے باہر منتقل کر دی جائیں۔
’اس باغ جیسے سیارے کو اس کی قبل از صنعتی انقلاب حالت میں واپس لایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس میں آج کی دنیا 500 سال پہلے کے مقابلے میں بدتر ہے۔‘
بیزوس کے مطابق خلا میں منتقل ہونے والی پہلی صنعتوں میں وہ ڈیٹا سینٹرز ہوں گے جو مصنوعی ذہانت کو چلانے کے لیے درکار ہیں۔
خلائی صنعت کی ایک اور کاروباری شخصیت ایلون مسک نے بھی خلا میں اے آئی انفراسٹرکچر بنانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور اسے اس ٹیکنالوجی کو ’سکیل‘ کرنے کا واحد طریقہ قرار دیا۔
بہت سے بڑے ٹیک رہنماؤں کے برعکس بیزوس نے دعویٰ کیا کہ اے آئی بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کا سبب نہیں بنے گی۔
اس کی بجائے انہوں نے کہا کہ انسانی ملازمین کی طلب بڑھنے کے باعث لیبر کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’میں جانتا ہوں بہت سے لوگ، جن میں ذہین لوگ بھی شامل ہیں، یہ فکر رکھتے ہیں کہ اے آئی انسانوں کو غیر ضروری بنا دے گی وغیرہ۔
’میں اس خیال سے مکمل طور پر متفق نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ درحقیقت اے آئی لیبر کی کمی پیدا کرے گی۔‘
بلیو آریجن نے اس سال کے آغاز میں خلا میں ڈیٹا سینٹرز لگانے کے منصوبے پیش کیے تھے اور امریکی ریگولیٹرز کو 50 ہزار سے زائد سیٹلائٹس کا نیٹ ورک بنانے کی باضابطہ تجویز دی تھی تاکہ اے آئی کے کاموں کو سپورٹ کیا جا سکے۔
کمپنی نے ناسا کے ساتھ اربوں ڈالر کا معاہدہ کیا ہے تاکہ آرٹیمس پروگرام کے لیے لانچ اور لینڈنگ گاڑیاں تیار کی جا سکیں، جس کا مقصد اس دہائی کے اختتام سے پہلے انسانوں کو دوبارہ چاند کی سطح پر پہنچانا ہے۔
گذشتہ ماہ امریکی خلائی ایجنسی نے بلیو آریجن کو سینکڑوں ملین ڈالر کا ایک اور معاہدہ دیا تاکہ چاند پر دو روورز بھیجے جا سکیں جو مستقبل کے خلا بازوں کی مدد کریں گے۔
معاہدہ ملنے کے دو دن بعد کمپنی کو ایک بڑا دھچکا لگا جب اس کا نیو گلین راکٹ فلوریڈا کے کیپ کینیورل میں لانچ پیڈ پر ٹیسٹنگ کے دوران دھماکے سے تباہ ہو گیا۔
یہ اربوں ڈالر کی سہولت مکمل مرمت کی محتاج ہے، تاہم بلیو آریجن کے سی ای او ڈیو لمپ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ پروازیں ’اس سال کے آخر تک‘ دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔

