لاہور میں سکھ مذہب کے پانچویں گورو ارجن دیو جی کی گردوارہ ڈیرہ صاحب میں منعقدہ برسی کی تقریبات میں رواں ہفتے 14 سال بعد شرکت کرنے والے انڈین سکھ یاتریوں نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانیوں کی مہمان نوازی کو سراہا۔
انڈیا سے آئے فوٹو گرافر گرپیت سنگھ کے مطابق یہاں قدرے زیادہ مہنگائی کے علاوہ انہیں انڈین پنجاب سے کچھ بھی مختلف نہیں لگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی حکومتوں کو چاہیے کہ کرتار پور بارڈر یاتریوں کے لیے کھول دیا جائے۔
متروکہ وقف املاک بورڈ پنجاب (ای ٹی پی بی) اور وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیر اہتمام گرو ارجن دیو جی کی برسی (جوڑ میلہ) کی مرکزی تقریبات تاریخی گوردوارہ ڈیرہ صاحب میں 16 سے 18 جون تک ادا کی جا رہی ہیں۔
متروکہ وقف املاک بورڈ پنجاب کے چیئرمین قمر الزمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’حکومت پاکستان نے سکھ یاتریوں کو اس تقریب کے لیے درخواست دینے والے سات سو 37 یاتریوں کو ویزے جاری کیے۔ ان میں سے پانچ سو 18 سکھ یاتری پاکستان آئے ہیں، جنہیں 10 جون کو واہگہ بارڈر سے لایا گیا۔‘
تقریبات کے دوران گردوارہ ڈیرہ صاحب میں اکھنڈ پاٹھ، خصوصی ارداس، کیرتن دربار اور دیگر رسومات ادا کی گئیں۔
انڈین پنجاب کے شہر فرید کوٹ سے تقریب میں شرکت کرنے والے گرپیت سنگھ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی عمر 40 سال عمر ہے اور وہاں فوٹو گرافری کا کام کرتے ہیں۔
گرپیت سنگھ کے مطابق: ’مجھے اپنے گھر والوں کے ساتھ گرو ارجن جی کی شہیدی (برسی) تقریبات میں شرکت کا انتظار رہا، لیکن 14 سال سے یہاں آنے کی اجازت نہیں تھی۔ اب پہلی بار ویزہ ملا تو گھر والوں کے ساتھ یہاں آیا ہوں۔ میں نے پہلی بار گرو دربار کے درشن کیے جو میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’لاہور آکر حیرت ہوئی کہ یہاں کے لوگ بھی بالکل ویسے ہی خوش اخلاق اور ملنسار ہیں جیسے ہمارے ہاں ہیں۔ موسم اور کلچر تو ایک جیسا ہی لگا لیکن یہاں مہنگائی بہت ہے۔‘
انہوں نے بتایا: ’انڈیا میں پیٹرول ایک سو پانچ روپے جبکہ یہاں چار سو روپے لیٹر ہے۔ میں نے وہاں اپنی کمیٹی کو چھ ہزار انڈین روپے جمع کروائے تھے جو پاکستانی کرنسی میں 16 ہزار روپے میں تبدیل ہوئے بس یہی ایک فرق حیران کن نظر آیا۔ کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر پیٹرول سستا اور یہاں مہنگا کیوں ہے؟‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گرپیت کے بقول: ’گرو ارجن جی کے بارے میں اپنے بزرگوں سے سنا ہی تھا لیکن یہاں آکر ان کے لیے محبت کا جذبہ مزید بڑھا ہے، لہٰذا دونوں ممالک کی حکومتوں کو چاہیے کہ مذہبی ہم آہنگی کا احترام کرتے ہوئے دونوں طرف آنے جانے والوں کی آسانی سے ویزے دیے جائیں۔
’انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے باعث بند کیے گئے کرتار پور بارڈر کو بھی دوبارہ یاتریوں کے لیے کھولا جائے، تاکہ انڈین سکھ صبح وہاں آئیں اور شام کو واپس جا سکیں۔‘
خیبر پختونخوا سے آئی خاتون سکھ یاتری سمرن کور نے بتایا کہ ’ہم سکھ ہیں تو انڈیا سے آئے سکھوں سے بھی ملاقات ہوگئی۔ ان سے ملنا بھی بہت اچھا اتفاق رہا۔ ہم گرمی میں ایسے انتظامات پر حکومت کے شکر گزار ہیں۔‘
انڈیا سے آئے یاتری سکھ چین سنگھ نے بتایا کہ ’یہاں آکر بہت اچھا لگا یہاں لاہور میں پنجابی بولتے خوشی سے گلے ملتے لوگ (اچھے لگے)۔‘
انہوں نے کہا: ’ہم نے یہاں جو محسوس کیا وہ انڈیا جاکر اپنے لوگوں بھی بتائیں گے کہ پاکستانی کتنے ملنسار ہیں۔ ان کے رسم و رواج، رہن سہن بھی بالکل ہم جیسا ہی ہے۔‘
متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سکھ، ہندو اور دیگر اقلیتی برادریوں کے مقدس مقامات کی دیکھ بھال اور مذہبی تقریبات کے انعقاد کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ دنیا بھر سے آنے والے یاتریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
