افغانستان ٹی ٹی پی پر تحریری ضمانت دینے پر تیار نہیں: پاکستان

وزیر دفاع خواجہ آصف نے منگل کو کہا کہ پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ متعدد بار رابطے کیا لیکن وہ اس بات کی ضمانت حاصل کرنے میں ناکام رہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے اندر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہو گی۔

پاکستان بار ہر الزام عائد کرتا آیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسند افغان سرحد عبور کر کے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔

تاہم کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ سال سرحدی جھڑپوں کے بعد سفارتی تعلقات کشیدہ ہیں اور چین کی سربراہی میں دنوں ملکوں کے درمیان متعدد بار بات چیت ہو چکی ہے۔

خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا کہ اعلیٰ سیاسی، عسکری اور انٹیلی جنس حکام نے کئی برسوں تک طالبان حکام کے ساتھ اس حوالے سے تفصیلی مذاکرات کیے۔ 

’بہت سے لوگوں نے شکایت کی کہ ہمیں ان سے بات چیت کرنی چاہیے اور شاید ہمارا رویہ غیر شخصی ہے کہ ہم براہ راست ان سے رابطہ نہیں کرتے۔

’لیکن افغانستان کا مسئلہ براہ راست دہشت گردی سے جڑا ہوا ہے۔ چاہے بلوچستان ہو یا خیبر پختونخوا دہشت گردی کا منبہ افغانستان ہے۔‘

انہوں نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی کوشش نہ کرنے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ خود دو مرتبہ اعلیٰ سطحی وفود کے ساتھ افغانستان گئے۔ 

’یہ شکایت کہ ہم نے بات نہیں کی، میں خود دو بار گیا۔ دونوں بار سینیئر وفد موجود تھا اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی میرے ساتھ تھے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’وہ ہر بات مان لیتے تھے لیکن تحریری طور پر کسی چیز پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔‘

خواجہ آصف کے مطابق مذاکرات کے دوران افغان حکام نے پاکستان سے مالی معاونت بھی طلب کی۔ 

افغان طالبان نے ’ہم سے 10 ارب روپے مانگے جو ہم دینے کو تیار تھے لیکن ساتھ ہم ضمانت چاہتے تھے کہ یہ لوگ اگر افغانستان کے کسی دور دراز علاقے میں آباد کیے جاتے ہیں تو یہ 10 ارب روپے کھا پی کر دوبارہ ہماری سرحد پر آکر کر نہ بیٹھ جائیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’کابل کے علاوہ میں ترکی اور قطر میں بھی ان سے ملا۔ دن رات مذاکرات ہوتے رہے، اعلیٰ سطحی وفود شریک ہوتے رہے لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا ’ہم ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار تھے لیکن ہم صرف یہ ضمانت چاہتے تھے کہ ان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ بس یہی ہماری خواہش تھی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ 2022 سے آج تک پاکستان میں 4317 لوگ اپنی جانیں کھو چکے ہیں جن میں فوجی، قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور شہری شامل ہیں اور یہ ان کے ہاتھوں جان سے گئے جن کی ہم نے دہائیوں مہمان نوازی کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم سے کہا جاتا ہے کہ ان سے بات کریں، ہم نے ان سے کئی بار اعلیٰ سطح پر بات چیت کی لیکن وہ کسی بات کی ضمانت دینے کو تیار نہیں۔

انہوں نے کہا ’میں یہ نہیں کہتا کہ 1980 کی دہائی اور اس صدی کی پہلی دو دہائیوں میں، جب ہم امریکی پراکسی تھے، ہماری پالیسیاں درست تھیں۔

’ہم نے سمجھا تھا کہ امریکی پراکسی بن کر کوئی لاٹری جیت لیں گے لیکن پاکستان میدان جنگ بن گیا۔‘

وزیر نے مزید کہا کہ وہ امریکی جو یہاں آئے، ہمیں استعمال کیا اور پھر اپنے ملک واپس چلے گئے۔ ’ہم آج بھی اس کے نتائج بھگت رہے ہیں اور خدا جانے کب تک بھگتتے رہیں گے۔‘

انہوں نے کہا ’میرے ساتھی بات چیت کریں اور وہاں جائیں، ہم تیار ہیں لیکن نتائج کے بغیر واپس نہ آئیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’دو نسلیں پہلے ہی متاثر ہو چکی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ آنے والی نسلیں بھی متاثر ہوں گی۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *