بجٹ میں برآمدات اور ٹیکس کے نظام پر کام کیا گیا: وزیر خزانہ

حکومتی وزرا نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کو ’عوامی بجٹ‘ قرار دیتے ہوئے ہفتے کو کہا ہے کہ اس بجٹ کی مرکزی تھیم ’ایکسپورٹس پر مبنی گروتھ‘ ہے اور اس میں برآمدات اور ٹیکس کے نظام پر کام کیا گیا ہے۔

حکومت نے مالی سال 27-2026 کا بجٹ جمعے کو پیش کیا تھا، جس کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے سے زائد ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ہفتے کو اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ مشترکہ پوسٹ بجٹ پریس بریفنگ میں کہا کہ اس بجٹ میں بھرپور کوشش کی گئی ہے کہ برآمدات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ بجٹ میں ایڈوانس ٹیکس ختم کیا گیا جبکہ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایکسپورٹرز کے لیے سپر ٹیکس کو ختم کیا جائے۔

مجوزہ بجٹ میں حکومت نے کاروبار سے 15 کروڑ روپے سے 50 کروڑ روپے تک کی آمدنی کی چھ سلیبز پر عائد سپر ٹیکس جو ایک فیصد سے لے کر ساڑھے سات فیصد کی سطح تک تھا، کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

بقول وزیر خزانہ: ’اس میں ٹیکس کا معاملہ نہیں ہے، فنانسنگ کا بھی معامل ہے، جس کے لیے اضافی 70 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی تاکہ ایکسپورٹرز کو ساڑھے چار فیصد پر فنانسنگ دستیاب ہو۔‘

محمد اورنگزیب نے پریس کانفرنس میں زرعی شعبے کے لیے بھی ریلیف اور اقدامات کا ذکر کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں آئی ٹی انڈسٹری اور فری لانسرز کی 0.2 فیصد ایف ٹی آر کو برقرار رکھا گیا ہے جبکہ آئی ٹی برآمدات چار کروڑ 50 ارب روپے تک پہنچیں گی۔

وزیر خزانہ کے مطابق اس بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو سب سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا: ’اس مرتبہ جو سپیس ملی، اسے ہم نے بھرپور استعمال کیا۔۔۔ ہم معاشی ترقی طرف چل پڑے ہیں اور یہ بجٹ اس میں اہم کردار ادا کرے گا۔‘

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کو ’تنخواہ دار، صنعت کار اور ایکسپورٹرز کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہر اس شخص کا بجٹ ہے، جو اپنا گھر بنانا چاہتا ہے اور جس کے پاس وسائل نہیں ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’چادر کو دیکھ کر پاؤں پھیلاتے ہوئے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا اور ان پر بوجھ کم کیا گیا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے پنک ٹیکس کے خاتمے کو بھی خواتین کے لیے اہم قرار دیا۔

امریکہ اور ایران کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ نے کہا کہ ’اپنی شپنگ فلیٹ ہونا اہم ہے۔‘

بقول بلال کیانی:’یہ ایک عوامی بجٹ ہے۔ وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا اور عوام نے اس پر ان کا ساتھ دیا اور اس کے فوائد عوام تک پہنچے ہیں۔‘

اس موقعے پر وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا کہ یہ گنجائش راتوں رات پیدا نہں ہوئی، ’وزیراعظم کا وعدہ تھا کہ جیسے ہی گنجائش ہوئی وہ ریلیف دیں گے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *