ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے حتمی شکل پانے کے بعد اس پر ’ڈیجیٹل طور پر‘ دستخط کیے جائیں گے، اور ایسا ’آنے والے دنوں میں‘ ہو سکتا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا: ’جیسے ہی ہمارے مذاکرات کے حتمی مراحل مکمل ہوں گے، اس معاہدے پر دستخط کر کے اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔ دستخط ابتدائی طور پر ڈیجیٹل ہوں گے۔ ہر فریق دور بیٹھ کر دستخط کرے گا۔ اس کے بعد، یہ اعلان کیا جائے گا کہ دونوں فریقین نے اس مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’یہ آنے والے دنوں میں ہو سکتا ہے۔ میں بہت پرامید ہوں۔‘
عباس عراقچی نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت‘ کے نام سے ایک فریم ورک ’اس سے پہلے کبھی اتنا قریب نہیں تھا۔‘
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے ایران پر طے شدہ حملے منسوخ کر دیے ہیں اور دعویٰ کیا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جلد ہی ایک معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اپنے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ وہ اس فریم ورک کے ’مکمل اور حتمی‘ ہونے کے بعد اس کی تفصیلات کا اعلان کریں گے اور یہ کہ ابھی تفصیلات میں جانے سے ’معاہدے پر دستخط خطرے میں پڑنے‘ کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے مسودے میں 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کی جاری امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور سٹریٹیجک آبنائے ہرمز کا انتظام شامل ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ چھڑنے کے بعد سے اہم عالمی بحری راستے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک ایرانی کنٹرول میں آ گئی ہے۔
ایران، جس نے آبنائے سے صرف چند جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے، اس بات پر بضد ہے کہ بحری جہاز گزرنے سے پہلے اس کی مسلح افواج سے اجازت لیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا: ’بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم ہونی چاہیے۔ معاہدے میں مذکور یہ پہلا نکتہ ہے۔‘
انہوں نے نشاندہی کی کہ ’ایران نے یہ حتمی فیصلہ کر لیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام اب پہلے جیسا نہیں رہے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر عمان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
بقول عباس عراقچی: ہرمز ایران کے ’ڈیٹرنس کے اہم ذرائع‘ میں سے ایک ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ فریم ورک پر دستخط ہونے کے بعد 60 دن کے عرصے کے دوران ایران کے ایٹمی پروگرام کی تفصیلات پر بات کی جائے گی، جس میں انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بھی شامل ہے، جو واشنگٹن کے لیے ایک متنازع مسئلہ ہے۔
عراقچی نے کہا: ’ہمارا مؤقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ افزودہ مواد کے ذخیرے سے نمٹنے کا واحد طریقہ اسے ایران کے اندر ہی تحلیل کرنا ہے۔‘
انٹرویو کے دوران، انہوں نے ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کے خلاف خبردار کیا، خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے صاف الفاظ میں یہ کہنا چاہیے کہ اس معاہدے کے دشمن ہیں، جن میں سب سے آگے صیہونی حکومت ہے، جو اسے ناکام بنانے کے بہانے تلاش کر رہی ہے۔‘
دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدے دار نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران نے ایک معاہدے کے متن پر اتفاق کر لیا ہے اور واشنگٹن کو توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک امریکی عہدے دار نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ معاہدہ ٹرمپ کے بنیادی مقاصد کو پورا کرتا ہے اور اس نے مذاکرات کو ’بہت، بہت اچھی جگہ‘ پر پہنچا دیا ہے۔
مغربی، پاکستانی اور ایرانی ذرائع سے ملنے والی مجوزہ مسودے کی اطلاعات ایسی شرائط کی جانب اشارہ کرتی ہیں جو ایران کے حق میں ہو سکتی ہیں، جس پر ٹرمپ نے تنقید کی اور ان اطلاعات کو غلط قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
ایک مغربی ذریعے نے بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف جلد از جلد اتوار کو اس معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں اور جینیوا کو اس کے لیے سب سے ممکنہ مقام سمجھا جا رہا ہے۔
امریکی انتظامیہ کے عہدیدار نے کہا کہ دستخط کے مقام کے طور پر یورپ پر بات ہوئی لیکن کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
معاہدے میں کیا ہے؟
متعدد ذرائع کی جانب سے بتائی گئی معاہدے کی مجوزہ شرائط ظاہر کرتی ہیں کہ امریکہ آبنائے کھولنے کے بدلے میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے اربوں ڈالر جاری کرنا شروع کر دے گا اور اس کی تیل کی برآمدات پر پابندیاں ختم کر دے گا۔
ایران کے ایٹمی پروگرام پر 60 دن کے مذاکرات کے دوران بات کی جائے گی۔ امریکی عہدے دار نے کہا کہ یہ معاہدہ بالآخر ایران کے ایٹمی پروگرام کے خاتمے کا باعث بنے گا، جس میں اس کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو تباہ اور ختم کر دیا جائے گا۔ ان شرائط میں طویل المدتی بنیادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے معائنے کا ایک نظام بھی شامل ہے۔
لیکن عباس عراقچی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ایران، جس کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ایٹمی پروگرام کے خاتمے کو تسلیم نہیں کیا، یورینیم کو تحلیل شدہ شکل میں برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’تہران کے لیے، اس کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا واحد ترجیحی حل اس مواد کو ختم کرنا ہے۔‘
دوسری جانب اسرائیل، جس نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، ان مذاکرات کا حصہ نہیں رہا ہے۔ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا کہ ان کا ملک اس معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا۔
تیل کی قیمتوں میں کمی
ایران امریکہ معاہدے کے امکان کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد عالمی سٹاک مارکیٹوں میں شیئرز کی قیمتوں اضافہ ہوا اور تیل کی قیمتیں گر گئیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمتیں تین فیصد سے زیادہ کم ہو کر تقریباً دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت کی ریٹنگ کے دوران یہ تنازع وائٹ ہاؤس کے لیے ایک سیاسی درد سر بن گیا ہے۔
