انڈین فلموں میں آرٹ اور معیاری تفریح کا گراف دھرریندر جیسی پراپیگنڈا فلموں نے ڈبو رکھا ہے لیکن دوسری جانب جنوبی انڈیا کی فلمیں ہٹ ہونے لگی ہیں۔ اب انڈیا میں ملیالم، تیلگو اور تمل زبان کی فلم انڈسٹریز مرکزی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔
انڈیا میں ساؤتھ کی فلموں کا انداز دنیا میں سب سے نرالا سمجھا جاتا ہے۔ ان فلموں میں ہیرو ایک ہی لات مارتا ہے اور ولن ہوا میں معلق ہو جاتا ہے۔
ہیرو اپنی جانب آنے والی گولی کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیتا ہے۔ ہیرو ماچس کی تیلی ابھی جلاتا ہی ہے کہ دشمن کی فوج خود ہی جل کر راکھ ہو جاتی ہے۔ ہیرو اپنی خراب گاڑی کو ایک ٹکر مار کر آگے بڑھتا ہے، پیچھے پوری ٹریفک ہوا میں اُڑ کر زمین بوس ہو جاتی ہے۔
ہیرو دانتوں سے رسی کھینچتا ہے اور کھائی میں گری گاڑی مسافروں سمیت بچا لی جاتی ہے۔ ہیرو ایک ہاتھ سے گھونسے مکے مارتا ہے، دوسرے ہاتھ میں اپنی ہیروئن کو تھامے ہوتا ہے۔
ان فلموں کی ایک اور خاصیت بھی ہے اور وہ یہ کہ ساؤتھ کی یہ فلمیں اپنے ہیرو کی بہادری، داداگیری، لڑائی اور جیت کے گرد ہی گھومتی ہیں۔ انڈین وزیراعظم اگرچہ گجرات کے ہیں لیکن لگتا ہے وہ ساؤتھ کی فلموں سے اتنا متاثر ہیں کہ خود کو ایسا ہی سپر ہیرو سمجھ بیٹھے ہیں۔
ہر بین الاقوامی فورم پر اپنی اوور ایکٹنگ کے بعد مودی کیمرے کی جانب ایسے ہی دیکھتے ہیں جیسے انہیں تماش بینوں کی سیٹی کا انتظار ہو۔
مودی نے اپنی پہلی حکومت 2014 سے 2019 کے درمیان کی۔ اس ٹرم میں مودی کی پارٹی کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔
دوسری حکومت کی مدت 2019 سے 2024 رہی۔ یہاں مودی اینڈ کمپنی نے اپنی من مانی کرنے میں نئے ریکارڈ قائم کیے۔ انڈین میڈیا اور پراپیگنڈا مشینری کھل کر اپنے آپریشنز کرنے لگی۔ دنیا کے اخبارات میں مسلسل انڈین شادیوں، یوگا، بالی وڈ کے ڈانس، مودی کے کُرتے پاجامے کے سٹائل اور امریکی سلیکون ویلی میں انڈین آئی ٹی ماہرین کی کامیابی کے فسانوں کی کوریج ہونے لگی۔
2021 کے بعد کرونا کی وبا میں انڈیا نے جو ناقص کارکردگی دکھائی، اس پر بات تھوڑی بہت ہو کر رہ گئی، لیکن لائم لائٹ میں مودی کی ہیرو والی ایکٹنگ ہی رہی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
2024 میں نریندر مودی تیسری بار انڈیا کے وزیراعظم بن گئے اور تاحال انڈیا مودی کے سنگین زمانے سے گزر رہا ہے۔
ابھی مودی کی اوور ایکٹنگ پر مبنی فلم جاری ہے، لیکن اب انڈیا سمیت دنیا بھر کی آڈینس مودی کی اس اوور ایکٹنگ سے اکتا گئی ہے۔ یہ فلم چلتے چلتے فلاپ ہو گئی ہے۔ مودی جدھر جاتے ہیں، انہیں اصل سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان سے آزادیٔ اظہار، اقلیتوں پر کریک ڈاؤن، کرپشن اور خراب گورننس پر سوال ہوتے ہیں۔
پچھلے ماہ جب انڈین وزیراعظم نریندر مودی ناروے کے دورے پر گئے تو ایک نارویجن صحافی ہیلے لینگ نے ان سے ایک سوال پوچھنے کی کوشش کی، لیکن مودی بغیر جواب دیے چلے گئے۔ وہ جعلی ہیرو، جسے صرف کیمرے کے سامنے ایکٹنگ کی عادت پڑ جائے، وہ اصل سوال پر ایسے ہی بغلیں جھانکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی نے گذشتہ 12 سالوں میں ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کی۔
انڈیا کی گرتی ساکھ صرف سیاست تک محدود نہیں۔ حال ہی میں برطانوی میڈیا میں ایک ایسے انڈین نژاد ڈاکٹر کا معاملہ سامنے آیا ہے جس کی ڈگری جعلی تھی۔
جعلی انڈین ڈگریوں کا یہ کوئی اکیلا واقعہ نہیں۔ انڈین حیدرآباد میں درجنوں ایسے طلبہ پکڑے گئے ہیں جنہوں نے جعلی ڈگریوں کے ذریعے امریکہ اور برطانیہ کے ویزے حاصل کیے۔
یہی حال انڈیا سے چلنے والے کال سینٹرز کا ہے، جو بڑے بڑے عالمی فراڈ انڈیا سے بیٹھ کر چلاتے ہیں۔ خواتین کو انڈیا اکیلے سیاحت پر جانے سے خبردار کرنے کی خبریں بھی اب میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔
مودی کی تیسری مدتِ حکومت اور مودی کا انڈیا اتنا غیر معمولی ہوتا جا رہا ہے کہ اسے ہر چند دن بعد جعلی مقبولیت اور نام نہاد نیشنل ازم ابھارنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔
پچھلے برس پاکستان سے جنگ کر کے جس نتیجے کا مودی حکومت کو انتظار تھا، وہ ہوا نہیں، الٹا لینے کے دینے پڑ گئے۔ پاکستان نے فضائی جنگ میں سبقت حاصل کی اور مودی حکومت کو بے وقت کی جنگ شروع کرنے پر اندرونی دباؤ جھیلنا پڑا۔
اس ڈرامے کی ابھی تازہ قسط جاری ہوئی ہے۔ انڈین وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے اعلان کیا کہ پاکستان کی طرف پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں جانے دیا جائے گا جبکہ سندھ طاس معاہدے کو، جو عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، معطل کر دیا گیا ہے۔
پاکستان اگرچہ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا تو وہ اسے جنگی اقدام تصور کرے گا۔ یہ انڈیا کی اس نئی سوچ کا حصہ ہے جہاں طاقت کو سفارت کاری کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔
یہ فارمولا پہلے کبھی کارگر نہیں ہوا، جو اب ہوگا، لیکن دھمکیاں بہرحال جاری ہیں، جنہیں اردو کے آسان محاورے میں کہا جاتا ہے: کھسیانی بلی کھمبا نوچے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
