ایران نے جوہری پروگرام ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی: وائٹ ہاؤس عہدیدار

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے جمعے کو بتایا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے اور جوہری مواد کو تباہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے سینیئر عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’کارکردگی سے مشروط معاہدے‘ کے تحت تہران آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر بھی رضامند ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو اس وقت تک منجمد فنڈز تک رسائی نہیں دی جائے گی جب تک وہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران سے متعلق ممکنہ معاہدے پر پھیلنے والی خبروں کو ’غلط معلومات‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ڈیل کے تحت ایران کو فوری طور پر کوئی رقم یا منجمد فنڈز جاری نہیں کیے جا رہے۔

ایکس پر جاری بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ مجوزہ معاہدہ کارکردگی سے مشروط ہے اور اس کا مقصد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تحفظات کو ترجیح دینا ہے۔

ان کے مطابق ایران کو معاشی فوائد اسی صورت میں حاصل ہوں گے جب وہ اپنی ذمہ داریاں مکمل کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے تاہم حالیہ خبروں میں اس حوالے سے کئی متضاد اور غیر مصدقہ دعوے سامنے آئے ہیں۔

جے ڈی وینس نے میڈیا رپورٹنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ حلقے غیر مصدقہ سوشل میڈیا معلومات پر یقین کر رہے ہیں، جبکہ وہی لوگ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے بیانات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس طرز عمل کو متضاد قرار دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ اور ایران رواں ہفتے کے آخر تک ایک امن معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دی جائے گی، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ اس نے ابھی تک کسی معاہدے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

اگر اس معاہدے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اب تک کی سب سے اہم سفارتی پیش رفت ہوگی۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں زیادہ تر ایران اور لبنان کے شہری شامل ہیں اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

رواں ہفتے ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے بعد ٹرمپ نے  آبنائے ہرمز کے اطراف نئے حملوں کا حکم دیا، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کی، جس کے باعث اپریل کے آغاز میں نافذ ہونے والی کمزور جنگ بندی کی صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی۔

ادھر ایران کا کہنا ہے کہ اس نے اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ زیرِ مذاکرات متن کے بڑے حصے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، تاہم ایران اپنی سرخ لکیروں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *