پاکستان اور انڈیا کے درمیان کارگل جنگ کے 27 سال بعد ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے، جو میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ تل ابیب اور نئی دہلی کے درمیان رات گئے ہونے والی فون کالز میں رقم ہوا اور جس کے دوران اسرائیل نے خاموشی سے انڈیا کو جنگی معاونت فراہم کی۔
کارگل انڈیا کے زیر اتنظام علاقے لداخ کا ایک ضلع ہے۔ 1999 میں مئی سے جولائی تک ہمالیائی پہاڑیوں میں لڑی جانے والی کارگل جنگ کے دوران دونوں ممالک کے سینکڑوں فوجی مارے گئے جبکہ ہزاروں دیگر زخمی ہو گئے۔ اس جنگ کے دوران لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف عام شہریوں کا بھی کافی جانی و مالی نقصان ہوا تھا۔
انڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس کی فوج نے پاکستانی فوجیوں کو واپس اپنی جگہ پر دھکیل کر جنگ جیت لی تھی۔ وہ ہر سال 26 جولائی کو اس ’جیت‘ کی خوشی اور یاد میں ’کارگل وجے دیوس‘ مناتا ہے۔
رواں برس کارگل وجے دیوس کے موقعے پر اسرائیلی فضائیہ کے دو سابق افسران نے پہلی بار انڈین ٹیلی وژن این ڈی ٹی وی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اس خفیہ دفاعی شراکت داری کے بارے میں بات کی، جس نے 1999 میں آپریشن وجے اور آپریشن سفید ساگر کے دوران انڈین فضائیہ کو سازوسامان فراہم کرنے میں مدد دی۔
رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے سابق سویلین پروگرام مینیجر ایمی اور اسرائیلی فضائیہ کے تجربہ کار جنگی پائلٹ اور سابق میراج سکواڈرن کمانڈر شلومو نے بتایا کہ جنگ سے کئی برس قبل ایک معمول کے دفاعی معاہدے کے طور پر شروع ہونے والا منصوبہ کس طرح اچانک ایک ہنگامی مشن میں تبدیل ہو گیا، جس نے لڑائی کا رخ بدل دیا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق یہ کہانی نومبر 1996 میں شروع ہوئی، جب رافیل نے انڈیا کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تاکہ میراج 2000 لڑاکا طیاروں میں لائٹننگ ٹارگٹنگ پوڈ نصب کیے جائیں۔ یہ نظام انڈین پائلٹوں کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ درستگی سے اہداف کی نشاندہی اور ان پر حملہ کرنے کی صلاحیت دیتا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایمی کے مطابق دسمبر 1996 سے مارچ 1999 کے درمیان اسرائیلی انجینیئرز اور انڈین حکام نے انڈیا کی ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) اور ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کے ساتھ نہایت سخت اور پیشہ ورانہ آزمائشی مراحل مکمل کیے۔
مارچ 1999 تک طیاروں کے ابتدائی تجربات مکمل ہو چکے تھے، لیکن ایمی کے بقول اب بھی ایک اہم چیز باقی تھی۔
وہ کمی ایک ہنگامی فون کال کی صورت میں پوری ہوئی، جو نئی دہلی سے نہیں بلکہ تل ابیب سے کی گئی تھی۔ یہ کال انڈیا کے اُس وقت کے دفاعی اتاشی گروپ کیپٹن این اے کے براؤن نے کی، جو بعد میں انڈین فضائیہ کے سربراہ بنے۔
یہ فون کال جمعے کی رات، یہودیوں کے مذہبی دن شبات کے آغاز پر کی گئی، جب اسرائیل میں معمول کی زندگی تقریباً رک جاتی ہے۔
اتوار کی صبح تک انجینیئرز اور ماہرین کی ایک ٹیم، جس میں ایمی، شلومو اور چند دیگر ساتھی شامل تھے، جنہیں صرف ان کے ناموں کے پہلے حصے سے یاد کیا جاتا ہے، راتوں رات تیار کیے گئے آلات اور آزمائشی سامان کے ڈبے لے کر انڈیا روانہ ہو چکی تھی، حالانکہ انہیں خود بھی پوری طرح معلوم نہیں تھا کہ وہاں ان کا کس صورت حال سے سامنا ہوگا۔
انڈیا پہنچنے پر امی کے مطابق فضائی اڈے کے کمانڈنگ افسر نے ٹیم کو صرف اتنا بتایا کہ صورت حال توقع سے ’بہت، بہت زیادہ‘ تقاضا کر رہی ہے۔ اس کے بعد ٹیم کئی روز تک دن رات مسلسل کام کرتی رہی اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کب واپس اپنے وطن جا سکیں گے۔
شلومو کے مطابق تکنیکی چیلنج انتہائی مشکل تھا۔ اسرائیل میں تیار کردہ ٹارگٹنگ پوڈ، فرانسیسی ساختہ طیارے پر نصب تھا، جبکہ اسے امریکی ساختہ لیزر گائیڈڈ بموں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا تھا۔
یعنی تین مختلف نظاموں کو ایک ہی ’زبان‘ میں بات کرنا سیکھنا تھا تاکہ عبرانی بولنے والا پائلٹ اور انڈین زمینی عملہ جنگی دباؤ کے دوران انہیں مؤثر انداز میں استعمال کر سکیں۔
شلومو کے مطابق اس مقصد کے لیے انڈیا کے درجنوں دورے، زمین پر بے شمار تکنیکی مسائل کا حل تلاش کرنا اور کئی ایسے مراحل طے کرنا پڑے جب بجلی یا انجن کی خرابیوں کی وجہ سے آزمائشیں اس وقت تک رکی رہیں، جب تک پائلٹ فضا میں نظام کی کارکردگی کا جائزہ نہ لے سکیں۔
انڈیا اور اسرائیل کا یہ فوجی و دفاعی تعاون یہیں تک محدود نہیں رہا۔ مئی 2025 میں انڈیا کے ساتھ ہونے والی مختصر جنگ کے دوران بھی پاکستان نے دعویٰ کیا کہ نئی دہلی نے اسرائیلی ساختہ ڈرونز استعمال کیے۔
پاکستانی فوج نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ آٹھ مئی 2025 کو انڈیا کی جانب سے پاکستان کے مختلف شہروں میں ڈرون حملے کیے گئے، جن میں ہیروپ ڈرون استعمال کیے گئے۔ یہ ڈرون اسرائیل کی کمپنی اسرائیل ایئروسپیس انڈسٹریز کے تیار کردہ ہیں۔
