وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے جعمے کو اپنا تیسرا بجٹ پیش کیا۔ وزیر اعظم نے ایک بیان میں اعتراف کیا کہ ماضی میں معاشی حالات کی وجہ سے ٹیکس لگانے پڑے تو آئیں دیکھیں اس مرتبہ کیا ریلف دیا گیا ہے۔
وفاقی بجٹ 2026-27 میں حکومت نے عام آدمی کو بظاہر محدود مگر چند نمایاں شعبوں میں ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ عام شہری کے لیے اہم ریلیف یہ ہیں:
- محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد جبکہ سابق ملازمین کی پینشن میں بھی اتنا ہی اضافہ تجویز یا ہے۔ اسی طرح کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
- تنخواہ دار طبقے کی ریلیف: چار سلیز کے لیے ریلیف، 1۔ 22 سے 32 لاکھ کے درمیان تنخواہ دار سالانہ آمدن پر 23 سے کم کرکے 20 فیصد، 32 سے 41 لاکھ 30 سے کم کرے کے 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ آمدن پر 35 سے کم کر کے 29 فیصد اور 56 سے 70 لاکھ روپے کی آمدن پر 35 سے کم کر کے 32 فیصد کر دی گئی ہے۔
- سپر ٹیکس کی شرح میں کمی: 15 سے 50 کروڑ تک کاروبار سے آمدن کی چھ سلیبز پر سپر ٹیکس مکمل ختم۔ 50 کروڑ سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 10 سے کم کرکے 8 فیصد اور فروخت پر 8 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
- آئی ٹی برآمدات کی آمدن پر رعایت 30 جون 2029 تک جاری رکھنے کی تجویز۔
- جائیداد کی منتقلی پر ودہولڈنگ ٹیکس فائلرز کے لیے خریداری پر اڑھائی فیصد سے کم کرکے ایک اشاریہ دو فیصد کرنے کی تجویز۔
- ایکسپورٹ انکم ٹیکس میں کمی۔
- کریڈٹ / ڈیبٹ کارڈ کی بین القوامی ٹرانشیکشز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں 5 سے کم کر کے صفر اشاریہ 5 فیصد کرنے کی تجویز۔
-
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
- غیرملکی اثاثے رکھنے پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز۔
- خواتین کے لیے سینٹری پیڈز اور دیگر متعلقہ اشیا پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز۔
- آبادی پر قابو کے لیے حمل مانع ادویات /اشیا پر ٹیکس مکمل ختم۔
- وزیر اعظم اپنا گھر سکیم کے لیے 71 ارب روپے مختص
- سوشل سیفٹی نیٹ (بی آئی ایس پی) کے لیے 1091 ارب روپے مختص۔ کفالت پروگرام کو ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں تک بڑھایا جائے گا۔
- شاہراہوں، ریل اور بندرگاہوں کی ترقی کے لیے 365 ارب روپے۔ کراچی – چمن شاہراہ کے لیے سو ارب روپے۔
- صحت کے شعبے کے لیے 25 ارب روپے۔
- اعلی تعلیم کے لیے 46 ارب روپے۔ دانش سکولوں کے لیے 22 ارب روپے۔
- کشمیر کے لیے 45، گلگت بلتستان کے 44 اور
