صدر آصف علی زرداری نے آج پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے اثاثوں، واجبات اور انتظامی کنٹرول کو نئے مالکان کے حوالے کرنے سے متعلق بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد قومی ایئرلائن کی نجکاری کے عمل کی تکمیل کے لیے درکار قانونی تقاضے پورے ہو گئے ہیں۔
صدر مملکت کے دفتر کی جانب سے جمعے کو جاری بیان کے مطابق ’پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (کنورژن) (ریپیل) بل 2026‘ پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے 10 اور 11 جون کو منظور ہونے کے بعد اب باقاعدہ قانون بن گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بل کی منظوری کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کمپنی لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری مکمل کرنے کے لیے ضروری قانونی شرائط پوری ہو گئی ہیں۔
پی آئی اے، جو کئی برسوں کے دوران 2.8 ارب ڈالر سے زائد خسارے کا شکار رہی، کو دسمبر 2025 میں نجکاری کے عمل کے تحت فروخت کیا گیا تھا۔ عارف حبیب گروپ کی قیادت میں قائم کنسورشیم نے مسابقتی بولی کے عمل میں 135 ارب روپے کی پیشکش کے ذریعے ایئرلائن کے 75 فیصد حصص حاصل کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔
اس بولی کے تحت پی آئی اے کی مجموعی مالیت تقریباً 180 ارب روپے لگائی گئی تھی۔
تاہم حکام کے مطابق نجکاری کے عمل میں بعض قانونی، انتظامی اور ریگولیٹری شرائط کی تکمیل نہ ہونے کے باعث حتمی منتقلی تاخیر کا شکار تھی۔ ان شرائط کے تحت حکومت اور خریدار دونوں کو ملکیت اور انتظامی کنٹرول کی منتقلی سے قبل مختلف تقاضے پورے کرنا تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نجکاری کمیشن اور وزارت دفاع کے حکام نے حال ہی میں بتایا تھا کہ متعدد ’کنڈیشنز پریسیڈنٹ‘ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکیں، جس کے باعث لین دین کا عمل مکمل نہیں ہو سکا۔
عارف حبیب، جو پی آئی اے خریدنے والے کنسورشیم کی قیادت کر رہے ہیں، نے بل کے قانون بننے کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پی آئی اے کے لیے اچھا قدم ہے۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
نجکاری کمیشن کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق کنسورشیم اب تک پانچ ارب روپے ادا کر چکا ہے جبکہ تقریباً 85 ارب روپے کی مزید ادائیگی پہلے مرحلے کی تکمیل پر واجب الادا ہے۔
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت نے ابھی تک کنسورشیم کو انتظامی کنٹرول منتقل نہیں کیا، اس لیے توقع ہے کہ باقی رقم حکومت کی جانب سے حوالگی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ادا کی جائے گی۔
کنسورشیم پہلے ہی یہ عندیہ دے چکا ہے کہ وہ پی آئی اے کے باقی ماندہ 25 فیصد حصص بھی خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں قومی ایئرلائن مکمل طور پر نجی ملکیت میں جا سکتی ہے۔
