پانچ ہزار امریکی شہریوں نے 2025 میں ملک چھوڑ دیا

امریکی انٹرنل ریونیو سروس (آئی آر ایس) کے ڈیٹا کے مطابق 2025 میں تقریباً 5000 افراد نے اپنی امریکی شہریت ترک کر دی، جو 2020 کے بعد امریکہ سے مستقل طور پر تعلق توڑنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

فیڈرل رجسٹر میں شہریت ترک کرنے کا انتخاب کرنے والے ہزاروں افراد کے نام شامل تھے۔ یہ رجسٹر شہریت چھوڑنے والوں کی تعداد کا ریکارڈ رکھتا ہے۔

 بیرون ملک مقیم امریکی شہریوں یا طویل عرصے سے مقیم ایسے افراد جنہیں آئی آر ایس کی جانب سے امریکی شہری سمجھا جاتا ہے، ان کے اس فیصلے کی وجہ اکثر ٹیکس کے معاملات ہوتے ہیں۔

لیکن کچھ لوگوں کے لیے، یہ ایک ذاتی فیصلہ ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں مقیم اور بیلجیئم کی شہریت رکھنے والی ایک امریکی خاتون لِلی نے بیرون ملک امریکی شہریوں کو ٹیکس کے حوالے سے مدد فراہم کرنے والی تنظیم امریکنز اوورسیز کو بتایا کہ ان کا شہریت ترک کرنا امریکہ کے خلاف ’بغاوت کی ایک شکل‘ تھا۔

نیوزی لینڈ میں مقیم ایک امریکی خاتون ایرن کلاٹ نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے مستقل طور پر وہیں بسنے کا فیصلہ کرنے کے بعد مالی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر اپنی شہریت ترک کرنے کا انتخاب کیا۔

ایرن کلاٹ نے سی این این کو بتایا: ’میں نے کبھی بھی ملک کے لیے بہت زیادہ حب الوطنی یا اس سے لگاؤ محسوس نہیں کیا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ملک کی سیاسی سمت سے مایوس تھیں۔

لندن میں مقیم ایک شخص نے اکتوبر میں واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ’اگر انتخابات نہ ہوتے تو میں ایسا نہ کرتا۔‘

اس نامعلوم برطانوی شخص نے کہا: ’میں بس یہ نہیں سمجھ سکا اور اب بھی نہیں سمجھ سکتا کہ کس طرح ایک تہائی امریکی یہ سوچ سکتے ہیں کہ ایک مجرم اور جنسی درندہ اس عہدے کے لیے صحیح شخص ہے۔‘

وائٹ ہاؤس کا دوبارہ کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے، ٹرمپ نے ایسی پالیسیاں نافذ کی ہیں جنہوں نے امریکہ میں لوگوں کے کچھ گروہوں کے لیے زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ 

خواجہ سراؤں کے حوالے سے، صدر نے پاسپورٹ پر اپنی پسند کی صنف ظاہر کرنے کا اختیار ختم کر دیا ہے، ان کے فوج کا حصہ بننے پر پابندی لگا دی ہے اور ایتھلیٹس کو ان سپورٹس ٹیموں میں حصہ لینے سے روکنے کی کوشش کی ہے, جو ان کی صنف سے مطابقت رکھتی ہوں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہر سال تقریباً 3000 سے 5000 لوگ امریکہ سے ترک وطن کررہے ہیں۔

زیادہ تر یہ فیصلہ مالی وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے کیوں کہ امریکہ منفرد طور پر رہائش کے بجائے شہریت کی بنیاد پر آمدنی پر ٹیکس لگاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک مقیم امریکیوں کو آئی آر ایس میں سالانہ ریٹرن فائل کرنا لازمی ہے، چاہے انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ امریکہ سے باہر ہی کیوں نہ گزارا ہو۔

سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق، شہریت ترک کرنا یا طویل مدتی رہائش ختم کرنے کی طرف بڑھنا ایک طویل عمل ہے جو انتظامی مسائل سے بھرا ہوا ہے۔

کسی بھی شخص کو سب سے پہلے اس قونصل خانے یا سفارت خانے سے رابطہ کر کے ترک شہریت کے سرٹیفکیٹ کی درخواست دینا ہوتی ہے، جہاں وہ مقیم ہے۔ 

انہیں بیرون ملک امریکی سفارتی یا قونصلر دفتر میں دو انٹرویوز دینا ہوتے ہیں، جن میں سے ایک میں ان کی ذاتی طور پر موجودگی لازمی ہے۔ انہیں ذاتی طور پر ترک شہریت کا حلف بھی اٹھانا ہوتا ہے اور یہ تسلیم کرنا ہوتا ہے کہ ایسا کرنے کے نتیجے میں وہ کسی بھی ملک کی شہریت سے محروم ہو سکتے ہیں۔

2024 میں بھی تقریباً 4800 لوگوں نے امریکہ سے اپنی وابستگی ختم کرنے کا انتخاب کیا، لیکن 2025 میں اس سے قدرے زیادہ تقریباً 4,900 افراد نے یہی فیصلہ کیا۔

توقع کی جا رہی ہے 2026 میں اس سے بھی زیادہ لوگوں امریکی شہریت ترک کر دیں گے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے قونصلر فیس میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ اپریل سے پہلے، یہ فیس 2350 ڈالر تھی، لیکن اب یہ 450 ڈالر ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *