امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ آج رات ایران پر شدید حملہ کر کے جزیرہ خارگ پر قبضہ کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بات ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک تازہ بیان میں کہی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر سے صورت حال کشیدہ ہے جہاں دونوں نے ہی حالیہ دنوں میں ایک دوسرے پر حملوں کے دعوے کیے ہیں۔
ان تازہ حملوں کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پھر سے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے جس پر پاکستان اور دیگر ممالک نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دونوں فریقین سے جنگ بندی کی پاسداری کی اپیل کی ہے۔
ایسے میں اب ایک بار امریکی صدر کی جانب سے ایران پر پھر سے حملے کا بیان سامنے آیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’امریکہ آج رات ایران پر (جس کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار، طیارہ شکن دفاعی نظام اور دفاع کی تمام دیگر اقسام، اس کی زیادہ تر جارحانہ صلاحیتوں سمیت، ختم ہو چکی ہیں) بہت سخت حملہ کرے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’مستقبل قریب میں ہم جزیرہ خارگ اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کے دیگر مقامات پر قبضہ کر لیں گے، اور ان کی تیل اور گیس کی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں گے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’بالکل اسی طرح جیسے ہم نے وینزویلا کے ساتھ کیا ہے، جو وینزویلا اور امریکہ دونوں کے لیے شاندار طریقے سے کام کر رہا ہے۔‘
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے حوالے سے معاہدے پر بات چیت میں بہت زیادہ وقت لے لیا ہے اور اب اسے ’قیمت چکانا پڑے گی۔‘
ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب دونوں فریقوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کی وجہ سے اپریل میں نافذ ہونے والی جنگ بندی مزید کشیدگی کا شکار ہو گئی۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’ہم نے کل انہیں سخت نشانہ بنایا اور آج بھی ہم انہیں بھرپور طریقے سے نشانہ بنائیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہم ان پر حملہ کریں گے اور بہت سخت حملہ کریں گے۔‘
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بدھ ہی کو ایک بار پھر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ایران کے بھی قریب ہیں اور وہ اب بھی ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
