80 برس کی عمر۔ نہ صرف امریکہ کے عظیم ترین صدر، جو دن میں خواب دیکھتے ہیں کہ ان کے تراشیدہ نقوش رشمور پہاڑی پر کندہ ہوں، بلکہ اس اعلیٰ منصب پر فائز ہونے والے تاریخ کے معمر ترین شخص بھی۔
جی ہاں، ڈونلڈ ٹرمپ 80 برس کے ہونے جا رہے ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ بات ہر ایک کے ذہن میں ہے۔ جمعرات کو وائٹ ہاؤس نے شدید ردعمل ظاہر کیا جب ایک وائرل ویڈیو کلپ میں صدر کو اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران ایک جانب جھکے ہوئے اور آنکھیں بند کیے دیکھا گیا، یقیناً وہ صرف آنکھوں کو آرام دے رہے تھے۔
وہ زندگی کے اس مرحلے میں ہیں جب اکثر حضرات کام کو بھول جانا پسند کرتے ہیں، گالف کھیلتے ہیں، فلوریڈا کے کسی بھڑکیلے ریزورٹ میں آرام کرتے ہیں اور دوپہر کی نیندیں لیتے ہیں۔ خیر، اس لحاظ سے شاید ڈونلڈ بھی زیادہ مختلف نہیں، لیکن کم از کم انہوں نے یہ لالچ نہیں کیا کہ امریکہ کی ڈھائی سو سالہ تقریبات کے فائٹ سٹیج کا نام ’ٹرمپ 80‘ رکھ دیتے۔ شاید اس لیے کہ یہ ہم سب کو بہت زیادہ یاد دلاتا کہ دنیا کا مستقبل ایک ایسے شخص کے ہاتھوں میں ہے جو آہستہ آہستہ حقیقت پر اپنی جو بھی گرفت تھی، اسے کھوتا جا رہا ہے۔
صدر اپنے ہی کمالات کے اس قدر اسیر ہیں کہ اب وہ واشنگٹن کے منظرنامے میں یو ایف سی اور اس کے مشہور روشنیوں والے ’کلا‘ (Claw) ڈھانچے کو مستقل حصہ بنانے کی بات کر رہے ہیں، گویا یہ وہاں کی دوسری نیوکلاسیکی عمارتوں اور امریکہ کے شہدا کی پُروقار یادگاروں کے ساتھ بڑی ہم آہنگی سے میل کھاتا ہو۔ یہی تو تھامس جیفرسن کا خواب تھا۔
کیا یہ بھی ٹرمپ دورِ صدارت کی ایک اور افسوسناک یادگار بنے گی، اس بدصورت حد سے زیادہ بڑے ٹرمپ بال روم، ُس فتحی محراب نما حماقت یا شاید لنکن میموریل کے ریفلیکٹنگ پول کو بچوں کے تالاب میں بدلنے کے منصوبوں کے ساتھ؟
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگر ڈونلڈ صرف مذاق کر رہے تھے تو ہمیں تسلی ہو سکتی ہے کہ ’پیپلز ہاؤس‘ کے گرد و نواح کا وقار اور حسن بحال ہو جائے گا، کیونکہ ان کے بقول وہ، جیسا کہ آپ توقع کریں گے، ’گھاس کے بارے میں کسی بھی انسان سے زیادہ جاننے والے شخص‘ ہیں۔
یہ ایک بڑا دعویٰ ہے، لیکن دیکھیے: ٹیکس نظام، مقدمات، فوج، داعش، امن سازی، خواتین، ڈرونز اور جائیداد کے شعبے میں بھی وہ خود کو سب سے بڑا ماہر سمجھتے ہیں۔ کوئی ان کے قریب بھی نہیں۔
چند دن خاصے عجیب گزرے ہیں، حتیٰ کہ ٹرمپ کے معیار کے مطابق بھی۔ گذشتہ برس وہ فرضی چارٹس لہرایا کرتے تھے جن میں ان کے من مانے ٹیرف کی شرحیں دکھائی جاتی تھیں، جن میں غیر آباد علاقوں پر عائد محصولات بھی شامل تھے۔
لیکن اب تو اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک تختی تیار کروائی ہے جس میں لنکن میموریل کے ساتھ موجود ریفلیکٹنگ پول کو مختلف فلک بوس عمارتوں سے ’بڑا‘ دکھایا گیا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ افقی ہے اور ٹڈے سے بھی زیادہ اونچا نہیں۔
ٹرمپ نے جنگ بندی کی ایک نئی قسم بھی ایجاد کر لی ہے، جس میں فریقین بظاہر فائرنگ جاری رکھ سکتے ہیں، بس نسبتاً معتدل انداز میں۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ جیسا کہ میرے ساتھی اینڈریو فائن برگ نے رپورٹ کیا ہے، 80ویں سالگرہ قریب آنے کے ساتھ ٹرمپ منظر عام پر کم سے کم دکھائی دینے لگے ہیں۔
اپنی اس خیالی دنیا میں، جہاں وہ زمین کے ہر تنازعے کو حل کر چکے ہیں، ان تنازعات کو بھی جو انہوں نے خود شروع کیے، اور ان کو بھی جن کے وقت وہ موجود ہی نہیں تھے اور جو ان کے خیال میں اگر وہ زندہ ہوتے تو کبھی شروع ہی نہ ہوتے، بشمول یوکرین، دوسری عالمی جنگ، 1898 کی ہسپانوی-امریکی جنگ اور شاید پیلوپونیشیائی جنگیں بھی (کیوں نہیں؟)۔ وہ دنیا کی عظیم ترین معیشت بھی تشکیل دے چکے ہیں۔
ہمیں یہ یقین دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ٹرمپ اتنے کامل جسمانی نمونے ہیں کہ انہیں نیند کی ضرورت ہی نہیں، حالانکہ عوامی تقریبات میں ان کی بعض غیر معمولی طور پر طویل ’پلک جھپکنے‘ کی حرکات کچھ اور ہی کہانی سناتی ہیں۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو کہتے ہیں کہ ٹرمپ انہیں رات کے کسی بھی پہر فون کر لیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کی وسیع رات بھر کی سرگرمیاں بھی یہی ظاہر کرتی ہیں کہ وہ زیادہ وقت بے ہوش یا سوئے ہوئے نہیں گزارتے۔ مسئلہ، البتہ، یہ ہے کہ دن کے وقت ان کی کارکردگی کیسی رہتی ہے۔
حالیہ عرصے میں انہوں نے اپنی عوامی سرگرمیاں کم کر دی ہیں۔ جلسے جلوس اور باقاعدہ پریس کانفرنسیں کم ہو گئی ہیں، اور جیسا کہ بائیڈن وائٹ ہاؤس کے سابق ترجمان اینڈریو بیٹس نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا، منظر سے ٹرمپ کا ہٹنا ’رپبلکن امیدواروں کے لیے دوہرا نقصان ہے کیونکہ ٹرمپ کی تنزلی اب اس بڑھتی ہوئی نااہلی میں ظاہر ہو رہی ہے کہ وہ یہ تاثر بھی نہیں دے سکتے کہ انہیں ٹیکس دہندگان کے پیسے سے منافع کمانے اور اپنی یادگاریں تعمیر کرنے کے علاوہ کسی اور چیز کی پروا ہے۔‘
’جب وہ منظر عام پر آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ وہ امریکیوں کی مالی حالت کے بارے میں ذرا بھی نہیں سوچتے، لیکن جب کیمروں سے دور ہوتے ہیں تو پوپ کے بارے میں یا اس بات پر غصے بھرے پیغامات پوسٹ کر رہے ہوتے ہیں کہ عدالتوں نے ان کے حواریوں کے لیے قائم فنڈ بند کر دیا۔‘
آج کا ٹرمپ خود پسند، غیر محفوظ، لالچی، انتقام پسند، بڑبڑانے والا، بدزبان، حسد کرنے والا اور ہوس پرست ہے۔ ’دی آرٹ آف دی ڈیل‘ کے دور کے ٹرمپ یا اپنی پہلی صدارت والے ٹرمپ سے بہت مختلف نہیں۔ فرق صرف عمر کا ہے۔
ٹرمپ تھک چکے ہیں۔ وہ ’اونگھتے ہوئے ڈان‘ بن چکے ہیں۔
وہ ماضی کی نسبت زیادہ وہم و گمان کا شکار ہوتے ہیں اور حقیقی دنیا کو نظر انداز کرتے ہیں، اور یہ بات خود بہت کچھ کہتی ہے۔ اسی لیے وہ زیادہ خطرناک بھی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے پہلی بار ٹرمپ کو اپنی پسند کی جنگ شروع کرتے دیکھا ہے، یعنی ایران کے ساتھ جنگ، جس کے بارے میں وہ مسلسل خواب دیکھتے ہیں کہ فتح جلد حاصل ہونے والی ہے، لیکن جیسا کہ عالمی معیشت بخوبی جانتی ہے، اس کے خاتمے کے آثار بہت کم نظر آتے ہیں۔
جوں جوں وہ عوامی منظر سے اوجھل ہوتے جا رہے ہیں، وہ ایک دھندلکی بھری دنیا میں داخل ہوتے جا رہے ہیں جہاں رات کے سناٹے میں تنہا بیٹھ کر وہ کسی شوخ مزاج رات گئے کے مزاحیہ میزبان سے لے کر کسی درمیانے درجے کی ریاست تک، کسی کو بھی دھمکیاں دے سکتے ہیں۔
ملک کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم سب ایک امریکی ڈراؤنے خواب کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔
