خیبر پختونخوا حکومت میں پی ٹی آئی کا ناراض گروپ کتنا مضبوط؟

صوبہ خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں اور بعض حکومتی اراکین اسمبلی نے صوبائی قیادت سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ساتھ 30 سے 40 ارکان پر مشتمل ایک گروپ موجود ہے۔

ان ناراضیوں کی خبریں صوبائی کابینہ میں حالیہ توسیع کے بعد سامنے آئیں جس کے بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا ۔

تاہم متعدد اراکین اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ صوبائی حکومت نے اس عدم شرکت کو اراکین کی ذاتی مصروفیات سے منسلک کیا تھا۔

ناراض اراکین کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت اور پارٹی قیادت پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہی۔

سابق صوبائی وزیر اور رکن اسمبلی مشتاق احمد غنی کے مطابق ان کے گروپ کا ایجنڈا صرف ایک نکتے پر مشتمل ہے اور وہ عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر تحریک اور واضح لائحہ عمل اختیار کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا ’ہم نہ حکومت گرانا چاہتے ہیں، نہ کسی کی کرسی کو خطرہ لاحق کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی کے خلاف محاذ کھول رہے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ بجٹ سمیت اہم فیصلے عمران خان کی مشاورت سے کیے جائیں۔‘

اسی طرح رکن اسمبلی فضل الہیٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کے ہم خیال گروپ میں 35 سے 40 اراکین شامل ہیں۔ ان کے مطابق چند ہفتے قبل ہونے والے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 92 میں سے صرف 52 اراکین نے شرکت کی تھی۔

تاہم مشتاق احمد غنی اور فضل الٰہی کے علاوہ ابھی تک کوئی اور رکن اسمبلی کھل کر سامنے نہیں آیا جس نے صوبائی حکومت یا پارٹی قیادت پر براہِ راست تنقید کی ہو۔

فضل الہیٰ کا کہنا تھا کہ ان کا مطالبہ صرف وزیر اعلیٰ سے نہیں بلکہ پوری پارٹی قیادت سے ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو بجٹ کی منظوری مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ناراض اراکین کے تحفظات کی بنیادی وجہ کابینہ میں شمولیت سے محرومی ہو سکتی ہے جبکہ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ سیاسی مؤقف کے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے۔

پشاور میں صحافی طارق وحید کے مطابق کابینہ میں حالیہ توسیع کے بعد یہ اختلافات نمایاں ہوئے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا ’کئی اراکین کو امید تھی کہ انہیں کابینہ میں شامل کیا جائے گا لیکن ایسا نہ ہونے پر ان میں ناراضی پیدا ہوئی۔

’عمران خان کی رہائی کا نعرہ اپنی جگہ اہم ہے، تاہم موجودہ اختلافات کے پس منظر میں کابینہ میں نمائندگی کا معاملہ زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔‘

ان کے مطابق ناراض اراکین فی الحال پارٹی یا حکومت کے خلاف کھل کر جانے کی پوزیشن میں نہیں البتہ وہ بعض پالیسیوں اور حکومتی طرزِ عمل پر تنقید کر رہے ہیں۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے سیاسی امور پر نظر رکھنے والے صحافی لحاظ علی کا کہنا ہے کہ یہ ناراض گروپ صوبائی حکومت کے لیے ایک سنجیدہ سیاسی چیلنج بن سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا ’میری متعدد ناراض اراکین سے بات ہوئی ہے۔ ان کے وزیر اعلیٰ سے کئی گلے شکوے ہیں، جن میں ایک اہم شکایت یہ بھی ہے کہ وزیر اعلیٰ اراکین اسمبلی کو مناسب وقت نہیں دیتے۔‘

ان کے مطابق ناراض اراکین اپنے حلقوں کے لیے ترقیاتی فنڈز اور منصوبوں کے حصول کے خواہاں ہیں، لیکن ان کے مطالبات اور مسائل کو مؤثر انداز میں نہیں سنا جا رہا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں پرویز خٹک کے دور حکومت میں بھی ایسا ایک گروپ سامنے آیا تھا، تاہم اس وقت اختلافات کو سیاسی طور پر بہتر انداز میں سنبھال لیا گیا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *