’ہر جہاز کو دیکھ کر ڈر لگتا ہے‘: ایئر انڈیا حادثے کے زندہ بچ جانے والوں کی آپ بیتی

ایئر انڈیا فلائٹ 171 کو پیش آنے والے حادثے کے ایک سال بعد، جو احمد آباد میں ایک میڈیکل کالج کے کیمپس سے ٹکرا گئی تھی، تباہی کے نشانات اب بھی زمین پر نقش ہیں۔

بائی رامجی جیجی بھائی میڈیکل کالج کی سیاہ ہو جانے والی ہاسٹل کی عمارتیں اب مدھم سرمئی رنگ اختیار کر چکی ہیں اور وہ بڑا شگاف جہاں سے جہاز عمارت میں داخل ہوا تھا، اب کسی بڑے حادثے کے بجائے عمر رسیدگی اور لاپروائی کا نتیجہ زیادہ لگتا ہے۔

یہ انڈیا کے بدترین فضائی حادثات میں سے ایک تھا۔

دی انڈیپنڈنٹ نے اس مقام کا ایک سال بعد دورہ کیا، جہاں اس حادثے میں 260 افراد کی موت ہوئی تھی، جن میں 19 افراد زمین پر موجود تھے، جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ جو لوگ زمین پر اس سانحے سے گزرے، ان کے لیے وقت نے یادوں کی شدت کو کم نہیں کیا۔

ان کے مطابق اس جگہ واپس جانے سے سانحے کا دکھ ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو زخموں کو دوبارہ تازہ کر دیتا ہے اور وہ اسے دوبارہ کبھی جینا نہیں چاہتے۔ تباہ شدہ عمارتوں کا منظر خوف، موت اور شدید تکلیف کی یادیں واپس لے آتا ہے۔

تمام زندہ بچ جانے والوں کے پاس یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ واپس جائیں یا نہیں۔ تورالبین شیلش بھائی لکشاری، جو کینٹین میں کام کرتی تھیں، حادثے کے دن آگ سے بچ کر نکلتے ہوئے زخمی ہو گئیں۔ وہ خوف کے ساتھ یاد کرتی ہیں کہ انہیں اور دیگر عملے کو جلی ہوئی عمارت میں واپس جا کر کچن کا سامان نکالنے کا حکم دیا گیا، جو مکمل طور پر خراب نہیں ہوا تھا۔

ہر قدم ان کے لیے ان لوگوں کی یاد دلاتا تھا، جن کی وہاں موت ہوئی تھی، جن میں ایک پانچ سالہ بچی بھی شامل تھی، جسے وہ جانتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں: ’جب ہم وہاں گئے تو میرا پورا جسم سن ہو گیا تھا۔ میرے اندر ہمت نہیں تھی کہ میں اندر جا سکوں۔ میں صرف یہی سوچ رہی تھی کہ میں جلد از جلد کیسے نکلوں۔‘

43 سالہ تورالبین شیلش بھائی لکشاری 12 جون کو میڈیکل کالج میں کام کر رہی تھیں جب طیارہ گر کر تباہ ہوا۔ وہ کہتی ہیں: ’جب میں اس جگہ گئی تو میرے ذہن میں صرف یہی تھا کہ یہاں کتنے لوگ مر گئے۔ کتنی دیر تک لاشیں یہاں پڑی رہیں، وہ چیخ رہے ہوں گے۔ کچھ لوگ شاید پانی کے بغیر مر گئے ہوں گے۔‘

وہ ایک پانچ سالہ بچی عادھیا کی موت کا ذکر کرتی ہیں جو اپنی دادی سرلا بین کے ساتھ کینٹین آتی تھی۔ دونوں اس حادثے میں جان سے چلی گئیں، لیکن ان کی لاشوں کی شناخت ڈی این اے نمونوں کے ذریعے سات دن بعد ہوئی۔

وہ سوال کرتی ہیں: ’خدا نے جو کرنا تھا کیا، لیکن اس معصوم بچی کی جان کیوں لی گئی؟ اس کا کیا قصور تھا کہ وہ وقت سے پہلے مر گئی؟‘

ان کے لیے صرف یادیں ہی نہیں بلکہ وہ جگہ خود بھی اذیت کا باعث بنی۔ وہ بتاتی ہیں کہ حادثے کے تقریباً ایک ماہ بعد انہیں دوبارہ وہاں جانا پڑا، جب تفتیش کاروں نے طیارے کے باقی ماندہ حصے ہٹانے کا حکم دیا۔

وہ کہتی ہیں: ’وہاں بہت بدبو تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے لاشیں سڑنے کے لیے چھوڑ دی گئی ہوں۔ میں بہت خوفزدہ تھی۔ ہر طرف ٹوٹا ہوا شیشہ بکھرا ہوا تھا۔‘

56 سالہ گیتا بین پٹیل، جو ایک اور کینٹین ورکر ہیں اور حادثے میں بچ گئیں، نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ صفائی کے دوران انہیں جلدی بیماری ہو گئی۔ وہ کہتی ہیں: ’میرے پورے جسم پر دانے اور خارش ہو گئی تھی۔ بہت زیادہ خارش تھی۔ یہ تین سے چار دن رہی اور پھر آہستہ آہستہ ٹھیک ہوئی۔‘

دونوں خواتین نے عہد کیا ہے کہ وہ اس جگہ دوبارہ نہیں جائیں گی، جہاں وہ حادثے کے وقت موجود تھیں، اگرچہ وہ اب بھی کالج کے قریب کام کرتی ہیں، تاہم انہیں روزانہ اس مقام کے قریب سے گزرنا پڑتا ہے۔

تورالبین شیلش بھائی لکشاری کہتی ہیں: ’کبھی کبھی حکام کہتے ہیں کہ ہم تباہ شدہ جگہ کو دوبارہ تعمیر کریں گے اور آپ کو وہاں کینٹین چلانی ہوگی۔ لیکن میں نے کہہ دیا ہے کہ میں وہاں نہیں جانا چاہتی۔ وہاں جانے کا سوچ کر ہی جسم کانپ جاتا ہے۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر دوبارہ جہاز اوپر سے گرا تو کیا ہوگا۔‘

دی انڈپینڈنٹ نے بی جے میڈیکل کالج کے ڈین سے رابطہ کر رکھا ہے۔

جب گیتا بین پٹیل دی انڈپینڈنٹ کو کالج دکھا رہی تھیں تو کیمپس کے اوپر سے کئی طیارے گزرے۔ وہ ہر بار اوپر دیکھتیں اور سرخ دم والے طیارے کو دیکھ کر کہتیں: ’لگتا ہے یہ ایئر انڈیا ہے۔ اب بھی جب جہاز گزرتا ہے تو سب کو ڈر لگتا ہے کہ کہیں یہ گر نہ جائے۔ ہم اس پر نظر رکھتے ہیں۔ پہلے ہم کھڑکیوں سے چھلانگ لگا کر بچ گئے تھے، لیکن نہیں معلوم دوبارہ ایسا کر پائیں گے یا نہیں۔‘

گیتا بین پٹیل کو حادثے کے بعد کھڑکی سے نکلتے ہوئے کمر میں شدید چوٹ آئی۔ دونوں خواتین اونچی آوازوں اور اچانک حرکات سے گھبرا جاتی ہیں، حتیٰ کہ گاڑی کے ہارن بھی انہیں پریشان کرتے ہیں۔

تورالبین شیلش بھائی لکشاری کہتی ہیں: ’مجھے پریشر کُکر کی سیٹی یا برتن گرنے کی آواز سے بھی ڈر لگتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کچھ ہونے والا ہے۔ روز کئی بار طیارے یہاں سے گزرتے ہیں اور میں ہر بار ڈر جاتی ہوں۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ وہ ہاسٹل کینٹین میں روٹیاں بنا رہی تھیں جب انہیں اچانک شدید آگ دکھائی دی۔

انہوں نے کہا: ’مجھے لگا گیس سلینڈر پھٹ گیا ہے۔ میں سب کچھ چھوڑ کر بھاگی۔ میں اسی بھگدڑ میں زخمی ہو گئی، مگر مجھے فوراً احساس نہیں ہوا کہ میں زخمی ہوں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اپنے دائیں بازو کے اوپری حصے پر موجود اُس زخم کا نشان دکھاتے ہوئے یہ بات کہی، جو اب بھر چکا ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ وہ کیسے زخمی ہوئیں، بس اتنا یاد ہے کہ ایک گہرا زخم تھا جس سے خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔

دوڑتے ہوئے وہ سیمنٹ کے ڈھیر سے پھسل گئیں۔ وہ کہتی ہیں: ’اس وقت مجھے لگا شاید زلزلہ آ گیا ہے اور ہم نہیں بچیںگے۔ دیوار کے کچھ حصے دو لوگوں پر گر گئے تھے۔‘

وہ یاد کرتی ہیں: ’وہ سب چیخ رہے تھے، ہمیں بچاؤ! لیکن ہم کیسے بچاتے، جب ہر طرف جہاز کے حادثے کا دھواں تھا؟‘

باہر نکلنے کے بعد وہ روئیں اور ان لوگوں کو گلے لگایا جو بچ گئے تھے۔ ان کا بازو بری طرح زخمی تھا، لیکن وہ ابتدائی طور پر ہسپتال جانے کے قابل نہ تھیں۔ بعد میں میڈیکل طلبہ نے انہیں ابتدائی طبی امداد دی اور پھر سول ہسپتال لے گئے۔

وہ کہتی ہیں: ’میں چیخنے لگی۔ ڈاکٹروں نے کہا، آپ صدمے میں ہیں، مت چلائیں۔‘

انہیں ایک ایسے وارڈ میں پہنچایا گیا، جہاں شدید جھلسے ہوئے مریض موجود تھے۔ وہ کہتی ہیں: ’میرے قریب ایک خاتون تھیں جو بری طرح جھلس گئی تھیں۔ کچھ دیگر مریض بھی تھے، جو شدید زخمی تھے۔ میں بہت ڈر گئی اور روتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئی۔‘

وہ اس وقت ہسپتال سے نکلیں جب ڈاکٹر کسی اور مریض کو دیکھ رہے تھے۔ انہیں خدشہ ہے کہ اسی وجہ سے انہیں زخمیوں کو ملنے والے 25 لاکھ روپے کے معاوضے سے محروم کر دیا گیا اور انہیں صرف 3 لاکھ روپے ملے۔

دوسری جانب گیتا بین پٹیل کو کمر پر چوٹ آنے کے باوجود اب تک کوئی معاوضہ نہیں ملا اور وہ 67 زخمیوں کی لسٹ میں شامل نہیں۔

گیتا بین پٹیل، جو گذشتہ 35 برس سے مرد طلبہ کے ہاسٹل میں کھانا پکانے کا کام کر رہی تھیں، نے کہا: ’اس وقت کیے گئے ایکسرے سے معلوم ہوا تھا کہ ریڑھ کی ہڈی کو کچھ نقصان پہنچا ہے۔ میں جاگنے کے بعد سیدھی بیٹھ بھی نہیں سکتی، اتنا درد ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے ایئر انڈیا سے معاوضے کے لیے درخواست دی تو انہیں بتایا گیا کہ معاوضہ صرف ان افراد کو دیا جائے گا جو فضائی حادثے کے بعد ہسپتال میں داخل ہوئے تھے۔

وہ کہتی ہیں: ’کینٹین کے بہت سے لوگ زخمی ہوئے تھے لیکن انہیں ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ہمارے پاس اپنی چوٹوں سے متعلق دستاویزات موجود ہیں، لیکن ہمیں کہا گیا کہ چونکہ آپ ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے، اس لیے آپ معاوضے کے اہل نہیں ہیں۔‘

حادثے کے بعد انہیں دیکھ بھال کی ضرورت تھی اور کینٹین کی عارضی بندش کے باعث آمدن نہ ہونے سے مشکلات مزید بڑھ گئیں۔ وہ کہتی ہیں: ’انہیں ہمیں کچھ نہ کچھ دینا چاہیے تھا۔ ہم زخمی ہوئے تھے۔ عمارت کو پہنچنے والے نقصان کے باعث ہم اپنی ملازمت اور کام کی جگہ سے محروم ہو گئے تھے۔‘

میڈیکل کالج کے طلبہ نے ان کی حمایت میں آواز بلند کی اور ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ انہیں مالی اور طبی امداد فراہم کی جائے۔

تورالبین شیلش بھائی لکشاری بھی حادثے کے بعد اپنی آمدن میں نمایاں کمی کی شکایت کرتی ہیں۔ پڑوس میں واقع پوسٹ گریجویٹ ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ اور ڈاکٹر، جو پہلے ان سے کھانا خریدا کرتے تھے، حادثے کے بعد آنا چھوڑ گئے۔

وہ کہتی ہیں: ’پہلے 50 سے 60 بچے آتے تھے۔ اب یہ تعداد کم ہو کر 30 سے 35 رہ گئی ہے۔ تنخواہ میں بہت زیادہ کمی آ گئی ہے۔ پہلے میں 25 ہزار روپے تک کما لیتی تھی، لیکن اب یہ 10 اور 15 ہزار روپے کے درمیان رہ گئی ہے۔‘

دی انڈپینڈنٹ کی جانب سے بھیجے گئے تفصیلی سوالنامے کے جواب میں ایئر انڈیا نے متاثرہ خاندانوں اور زندہ بچ جانے والوں کو دیے گئے معاوضے کا دفاع کیا۔

ایئر انڈیا کے ترجمان نے کہا: ’ایئر انڈیا اے آئی 171 سانحے سے متاثر ہونے والے ہر فرد کی دیکھ بھال اور ہمدردی کے ساتھ مدد کے لیے پرعزم ہے۔ اگرچہ ہم انفرادی معاملات پر تبصرہ نہیں کر سکتے، تاہم زمین پر زخمی ہونے والے افراد کے معاوضے کا جائزہ منصفانہ اور شفاف انداز میں، قابلِ اطلاق قانون کے مطابق، چوٹ کی نوعیت اور روزگار یا آمدن کے نقصان کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔‘

گیتا بین پٹیل اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتیں۔

انہوں نے کہا: ’ایئر انڈیا نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی ہے اور صرف میرے ساتھ نہیں، ہم میں سے بہت سے لوگ زخمی ہوئے تھے۔ ہر زخمی شخص کو شاید ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن انہیں گھر پر نگہداشت درکار تھی اور وہ بغیر نسخے کے ملنے والی ادویات استعمال کرتے تھے۔ انہیں ایسے لوگوں کو بھی معاوضہ دینا چاہیے تھا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *