کوئٹہ میں پیر کو ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی اہلیہ اور چار کمسن بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔
واقعے میں مجموعی طور چھ افراد جان سے گئے۔ مرنے والے بچوں کی عمریں 12،13،14 اور چھ سال بتائی گئی ہیں۔
واقعہ سہ پیر تین بجے کے قریب وحدت کالونی میں پیش آیا۔ مرنے والے شخص کی شناخت محمد آصف کے نام سے ہوئی جو سیکرٹریٹ میں ملازم تھے۔
آصف نے خود کشی اور اہل خانہ کو قتل کرنے سے قبل ایک وڈیو پیغام میں دو سرکاری ملازمین سمیت کچھ افراد کا نام لے کر وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ افراد ان کے گھر پر قبضہ کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ مختلف طریقوں سے تنگ کر رہے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے میڈیا شاہد رند نے ایک بیان میں بتایا کہ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا جبکہ پولیس نے دو مذکورہ ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
آصف کے ایک رشتہ دار حاتم نے بتایا کہ آصف نے واقعے سے کچھ دیر قبل انہیں فون کر کے بتایا تھا کہ کچھ لوگوں نے انہیں تنگ کر رکھا ہے اور وہ بہت پریشان ہیں۔
حاتم کے مطابق آصف نے کہا کہ وہ انتہائی قدم اٹھانے جا رہے ہیں جس کے بعد حاتم نے اپنے والد کو فون کیا جو کچھ دیر میں گھر پہنچے اور آصف کے دروازے نہ کھولنے پر پولیس کو مطلع کر دیا، جس نے گھر سے لاشیں برآمد کر لیں۔
