جب ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ’آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی‘ تو لاکھوں ایرانی بدترین خدشات میں مبتلا ہو گئے۔ ایک امریکی ڈیموکریٹ ہونے کے باوجود جس نے انہیں ووٹ دیا تھا، میں خود سے یہ سوال کرنے لگی کہ کیا وہ جنگ مخالف امیدوار، جس کی میں نے حمایت کی تھی، اپنا راستہ بھٹک چکا ہے؟
سات اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی، جو پھر کبھی واپس نہیں آئے گی۔‘ ٹرمپ نے یہ خوفناک پیغام ایسے وقت میں پوسٹ کیا جب 38 دن کی جنگ اور ایران بھر میں شدید بمباری کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا۔
ایران کے اندر لوگ انٹرنیٹ کی جبری بندش اور ملکی تاریخ کی شدید ترین اسرائیلی اور امریکی بمباریوں میں سے ایک کا سامنا کر رہے تھے۔ ایرانیوں نے ٹرمپ کا یہ الٹی میٹم سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کے ذریعے سنا۔ اسی روز میں اپنی والدہ سے فون پر بات کرنے میں کامیاب ہوئی۔ لاکھوں دوسرے ایرانیوں کی طرح، جو اس بیان کو ایران پر ممکنہ جوہری حملے کی دھمکی سمجھ رہے تھے، میں نے اپنے خاندان کو تسلی دینے کی کوشش کی۔
نو کروڑ آبادی والا ایک ملک، جو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کا وارث اور انسانی تہذیب کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سمجھے جانے والے ملک امریکہ کے صدر کی جانب سے مکمل تباہی کی دھمکی کا سامنا کر رہا تھا۔
سات اپریل کو والدہ کے ساتھ ہونے والی وہ گفتگو میری زندگی کی مشکل ترین گفتگوؤں میں سے ایک تھی۔ وہ مجھے ایک آخری الوداع کی طرح محسوس ہوئی۔ گفتگو کے اختتام پر انہوں نے بار بار مایوس لہجے میں کہا: ’خدا حافظ۔ خدا حافظ۔ اگر تم ہمیں دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکو تو ہمیں یاد رکھنا۔ خدا حافظ۔‘
میری والدہ کے یہ الفاظ کروڑوں ایرانیوں کے خوف کی عکاسی کرتے تھے، جن کی آوازیں عملاً خاموش ہو چکی تھیں جبکہ جنگ کے حامی چند افراد پورے بیانیے پر حاوی تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے خاندان اور ایران نامی اپنے بڑے خاندان کے لیے میرے خوف کی کوئی حد نہیں تھی۔
ایران ایک ایسا ملک ہے جس کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے، جس کی ثقافت، روایات اور ادبی ورثہ دنیا بھر میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جس کے ادیبوں، دانشوروں، سائنس دانوں اور فنکاروں نے صدیوں تک دنیا کو متاثر کیا۔ ایک ایسی تہذیب جس کا تاریخی اور ثقافتی اثر موجودہ سرحدوں سے بہت دور تک پھیلا ہوا تھا، مغرب میں شام، عراق اور مصر سے لے کر مشرق میں افغانستان، وسطی ایشیا، برصغیر اور چین تک۔
اس دن میں مسلسل 2024 کے امریکی صدارتی انتخاب کے بارے میں سوچتی رہی۔ میں ایک امریکی شہری اور ڈیموکریٹ کے طور پر خود کو یاد کر رہی تھی جس نے فخر کے ساتھ ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔ میں خود کو ایک ایسی نئی، آزاد خیال سیاسی تحریک کا حصہ سمجھتی تھی جو سخت گیر بائیں بازو کی سیاست سے تھک چکی تھی اور جسے دونوں بڑی جماعتوں میں اصول، اخلاقیات اور شائستگی کی واپسی نظر نہیں آ رہی تھی۔
مجھے ٹرمپ میں اخلاقی اقدار، خاندانی سیاست، خاندان کی اہمیت پر یقین اور مشرق وسطیٰ میں نہ ختم ہونے والی جنگوں کے خاتمے کا عزم نظر آیا تھا۔ یہی وہ اصول تھے جن پر انہوں نے انتخابی مہم چلائی: ’امریکہ فرسٹ‘، جنگ کی مخالفت اور خاندانی اقدار کا احترام۔
ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ مزید جنگیں نہیں ہوں گی اور ٹیکس دہندگان کا پیسہ امریکہ کی تعمیر نو پر خرچ کیا جائے گا۔
میرے شہر نیویارک کے سب وے نظام پر، جہاں گرمیوں میں موٹی بلیوں جتنے بڑے چوہے پٹریوں پر دوڑتے ہیں، یا جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ کی بہتری پر، جہاں شدید بارشوں کے دوران راہداریوں میں بارش کا رسنے والا پانی جمع کرنے کے لیے پلاسٹک کی بالٹیاں رکھی جاتی ہیں یا سستی صحت کی سہولتوں، قابلِ رسائی رہائش اور دنیا کے طاقتور ترین ملک میں رہنے والے ہر امریکی کے لیے محفوظ اور پُرسکون زندگی پر۔
میں نے یقین کیا تھا کہ ٹرمپ کا انتخاب سفارت کاری اور جنگ سے گریز کا راستہ اختیار کرنا ہے۔ لیکن ان کے انتخاب کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد، میرے آبائی ملک ایران پر ممکنہ جوہری حملے کا تصور اچانک خوفناک حد تک حقیقی محسوس ہونے لگا۔
اس دن بیرونِ ملک مقیم بہت سے ایرانیوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ وہ ایران اور اپنے عزیزوں کے بارے میں فکرمند تھے اور ایک فارسی زبان کے میڈیا ادارے کی مدیر کے طور پر میری رائے جاننا چاہتے تھے۔ شاید انہیں امید تھی کہ میرے پاس کوئی ایسی معلومات یا تجزیہ ہوگا جو ان کے خدشات کم کر سکے۔
دنیا بھر میں، امریکہ کے اندر بھی، بہت سے لوگوں نے ٹرمپ کے ان بیانات پر احتجاج کیا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ وہ ایران کے توانائی کے ڈھانچے اور پلوں کو تباہ کر دیں گے اور ملک کو پتھر کے دور میں واپس بھیج دیں گے۔
دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کی جانب سے ایک پورے ملک اور اس کے نو کروڑ باشندوں کو براہِ راست دھمکی دینا کوئی مذاق نہیں تھا اور نہ ہی اسے نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔
ٹرمپ کی مقرر کردہ رات آٹھ بجے کی ڈیڈ لائن سے دو گھنٹے پہلے، سات اپریل کی شام انہوں نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے موصول ہونے والی دس نکاتی تجویز کے بعد کیا گیا تھا۔
شاید کئی سال لگ جائیں جب تک اس جنگ سے متعلق خفیہ دستاویزات اور وہ تفصیلات منظرِ عام پر آئیں جو ابھی تک پوشیدہ ہیں۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ ٹرمپ، جو ایرانی عوام کی حمایت اور فیصلہ کن سفارت کاری کی بات کر رہے تھے، اچانک ایران پر بمباری کے فیصلے تک پہنچ گئے؟
ہم نے مختلف مشیروں کے اثر و رسوخ سے متعلق رپورٹس سنی ہیں اور یہ دعوے بھی کہ اسرائیلی حکومت اور وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے انہیں جنگ اور حکومت کی تبدیلی کی طرف مائل کیا۔ تاہم فی الحال یہ محض الزامات ہیں اور ان کے حق میں عوامی سطح پر کوئی ثبوت موجود نہیں۔
آج، 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ اور 38 روزہ مشترکہ امریکی اسرائیلی بمباری کے 90 دن بعد، جو فی الحال جنگ بندی پر ختم ہوئی ہے، مجھے ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور انٹرویوز میں ایسے اشارے نظر آتے ہیں جو جنگ کے بجائے امن کی طرف جھکاؤ ظاہر کرتے ہیں۔
ٹرمپ، جو بظاہر زندگی سے محبت کرنے والے شخص ہیں، مجھے فطری طور پر ایسے انسان نہیں لگتے جو جنگ، تباہی اور موت کے خواہش مند ہوں۔ لاکھوں امریکیوں کی طرح میرا بھی خیال تھا کہ وہ میڈیا کی کردار کشی مہم کا نشانہ بنے ہیں اور امریکہ میں ایک تیسرے سیاسی راستے کی نمائندگی کرتے ہیں، جو امن اور وسیع خوشحالی پر مبنی ہے۔
کیا ٹرمپ کو غلط مشوروں کے ذریعے ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلا گیا؟
ایرانی شہروں میں سینکڑوں بے گناہ شہری، جن میں میناب شہر کے سکول کے بچے بھی شامل تھے، حملوں میں مارے گئے۔ کیا امریکی صدر کو کبھی مکمل طور پر اس نفسیاتی صدمے سے آگاہ کیا گیا جو ایرانی عوام نے برداشت کیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ جنوری 2026 میں اپنی ہی حکومت کی جانب سے ہونے والی اجتماعی ہلاکتوں کے صدمے سے ابھی تک نہیں نکلے تھے؟
ایران میں میرے ایک سابق ساتھی نے سات اپریل کی دھمکی کے ایک ہفتے بعد مجھے ایک ویڈیو بھیجی۔ اس کے ہونٹوں پر شدید ذہنی دباؤ کے باعث زخم بن گئے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ سب ایران پر ممکنہ امریکی جوہری حملے کی خبروں کے خوف کی وجہ سے ہوا۔
کروڑوں ایرانیوں کے لیے اس خوفناک دن کے بعد میری والدہ نے مجھے بتایا کہ وہ تہران میں اپنے گھر کے تاریک ڈرائنگ روم میں آکسیجن مشین کے ساتھ رات دو بجے سے جاگتی رہیں، گھڑی کو دیکھتی رہیں اور اپنی زندگی کے بارے میں سوچتی رہیں۔
انہوں نے کہا: ’میں مسلسل تمہارے بارے میں سوچتی رہی اور یہ کہ شاید ہم تمہیں دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں۔ میں تمہارے بھائی کے بارے میں سوچتی رہی جو دوسرے کمرے میں سو رہا تھا، ایک ایسا بیٹا جسے کبھی زندگی جینے کا حقیقی موقع نہیں ملا، اور جو یہ سوچ رہا تھا کہ شاید ایک امریکی جوہری حملے میں مر جانا ہی اس کا مقدر ہو۔ ہر پندرہ منٹ بعد میں گھڑی دیکھتی اور ایک بڑے دھماکے کا انتظار کرتی۔ آخرکار میں صوفے پر سو گئی۔ صبح چھ بجے تمہارے بھائی نے مجھے جگایا اور کہا: ’اٹھو، ہم زندہ ہیں۔‘
جب میری والدہ نے مجھے یہ بات سنائی تو میں اپنے آنسو نہ روک سکی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایرانیوں کو آخر اتنے خوف اور اذیت کے ساتھ کیوں جینا پڑتا ہے؟
ایرانی عوام 47 برس سے ایک مجرمانہ نظام کے متاثرین رہے ہیں اور افسوسناک طور پر اب وہ امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ ایک ایسی جنگ کے بھی متاثرین بن گئے ہیں جو انہوں نے کبھی نہیں چاہی تھی۔
ایران اور امریکہ اب بھی ایک نازک جنگ بندی پر عمل پیرا ہیں اور ایسے معاہدے کی تلاش جاری ہے جو تنازع ختم کر سکے، جبکہ آبنائے ہرمز میں فوجی واقعات کی اطلاعات تقریباً ہر رات سامنے آتی رہتی ہیں۔ ایرانی عوام بدستور شدید بے چینی کا شکار ہیں اور امن، استحکام اور بہتری کے امکانات غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں۔
اگر ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ امریکہ کے اندر بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ اور ان کی مقبولیت کو پہنچنے والا نقصان اس طویل تنازعے کا نتیجہ ہے، تو وہ کسی گروہ، فرد یا بیرونی ملک کے دباؤ میں آ کر اس جنگ کو جاری نہیں رکھیں گے۔
اسرائیل یا ٹرمپ کے اپنے سیاسی حلقے کے سخت گیر اتحادی شاید ایران کے ساتھ معاہدے کو مشکل بنا سکتے ہیں، لیکن وہ کسی ایسے معاہدے کو نہیں روک سکتے جسے ٹرمپ امریکی مفاد میں سمجھتے ہوں۔
آخر یہی وہ چیز تھی جس نے مجھ جیسے بہت سے ڈیموکریٹس کو، جو ایک ’تیسرے راستے‘ کی تلاش میں تھے، ٹرمپ کو ووٹ دینے پر آمادہ کیا تھا:
’امریکہ فرسٹ‘ اور نئی جنگیں شروع کرنے کے بجائے انہیں ختم کرنے کا وعدہ۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
