چین کے صدر شی جن پنگ اگلے ہفتے شمالی کوریا جائیں گے۔ دونوں ملکوں نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ یہ تقریباً سات سال میں ان کا پہلا دورہ ہو گا۔
چینی صدر کا یہ دورہ چین کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیار رکھنے والے پڑوسی ملک کے ساتھ قریبی تعلقات مضبوط کرنے کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہو گا۔
شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن نے حالیہ برسوں میں روس سے روابط بڑھائے ہیں، خاص طور پر یوکرین کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے فوجی اور روایتی ہتھیار بھیج کر۔
کم جونگ اُن بھی گذشتہ ایک سال سے چین کے ساتھ دوبارہ قربت بڑھا رہے ہیں، جو شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور امداد دینے والا ملک ہے۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے تجزیہ کار ولیم یانگ کا کہنا ہے کہ ’جب شمالی کوریا روس کے ساتھ قریبی تعلقات بنا رہا ہے تو چین، شی کے دورے کو پیانگ یانگ پر اپنا اثر و رسوخ دوبارہ مضبوط کرنے اور شمال مشرقی ایشیا میں اپنے سٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔‘
دونوں ملکوں کے سرکاری میڈیا نے مختصر خبروں میں بتایا کہ صدر شی پیر سے منگل تک سرکاری دورہ کریں گے۔ انہوں کا آخری دورہ جون 2019 میں کیا تھا۔
یہ دورہ اس کے چند ہی ہفتوں بعد ہو گا جب شی نے بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی ایک کے بعد ایک میزبانی کی تھی۔
شمالی کوریا کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام طویل عرصے سے امریکا کے لیے بڑی تشویش کا باعث رہا ہے، جو اس کی مخالفت کرتا ہے۔ اقوام متحدہ نے شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام کی وجہ سے اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
اس دورے کا اعلان اس کے ایک دن بعد سامنے آیا جب شمالی کوریا نے جوہری بموں کے اجزا تیار کرنے کی ایک نئی تنصیب دکھائی۔ جنوبی کوریا کی فوج نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ نئی جوہری تنصیب یورینیم افزودہ کرنے کا پلانٹ ہے۔
پلانٹ کے دورے کے دوران کم نے ملک کی جوہری قوتوں کو ’غیر معمولی تیزی‘ سے مضبوط کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پلانٹ کو ظاہر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کم، شی کے دورے سے پہلے اپنے ملک کی حیثیت ایک جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست کے طور پر مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
روئٹرز کے مطابق چینی صدر کے دورہ شمالی کوریا کا اعلان ان الگ الگ سربراہی ملاقاتوں کے بعد سامنے آیا ہے جن کی میزبانی شی نے گذشتہ ماہ بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے لیے کی تھی
ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے اپنی پہلی مدت میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے تین بار ملاقات کی تھی، پہلے کہہ چکے ہیں کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما سے دوبارہ ملاقات کے لیے تیار ہوں گے
کم گذشتہ ستمبر بیجنگ میں ایک بڑی فوجی پریڈ کے مہمان تھے اور اپنی مخصوص سبز بکتر بند ٹرین پر چین کے دارالحکومت پہنچے تھے۔
بیجنگ نے پیانگ یانگ کو، جو اس کا واحد باضابطہ معاہدہ اتحادی ہے، دوبارہ اپنے دائرے میں لانے کی کوشش کی ہے۔ کووڈ 19 وبا نے دونوں ملکوں کے تبادلے روک دیے تھے اور شمالی کوریا کے رہنما نے روس کے ساتھ تعلقات گہرے کر لیے تھے، فوجی اور ہتھیار بھیج کر روس کے یوکرین پر حملے کی حمایت کی تھی۔
