سندھ میں آندھی اور طوفان سے اموات، ایسے طوفان کیوں آتے ہیں؟

سندھ کے مختلف اضلاع میں یکم اور دو جون کو آنے والی آندھی اور تیز ہواؤں کے طوفان کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد جان سے گئے جبکہ 96 افراد زخمی ہوئے۔

چار جون کو صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں اور طوفان کے دوران سب سے زیادہ جانی نقصان شہید بے نظیر آباد میں ہوا، کشمور اور گھوٹکیم تھرپارکر اور قمبر میں بھی آندھی طوفان سے جانی نقصان رپورٹ ہوئے۔

تیز ہواؤں کے ساتھ طوفان کیوں آتے ہیں؟

محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر انجم نذیر ضیغم کے مطابق شدید گرم اور نسبتاً ٹھنڈی ہواؤں کے ملاپ سے ایسے طوفان جنم لیتے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا: ’اگر سندھ اور پنجاب کے بارانی علاقوں کے موسمی حالات کا جائزہ لیا جائے تو مئی اور جون کے مہینوں میں شدید گرمی پڑتی ہے۔

’گذشتہ ماہ مئی کے آخر میں ایک شدید ہیٹ ویو نے سندھ کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں بالائی اور مغربی اضلاع میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ گیا اور بعض مقامات پر اس سے بھی تجاوز کر گیا۔‘

ان کے مطابق شدید گرمی کے باعث نچلی فضائی تہوں میں بڑی مقدار میں حرارتی توانائی جمع ہو گئی تھی۔

انجم نذیر ضیغم نے بتایا: ’یکم جون کی شام سے مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ ملک میں داخل ہوا۔ یہ نسبتاً ٹھنڈی ہوائیں شمال مغربی سمت سے آتی ہیں۔ جب یہ ٹھنڈی ہوائیں پہلے سے موجود انتہائی گرم اور کم دباؤ والے علاقوں سے ٹکراتی ہیں تو درجہ حرارت کے شدید فرق کے باعث فضا میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں آندھیاں اور گرد آلود طوفان بنتے ہیں۔’

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انجم نذیر ضیغم  کے مطابق سندھ کے میدانی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث پہلے ہی کم دباؤ موجود تھا، جس کی وجہ سے تیز رفتار ہوائیں ان علاقوں کی جانب کھنچی چلی آئیں اور بعض مقامات پر شدید طوفانی صورت حال پیدا ہوئی۔

کیا مستقبل قریب میں ایسے مزید طوفان آ سکتے ہیں؟

محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ میں ایک مرتبہ پھر گرمی کی شدت بڑھنے کا امکان ہے۔

انجم نذیر ضیغم  نے بتایا :’پیر سے سندھ کے مغربی علاقوں میں ہیٹ ویو کی صورت حال پیدا ہو رہی ہے اور بعض مقامات پر درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر سکتا ہے۔ اگر جون کے آخر میں دوبارہ مغربی ہواؤں کا کوئی سلسلہ ملک میں داخل ہوا تو شدید آندھی یا طوفان کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔’

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہیٹ ویوز کی شدت اور دورانیہ بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں شدید گرم اور ٹھنڈی ہواؤں کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والے موسمی واقعات بھی زیادہ شدت اختیار کر سکتے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *