پاکستان نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ ایک ثالث کے طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان امن عمل میں پیش آنے والی عارضی رکاوٹوں اور فریقین کے درمیان حملوں کے تبادلوں کے باوجود ’حوصلہ نہیں ہارے گا‘ اور امید ہے کہ ’معاہدہ جلد طے پائے گا۔‘
جمعرات کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا: ’ایک سہولت کار اور ثالث کے طور پر پاکستان ایسی رکاوٹوں یا غیر حل طلب مسائل سے ہرگز حوصلہ نہیں ہارے گا، جو جنگ بندی کو متاثر کر رہے ہیں۔ صورت حال اب بھی نازک ہے، خصوصاً حالیہ حملوں کے تبادلے کے بعد، لیکن ہم بدستور اس عمل میں شریک ہیں۔‘
طاہر اندرابی نے کہا کہ ثالثوں اور سہولت کاروں کو مذاکراتی عمل کے حوالے سے مثبت طرز عمل اپنانا چاہیے۔ ’متعلقہ فریقوں کے ساتھ ہمارے رابطے کے ذرائع کھلے ہیں اور ہم اس صورت حال کو اسی امید اور مثبت سوچ کے ساتھ دیکھ رہے ہیں جو کسی بھی ثالث یا سہولت کار کے لیے ضروری ہوتی ہے۔‘
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کی پالیسی اس معاملے پر واضح ہے۔ ’گذشتہ ماہ جب مذاکراتی عمل میں پیش رفت اور مثبت ماحول پیدا ہوا تھا تو پاکستان نے اس عمل کی حمایت اور معاونت کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی تھی۔‘
انہوں نے کہا کہ اگر مذاکراتی عمل میں دوبارہ پیش رفت پیدا ہوتی ہے تو پاکستان اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہے گا۔ ’ہم ایسی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے جو مذاکرات کو کامیاب انجام تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوں اور ہم چاہتے ہیں کہ معاہدہ جلد از جلد طے پا جائے۔‘
خلیجی ممالک پر حملے
بریفنگ کے دوران ترجمان طاہر اندرابی سے سوال کیا گیا کہ ایران پر حالیہ حملوں اور اس کے جواب میں کویت پر حملوں کے بعد پاکستان کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ فریقین ایک دوسرے پر الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔ اس صورت حال پر پاکستان کا کیا مؤقف ہے؟
جس پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ ’تمام فریق جنگ بندی کی پاسداری کریں گے اور جنگ بندی برقرار رہے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے واقعات کسی پائیدار معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ بقول طاہر اندرابی: ’جب بھی کشیدگی یا مسلح جھڑپیں ہوتی ہیں تو مکالمے اور سفارت کاری کے لیے دستیاب گنجائش کم ہو جاتی ہے۔‘
ترجمان نے کہا کہ پاکستان بطور سہولت کار اور ثالث ان رکاوٹوں یا جنگ بندی کو متاثر کرنے والے مسائل سے مایوس نہیں ہوگا۔ ’حالیہ حملوں کے تبادلے کے بعد صورت حال یقینا نازک ہے، تاہم ہم مسلسل رابطے میں ہیں اور متعلقہ فریقین کے ساتھ ہمارے مواصلاتی ذرائع کھلے ہوئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ ابھرنے والے چیلنجز کو وسیع تر مذاکراتی عمل کو متاثر نہیں کرنے دینا چاہیے۔
کویت سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان ’کویت اور بحرین کو نشانہ بنانے والے ڈرون اور میزائل حملوں کی مذمت کرتا ہے۔‘
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان اس سے قبل متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کر چکا ہے، جن میں شہری اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ سعودی عرب پر حملوں کی بھی مذمت کی گئی تھی۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کی ’خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت‘ کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔
ان کے مطابق موجودہ کشیدہ صورت حال میں تمام فریقین کو ’زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، مزید کشیدگی سے گریز کرنا چاہیے، شہریوں اور شہری تنصیبات کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات سے باز رہنا چاہیے اور مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں امن اور سلامتی کے فروغ کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا اور خلیجی خطے اور وسیع تر خطے میں استحکام کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
ایک ضمنی سوال میں ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان ایران پر ہونے والے حملے کی بھی مذمت کرتا ہے؟ اس پر طاہر اندرابی نے کہا کہ ’ہم تمام فریقین کی جانب سے ہونے والے حملوں اور دشمنانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی ایسا اقدام جو کشیدگی میں اضافہ کرے اور مکالمے اور سفارت کاری کے لیے موجود گنجائش کو محدود کرے، باعث تشویش ہے۔ اسی طرح کوئی بھی حملہ یا کارروائی جو پر امن روابط اور مذاکراتی کوششوں کو نقصان پہنچائے، افسوس ناک ہے اور اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔‘
’اسلام آباد افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور سفارت کاری کا حامی‘
پاکستانی اور افغان حکام کے درمیان استنبول میں ممکنہ ملاقات کی خبروں سے متعلق انڈپینڈنٹ اردو کے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ’مجھے اس وقت ایسی کسی پیش رفت کا علم نہیں۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان سمیت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ ’مذاکرات اور سفارت کاری‘ پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک مشترکہ تاریخ، ثقافت اور گہرے لسانی و سماجی روابط رکھتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کے لیے افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔‘
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان حالیہ عرصے تک اسی پالیسی پر عمل پیرا رہا، تاہم افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں، جن میں ’افغان انتظامیہ کے بعض عناصر کے ممکنہ تعاون کا بھی شبہ ہے، نے پاکستان کے تحمل کی حد عبور کی، جس کے بعد اسلام آباد نے زیادہ سخت مؤقف اختیار کیا اور بعض اقدامات بھی کیے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ ’ہم مذاکرات چاہتے ہیں اور سفارت کاری کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں۔‘
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان افغان سرزمین پر موجود ایسے عناصر کی جانب سے پاکستانی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی اموات کو قبول نہیں کر سکتا، جو مبینہ طور پر افغانستان میں موجود ہیں یا وہاں کے بعض عناصر کی معاونت سے سرگرم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان حکام سے ’واضح اور قابلِ تصدیق یقین دہانیاں مانگتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔‘
ترجمان کے مطابق یہی مؤقف چین سمیت دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے سامنے بھی رکھا گیا ہے، جن میں حالیہ پاکستان۔یورپی یونین مذاکرات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چین کے نائب وزیر خارجہ سن ویڈونگ نے حال ہی میں اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں علاقائی سلامتی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
ان کے مطابق بات چیت میں نہ صرف تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) بلکہ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کے خطرے پر بھی گفتگو ہوئی، جسے پاکستان اور چین دونوں کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان اور چین نے انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ علاقائی امن و سلامتی کا تحفظ کیا جا سکے۔
